Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / نوٹ بندی سے معیشت کو 3 اعشاریہ 4 لاکھ کروڑ کا نقصان

نوٹ بندی سے معیشت کو 3 اعشاریہ 4 لاکھ کروڑ کا نقصان

حیدرآباد ۔ 23 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : نریندر مودی حکومت کی طرف سے ایک ہزار اور 500 روپئے کے نوٹ منسوخ کرنے کے اقدام سے عوام مصیبت کے 15 دن گذار چکے ہیں اور راحت کے آثار نہیں ہیں اور حکومت کے اس اقدام کے مثبت نتائج بھی ظاہر نہیں ہوئے ہیں ۔ یہ واضح امکانات ہیں کہ ملک کی معیشت کو نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ قدامت پسندوں کا اندازہ ہے کہ کرنسی کی منسوخی کے اقدام سے مجموعی شرح پیداوار یا معیشت کو دھکا لگے گا ۔ صرف سال 2016-17 میں معیشت کو 3 اعشاریہ 4 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوسکتا ہے اور مجموعی شرح پیداوار میں کم از کم 3 فیصد کی کمی ہوگی ۔ ماہرین نوٹوں کی منسوخی کو مودی حکومت کا ناعاقبت اندیشانہ اقدام قرار دیا ہے ۔ اس سال سازگار مانسون کی وجہ سے اچھی توقعات وابستہ کی گئی تھیں ۔ سال 2015-16 میں ملک کی مجموعی شرح پیداوار 113 اعشاریہ پانچ صفر لاکھ کروڑ تک پہونچی تھی اور شرح ترقی سات اعشاریہ 6 فیصد رہا ۔ اس سے پہلے کے سال مجموعی پیداوار 105 اعشاریہ پانچ دو لاکھ کروڑ تھی اب نوٹ بندی کے مجموعی شرح پیداوار میں 3 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ معیشت کو سال 2016-17 کے دوران 3 اعشاریہ 4 لاکھ کروڑ کے نقصان کی صورت میں ظاہر ہوگی ۔ ایسی صورت میں ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کی فہرست سے نکل جائے گا ۔۔
اے پی میں ایک لاکھ ملازمتوں کے مواقع
وزیر آبپاشی ڈی اوما مہیشور راؤ
حیدرآباد 23نومبر(یواین آئی ) آندھراپردیش کے وزیر آبپاشی ڈی اوما مہیشور راؤ نے وضاحت کی ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود حکومت آندھراپردیش پیداوار کے حصول کی کوشش کررہی ہے ۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ایک لاکھ ملازمتوں کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ خسارہ بجٹ اور مالی مشکلات کے باوجود حکومت کام کررہی ہے ۔ حکومت پہلے ہی کئی لاکھ کروڑ روپئے کی مقروض ہے اور ریاست میں کوئی دارالحکومت نہیں ہے ۔ آندھراپردیش کو آسان تجارت کی بہتر ریاست قرار دیا گیا ہے ۔ پانی ‘ بجلی اور صنعتوں کے محکمہ جات موثر طور پر کام کررہے ہیں۔ صنعت کار ملازمتوں کا وعدہ کرتے ہوئے اپنے یونٹس لگانے میں دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT