Monday , November 20 2017
Home / سیاسیات / نوٹ بندی سے ’ کیش لیس ‘ اقتصادی نظام یقینی ہوجائیگا

نوٹ بندی سے ’ کیش لیس ‘ اقتصادی نظام یقینی ہوجائیگا

مرادآباد میں ’ کیش لیس چوپال ‘ کا انعقاد۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا خطاب

مرادآباد ،(اتر پردیش)، 19دسمبر(سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور و پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے بڑے نوٹوں کی منسوخی کے بعد اب “کیش لیش اقتصادی نظام”، نیٹ اینڈ موبائل بینکنگ کی مہم ایک صاف ستھرا، ایماندار اور شفاف نظام قائم کرنے کا مشن ہے ۔وزارت اقلیتی امور کی طرف سے دلپت پور میں اقلیتوں کیلئے کیش لیش چوپال کا اہتمام کیا گیا ۔ شرکا کو مسٹر نقوی نے ڈیجیٹل معاملت ، موبائل نیٹ بینکنگ کے فوائد سے واقف کرایا۔مسٹر نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم کی شروع کی گئی ڈیجیٹل معاملت مہم بدعنوانی اور بلیک منی کے خلاف کامیاب ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی ایسی سب سے بڑی جمہوریت ہے جس میں الیکٹرانک ووٹنگ 100 فیصد کامیاب رہی ہے ۔ اسی طرح ہندوستان میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشن، نیٹ اور موبائل بینکنگ کا نظام کامیاب ثابت ہوگا۔مسٹر نقوی نے کہا کہ جس وقت ملک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعہ ووٹ ڈالنے کی شروعات ہوئی تھی، اس وقت بھی کچھ لوگوں نے اس کے خلاف پروپیگنڈہ کیا تھا، اس پر سوال کئے تھے . لیکن یہ نظام کامیاب ہوا۔ اسی طرح ڈیجیٹل ادائیگی، آن لائن اور موبائل بینکنگ سسٹم بھی ملک میں کامیاب ہوگا۔نقوی نے کہا کہ ڈیجیٹل معاملت کو فروغ دینے کا مطلب اقتصادی نظام سے نقد لین دین کو پوری طرح ہٹا دینا نہیں ہے ، بلکہ ایک ایسا اقتصادی نظام قائم کرنا ہے جو کم نقد رقم اور زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل معاملت پر مبنی ہو۔ نقوی نے نہ نقد نہ ادھار، ڈیجیٹل لین دین اور کاروبارکا نعرہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلیک منی اور بدعنوانی کے مسائل کی وجہ سے حکومت زیادہ انکم ٹیکس وصول نہیں کر پاتی ہے ۔ لوگوں کی آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات جب آن لائن ہو جائے گی تو حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنے میں کامیابی ملے گی۔ نقوی نے کہا کہ مسلمانوں سمیت تمام طبقوں کو اس مہم کے ساتھ وابستہ ہو کر ملک کو “بدعنوانی کے کینسر” سے نجات دلانے میں تعاون کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اقلیتی امور ڈیجیٹل ادائیگی کو فروغ دے رہی ہے ۔ اقلیتی وزارت نے 3 کروڑ طلبہ کی 6715 کروڑ روپئے کی اسکالرشپ براہ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں بھیجی ہے ۔مسٹر نقوی نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں “لیس کیش” ڈیجیٹل معیشت بن گئے ہیں۔ نقوی نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی اپنانے سے چھوٹے چھوٹے دوکاندار، کاروباری بھی بڑی کمپنیوں سے مقابلہ کر پائیں گی۔ ڈیجیٹل اقتصادی نظام بینکوں پر دباؤ بھی کم کریگا ۔ کیش لیش یعنی جب نوٹ کا چلن ختم ہو جائے گا یا اس کا استعمال کم از کم سطح پر پہنچ جائے گا، تو لوٹ مار، چوری اور بینک ڈکیتی جیسے جرائم میں بھی کمی آئے گی۔

TOPPOPULARRECENT