Saturday , November 18 2017
Home / اداریہ / نوٹ بندی ‘صدر جمہوریہ کا رد عمل

نوٹ بندی ‘صدر جمہوریہ کا رد عمل

کیوں آپ پریشان ہیں حق بات کو سن کر
جو کام کیا اس پہ پشیمان نہیں ہیں
نوٹ بندی ‘صدر جمہوریہ کا رد عمل
جس وقت سے ملک میں بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کیا گیا ہے اس وقت سے نہ صرف اپوزیشن جماعتیں بلکہ مختلف گوشوں کی جانب سے اس فیصلے پر تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ عوام کی مشکلات کو جہاں اپوزیشن نے واضح کیا ہے وہیں عوام کی جانب سے بھی اس پر برہمی اور ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے ۔ حکومت اور خود وزیر اعظم اس مخالفت کو ماننے تیار نہیںہیں۔ ان کا اور حکومت کے ہر نمائندے کا یہ کہنا ہے کہ اس فیصلے کی مخالفت وہی لوگ کر رہے ہیں جو کالے دھن اور کرپشن کے خاتمہ کے خلاف جدوجہد پر بے چین ہیں۔ تاہم اب ملک کے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے بھی اس فیصلے پر ایسی رائے ظاہر کی ہے جس پر وزیر اعظم کو خود جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ صدر جمہوریہ نے یہ واضح کردیا ہے کہ حکومت کے فیصلے کے نتیجہ میں ملک کے عوام کو مشکلات پیش آ رہی ہیں اور ملک کے غریب عوام اس مسئلہ پر طویل انتظار کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ انہوں نے حکومت کو تلقین کی کہ وہ عوام کو فوری طور پر راحت رسانی کیلئے اقدامات کریں۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے یہ بھی واضح کردیا کہ حکومت کے اس فیصلے کے نتیجہ میں ملک کی معیشت عارضی طور پر ہی صحیح سست روی کا شکار ہوجائیگی ۔ صدر جمہوریہ کی رائے اس لئے بہت اہمیت کی حامل ہے کہ وہ ملک کے سربراہ ہیں اور وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کی اساس پر اپنی رائے ظاہر نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ ملک کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی رائے ظاہر کر رہے تھے ۔ ان کی رائے اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ وہ ملک کے وزیر فینانس رہ چکے ہیں۔ وہ ملک کی معیشت اور اس کی ہیئت اور ساکھ کو سمجھتے ہیں اور اس طرح کے فیصلوں کے ملک کی معیشت پر ہونے والے اثرات کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہیں سیاسی اور عوامی زندگی کا وسیع تر تجربہ حاصل ہے ۔ وہ معیشت کے کئی اتار چڑھاو دیکھ چکے ہیں اورا س بات سے بھی واقف ہیں کہ ہندوستانی معاشی نظام کس نہج پر بہتر کام کرسکتا ہے ۔ وہ اب کسی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ مرکز کی بی جے پی حکومت کے کچھ فیصلوں کی تائید و ستائش بھی کرچکے ہیں ۔ ایسے میں ان کی رائے اور بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلے کی وجہ سے ملک میں عام آدمی بری طرح متاثر ہوکر رہ گیا ہے ۔ ہر شعبہ حیات میں سرگرمی متاثر ہوکر رہ گئی ہے ۔ ہر شعبہ بری طرح مفلوج ہونے کے قریب ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اور ماہرین معاشیات یہ رائے ظآہر کررہے ہیں کہ اس فیصلے کے نتیجہ میں ملک کی معیشت سست رفتار ہوجائیگی ۔ جملہ گھریلوپیداوار کی شرح گھٹ کر دو فیصد رہ جائیگی ۔ ان تبصرو ں اور آرا کو وزیر اعظم اور حکومت کے دوسرے نمائندوں نے قبول نہیں کیا ہے بلکہ انہیں یکسر مسترد کرتے رہے ہیں۔ ایسی صورت میںصدر جمہوریہ پرنب مکرجی کی جانب سے عوام کی مشکلات کا اظہار کرنا اور انہیں فوری راحت رسانی کیلئے رائے ظاہر کرنا اہمیت کا حامل ہے اور اس سے حکومت کو اپنے اقدامات اور فیصلوں کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ نریندر مودی آمرانہ اور ہٹ دھرمی والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ ان کے اب تک کے موقف سے یہ بات درست بھی ثابت ہو تی رہی ہے لیکن اب صدر جمہوریہ کی رائے کے بعد انہیں کم از کم اپنے انداز اور کام کاج کے طریقہ کار میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں نوٹ بندی کے اثرات کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ انہیں عوام کی مشکلات کو فوری طور پر ختم کرنے کی سمت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ موقف میں نرمی محض کمزوری کی وجہ سے نہیں ہوتی ۔
وزیر اعظم نے نوٹ بندی کے بعد عوام کی مشکلات کو ختم کرنے کیلئے پچاس دن کی مہلت طلب کی تھی ۔ وہ پچاس دن بھی پورے ہوچکے ہیں۔ مودی نے اس کے بعد عوام کی مشکلات کا اعتراف بھی کیا تھا ۔ تاہم انہوں نے عوام کی ان مشکلات کو دور کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے تھے اور نہ ایسے کوئی اشارے دئے تھے کہ مستقبل قریب میں عوام کی مشکلات میں کوئی کمی آنے والی ہے ۔ اس کے برخلاف انہوںنے لا یعنی باتوں پر انحصار کیا تھا ۔ اب جبکہ صدر جمہوریہ ہند نے بھی عوام کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں راحت پہونچانے پر زور دیا ہے تو یہ وزیر اعظم اور حکومت کے دوسرے تمام نمائندوں کا فریضہ بن جاتا ہے کہ وہ اس جانب فوری توجہ دیں اور عوام کی مشکلات کو ختم کرنے کیلئے عملی اقدامات کا منصوبہ تیار کریں۔ عوام کو بینکوں اور اے ٹی ایمس پر طویل انتظار سے راحت دلائیں اور عوامی ضروریات اور مارکٹ کے تقاضوں کے مطابق کرنسی نوٹوں کی اجرائی کو یقینی بنانے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT