Friday , November 24 2017
Home / مضامین / نوٹ بندی ‘ لمحہ لمحہ نئے احکامات دن بدن بڑھتی عوامی مشکلات

نوٹ بندی ‘ لمحہ لمحہ نئے احکامات دن بدن بڑھتی عوامی مشکلات

خلیل قادری
جس وقت سے وزیر اعظم نریند رمودی نے ملک میں بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کا اعلان کیا ہے اس وقت سے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ ہندوستانی معیشت کس سمت میں گامزن ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ خود حکومت کو اور ریزرو بینک آف انڈیا کو بھی یہ اندازہ نہیں ہو رہا ہے کہ ان کے فیصلے اور اقدامات نے ملک کو کونسی سمت یا جہت عطا کی ہے ۔ معیشت کس سمت میں رواں دواں ہے ۔ سرمایہ کاروں میں الگ سے بے چینی پیدا ہوگئی ہے ۔ اب تو بیرونی ممالک کے سفیروں نے بھی اس مسئلہ پر مشکلات کا احساس کرنا شروع کردیا ہے اور وہ بھی حکومت سے اپنا احتجاج درج کروا رہے ہیں۔ یہ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں کہ جن بیرونی ممالک کے سفیروں کو ہندوستان میں کرنسی بندی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے ان ممالک میں ہندوستانی سفیروں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائیگا اور انہیں دفتر خارجہ کو طلب کرتے ہوئے ہندوستان میں پیش آ رہی مشکلات پر احتجاج درج کروایا جائیگا ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو بیرونی ممالک میں ہندوستان کے بہتر ہوتے ہوئے وقار کو مجروح کرنے کی سبب بن سکتی ہے ۔ ہندوستان نے حالیہ دہوں میں بہترین معاشی ترقی کی تھی ۔ معاشی اصلاحات کے نفاذ کے بعد سے ہندوستانی معیشت کی سمت ساری دنیا توجہ دینے پر مجبور ہوگئی تھی ۔ خود اندرون ملک حالات میں زبردست تبدیلی پیدا ہوئی تھی ۔ عوام کے معیار زندگی میں اچھال آیا تھا ۔ ہندوستان کی اسٹاک مارکٹ نے اپنے کاروبار کو کئی گنا بہتر بنالیا تھا ۔ ہندوستانی کمپنیوں کی اہمیت اور وقعت میں ساری دنیا میں اضافہ ہوگیا تھا ۔ عالمی بازاروں میں انہیں قدر و منزلت کی نظروں سے دیکھا جا رہا تھا ۔ بیرونی کمپنیاں اور ادارے ہندوستان کی سمت آ رہے تھے ۔ کئی ترقی یافتہ ممالک نے ہندوستان کے ساتھ معاشی اشتراک کو اہمیت دینی شروع کی تھی ۔ مشترکہ وینچرس شروع کئے گئے تھے ۔ کئی شعبوں میں زبردست سرمایہ کاری حاصل کی گئی تھی ۔ ہندوستان میں لاکھوں افراد کو روزگار حاصل ہوا تھا ۔ ہندوستان کی صنعتوں کے کاروبار میں زبردست اضافہ درج ہوا تھا ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی حکومت کی جانب سے کئے گئے نوٹ بندی کے فیصلے نے اچانک ہی ساری سرگرمی پر روک لگا دی ہے ۔ ساری سرگرگرمیاں ایسا لگتا ہے کہ بیک وقت ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں۔ جہاں عام آدمی اپنی روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل کرنے سے قاصر ہے اور دو تا چار ہزار روپئے حاصل کرنا اس کیلئے مشکل ہوتا جا رہا ہے وہیں بڑے کاروباری ادارے حالانکہ اپنی پریشانیوں کو ظاہر نہیں کر رہے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلے نے ان کے کاروبار پر بھی منفی اثر ڈالا ہے ۔ ان کا ٹرن اوور متاثر ہونے لگا ہے ۔ ابھی حالانکہ نوٹ بندی کے فیصلے کا ایک مہینہ ہی ہوا ہے لیکن اس کے اثرات ظاہر ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ لوگ صرف ضروریات کی تکمیل پر اکتفا کرنے پر مجبور ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں میں ایک طرح کی پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے جو فی الحال نہ عام آدمی کو سمجھ میں آ رہی ہے اور نہ ہی خود تجارتی و کاروباری حلقہ اس کو سمجھنے کے موقف میں ہیں۔

