Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / نوٹ بندی سے عام شہری پریشان حال

نوٹ بندی سے عام شہری پریشان حال

بینکس میں نقدی کی قلت کا بہانہ،کروڑہا روپئے کی کرنسی کی ضبطی پر بینک کاری پر سوالیہ نشان
مزید دھاوؤں کیلئے انکم ٹیکس کی نگاہیں، غیر محسوب اثاثے پوشیدہ رکھنے بینکوں سے ساز باز
حیدرآباد۔11نومبر (سیاست نیوز) ملک بھر میں کرنسی تنسیخ کا ایک ماہ گذر جانے کے بعد بھی عوام مشکلات سے باہر نہیں نکل پائے ہیں لیکن اس ایک مہینہ کے دوران ہوئے دھاؤوں میں کروڑہا روپئے کی نئی کرنسی ضبط کی جا چکی ہے۔ ملک بھر میں کئے گئے دھاؤوں کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عام شہری اپنے منسوخ کرنسی نوٹ جمع کروانے کے بعد انہیں بینک سے نکالنے کیلئے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ بینک میں نقدی نہیں ہے لیکن اب تک ملک کے مختلف مقامات پر کئے گئے دھاؤوں میں 150کروڑ روپئے کی نئی کرنسی ضبط کی گئی ہے جو کہ ملک کے بینک کاری نظام پر سوالیہ نشان لگانے کیلئے کافی ہے۔ تفصیلات کے بموجب اب تک جو نئے کرنسی نوٹ ضبط کئے گئے ہیں وہ 44تا48مقامات سے ضبط کئے گئے ہیں جن میں قریب 150کروڑ روپئے کے نئے کرنسی نوٹ جو 2000کے ہیں ان کی بھی ضبطی عمل میں لائی گئی ہے۔ہندستان کے مختلف شہروں و ریاستوں میں جاری تلاشی مہم اور حوالہ کاروبار کے علاوہ غیر محسوب اثاثہ رکھنے والوں کے متعلق اطلاعات کے وصول ہونے اور کرنسی کی تبدیلی کی اطلاعات کی بنیاد پر کئے جانے والے ان دھاؤوں میں جو کرنسی پکڑی گئی ہے اس میں نئے کرنسی نوٹوں کا پکڑا جانا بینک کاری نظام کیلئے باعث شرم قرار دیا جانے لگا ہے کیونکہ بغیر بینک سے ساز باز کے اس طرح کروڑہا روپئے جمع کیا جانا ممکن نہیں ہے۔8نومبر کو 1000اور500کی نوٹوں کی تنسیخ نے جو حالات پیدا کئے تھے ان سے بچنے کیلئے کئی لوگوں نے جو راہیں نکال لی تھی اب وہ بھی خوفزدہ ہیں کیونکہ روزانہ کرنسی بالخصوص نئی کرنسی جمع کرنے کے ذرائع بتانا ان کیلئے انتہائی مشکل ترین عمل بن چکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہندستان میں سب سے زیادہ دھاوے کرناٹک میں کئے گئے جہاں  11مقدمات درج کئے گئے ہیںجن میں ہبلی میں حوالہ تاجر کے مکان پر دھاوا کرتے ہوئے باتھ روم سے برآمد کردہ رقم بھی شامل ہے۔  اس کے بعد 6مقدمات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ریاست گجرات ہے ۔ تیسرے نمبر پر ریاست تلنگانہ ہے جہاں گذشتہ ایک ماہ کے دوران 5مقامات سے نئی کرنسی بھاری مقدار میں ضبط کی گئی ہے ۔ ٹامل ناڈو میں نئی کرنسی ضبط کئے جانے کے 5واقعات پیش آئے ہیں جن میں تروملا تروپتی دیوستھانم کے رکن کے مکان پر کیاگیا دھاوا شامل ہے۔ اتر پردیش میں نئی کرنسی کی ضبطی کے 3سوقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں جن میں مقدمات درج کئے گئے ہیں لیکن بعض دیگر واقعات کی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ راجستھان ‘ مغربی بنگال‘ آسام کے علاوہ دہلی میں نئی کرنسی کی ضبطی کے 2واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں لیکن دہلی میں 37مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں اور اس سلسلہ میں کئی افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس کی نگاہیں ان ٹھکانو ںپر مرکوز ہیں جن ٹھکانو ںکو نئی کرنسی چھپانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ملک کے عام شہریو ںکو 2000کی ایک نوٹ ملنا دشوار ہوتا جا رہا ہے اور اب تک کے دھاؤوں میں 150کروڑ تک کی غیر محسوب رقومات جو نئی کرنسی کی شکل میں ضبط کی گئی ہے وہ ملک کے نظام معیشت پر سوالیہ نشان ہے۔

TOPPOPULARRECENT