نوٹ بندی کے بعد ایک ماہ کے عرصہ میں مرکزی حکومت یا ریزرو بینک کی جانب سے وقفہ وقفہ سے قوانین میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یومیہ کی اساس پر قوانین بنائے جا رہے ہیں اور احکامات جاری کئے جا رہے ہیں۔ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ عوام کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں ہونے پا رہی ہے ۔ عوام کو جس طرح پہلے دن اے ٹی ایم مشینوں یا بینکوں میں قطار میں کھڑا ہونا پڑ رہا تھا اسی طرح آج بھی وہ انہیں قطاروں میں اپنی باری کے منتظر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ اے ٹی ایمس اور بینکوں کے باہر قطاریںاور بھی طویل ہوگئی ہیں۔ عوام کے صبر کا پیمانہ دھیرے دھیرے لبریز ہوتا جا رہا ہے ۔ عوامی بے چینی کی کیفیت یہ کسی بھی وقت شدت اختیار کرسکتی ہے لیکن حکومت اس کا اندازہ لگانے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے ۔ حکومت اپنے زر خرید میڈیا کے ذریعہ سب کچھ اچھا ہے کا تاثر دینے ہی میں مصروف نظر آتی ہے ۔ حالانکہ بی جے پی کے اندرونی حلقوں میںیہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلے کی وجہ سے عوام کی مشکلات بہت زیادہ ہوگئی ہیں اور عوام میں اس تعلق سے ناراضگی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے بینکوں میں رقم جمع کروانے اور پھر بینکوں یا اے ٹی ایم مشینوں سے رقومات نکالنے کیلئے جو شرائط ابتداء میں طئے کی گئی تھیں ان میں کئی مرتبہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اب حالانکہ حکومت ایک اکاؤنٹ سے ہر ہفتہ 24 ہزار روپئے تک کی رقم نکالنے کی اجازت دے رہی ہے لیکن شائد ہی کوئی بینک ایسا ہو جو اتنی رقم اپنے صارفین یا گاہکوں کو فراہم کر پا رہا ہو۔ بینکوں کے پاس کرنسی کی قلت ہے ۔ اس کو دور کرنے کیلئے ابھی تک بھی موثر اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ حکومت کرنسی کی قلت کو دور کرنے اور عوام کو پیش آ رہی مشکلات ختم کرنے کی بجائے روز آنہ نت نئے قوانین تیار کرنے ہی میں مصروف نظر آتی ہے ۔ حکومت اپنے عمل سے یہ تاثر دے رہی ہے کہ اسے عوام کی مشکلات اور پریشانیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ عوام کو حالات کی مار کھانے کیلئے چھوڑ چکی ہے ۔ اسے صرف اپنے ایجنڈہ کی تکمیل سے غرض ہے اور کسی بات کی پرواہ نہیں ہے ۔ معاشی ماہرین حالانکہ مسلسل حکومت کو اس کے فیصلوں کے خلاف متنبہ کر رہے ہیں لیکن حکومت اس پر بھی کان دھرنے کو تیار نہیں ہے ۔ یہ حکومت کی ہٹ دھرمی اور آمرانہ روش ہے اور اس روش نے عوام کی مشکلات کو اور بھی بڑھا دیا ہے ۔ جو حالات ہیں وہ یہی تاثر دیتے ہیں کہ آئندہ دنوںمیں عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہی ہوگا کوئی کمی نہیں ہوگی ۔

عوام کی بے چینی ‘ اپوزیشن کی تنقیدیں اور ماہرین معاشیات کی رائے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ ہندوستان کی معیشت اب صرف گجراتی مثلت کے اطراف ہی گھوم رہی ہے ۔ ملک میں اقتدار اور اختیارات ایک مرکز اور محور کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم گجرات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملک کی برسر اقتدار پارٹی بی جے پی کے صدر امیت شاہ گجرات سے تعلق رکھتے ہیں اور ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر اوریجیت پٹیل گجراتی ہیں۔ ملک کے جو سب سے بڑے اور سرکردہ کارپوریٹ تاجر ہیں مکیش امبانی گجرات کے ہیں۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آیا گجراتی لابی ہی ہندوستان کی معیشت پر اپنی اجارہ داری کو یقینی بنانے عوام کی مشکلات کو نظر انداز کرچکی ہے ؟ ۔ نہ کسی کی رائے کا احترام کیا جا رہا ہے اور نہ کسی کی تجاویز کو قبول کرنے کے اشارے دئے جا رہے ہیں۔ حد تو یہ ہوگئی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس انتہائی اہم اور سنگین مسئلہ پر پارلیمنٹ میں مباحث کی سماعت کرنے اور اس کا جواب دینے تک کو تیار نہیں ہیں۔ کیا ملک کی پارلیمنٹ کو بھی گجراتی لابی خاطر میں لانے کو تیار نہیںہے ؟ ۔ نریندر مودی سارے ہندوستان اور ساری ہندوستانیوں کے وزیر اعظم ہیں۔ انہیں یہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ وہ گجراتی لابی کے ساتھ ہیں یا اس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہیں جمہوریت کے قوانین اور اس کی روایت کا احترام کرتے ہوئے اپوزیشن کی رائے اور عوام کے احساسات اور ماہرین کے مشوروں سبھی کا احترام کرنے کی ضرورت ہے ۔ جو کچھ ملک کے مفاد میں ہو اس کو قبول کیا جانا چاہئے ۔ عوام کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے واقعی کوئی تجویز کارکرد ہوتی ہے تو یہ دیکھے بغیر کہ تجویز کس نے پیش کی ہے اسے قبول کیا جانا چاہئے ۔ حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف قوانین یا شرائط میں تبدیلی کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنانا ممکن نہیں ہے ۔ اس کیلئے انہیں عملی اقدامات کرنے کی ضرور ت ہے ۔ بینکوں تک درکار حد تک کرنسی پہونچائی جانی چاہئے ۔ رقومات نکالنے کی جوحد حکومت نے مقرر کی ہے اس حد تک ہر صارف یا گاہک کو رقم فراہم کی جانی چاہئے ۔ حکومت نے جس طرح سے زیادہ سے زیادہ رقم کی حد مقرر کی ہے اسی طرح اسے کم سے کم رقم کی حد بھی مقرر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسے ایسا کچھ کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں پر قطار کو کم کیا جاسکے ۔ عوام کو راحت پہونچائی جاسکے ۔ ان کی روزمرہ کی ضروریات کو کسی تکلیف یا پریشانی کے بغیر پورا کیا جاسکے ۔ چھوٹے سے بڑے ہر طرح کے کاروبار کی روانی بحال ہوسکے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ حکومت ایسا کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے اور نہ اس کے پاس کوئی جامع منصوبہ اور مبسوط حکمت عملی ہے ۔ اس صورتحال میں یہ اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ عوام کی مشکلات میں گذرتے دنوں کے ساتھ اضافہ ہی ہوگا ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT