Tuesday , December 12 2017
Home / سیاسیات / نوٹ بندی و جی ایس ٹی پر جلد بازی میں عمل آوری پر تنقید

نوٹ بندی و جی ایس ٹی پر جلد بازی میں عمل آوری پر تنقید

دونوں فیصلوں سے جی ڈی پی کی شرح ترقی متاثر۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کا بیان
نئی دہلی 18 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے آج ایک بار پھر نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر جلد بازی میں عمل آوری کی وجہ سے جی ڈی پی کی شرح ترقی کے متاثر ہونے کے تعلق سے خبردار کیا ہے ۔ ڈاکٹر سنگھ نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے جی ڈی پی کی شرح ترقی دو فیصد تک متاثر ہوجائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے فیصلے سے اور پھر جی ایس ٹی پر جلد بازی میں عمل آوری کے نتیجہ میں غیر رسمی اور چھوٹے پیمانے کے شعبہ جات متاثر ہوئے ہیں جو 2.5 ٹریلین والی معیشت کا 40 فیصد حصہ ہے ۔ انہوں نے CNBC-TV 18 ّسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے جملہ گھریلو پیادوار پر اثر ہوا ہے ۔ ان دونوں فیصلوں سے غیر رسمی شعبہ اور چھوٹی تجارتوں کا شعبہ متاثر ہوگا اور یہی دو شعبے ہیں جو جی ڈی پی کا 40 فیصد حصہ قرار پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں روزگار کا 90 فیصد حصہ غیر رسمی شعبہ سے آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو کرنسی چلن میں تھی اس کا 86 فیصد حصہ اچانک منسوخ کردئے جانے سے اور پھر جی ایس ٹی کی وجہ سے کئی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں اور یہ اب آشکار ہو رہی ہیں۔ ان کے نتیجہ میں جملہ گھریلو پیداوار کی شرح ترقی یقینی طور پر متاثر ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی پر جلد بازی میں عمل آوری کی گئی ہے ۔ نوٹ بندی کے تقریبا دو ہفتوں بعد گذشتہ سال 25 نومبر کو اپنی پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس فیصلے کو یادگار غلطی ‘ منظم لوٹ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے نتیجہ میں جملہ گھریلو پیداوار میں دو فیصد تک گراوٹ آجائیگی ۔ جاریہ اقتصادی سال کے پہلے سہ ماہی کے دوران جملہ گھریلو پیداوار 5.7 فیصد تک گھٹ گئی تھی اور یہ گذشتہ تین سال میں سب سے کم ہے ۔ سال 2016 کے پہلے سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح ترقی 7.9 فیصد درج کی گئی تھی ۔ حکومت نے یکم جولائی سے جی ایس ٹی پر عمل آوری سے قبل ڈی ۔ اسٹاکنگ کو آج جی ڈی پی کی شرح ترقی متاثر ہونے کی اصل وجہ قرار دیا ہے ۔ جی ایس ٹی کے ذریعہ زائد از ایک درجن مرکزی اور ریاستی ٹیکسیں کو یکجا کردیا ہے ان میں اکسائز ڈیوٹی ‘ سرویس ٹیکس اور ویاٹ وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اس پر عمل آوری کے بعد رجسٹریشن اور ٹیکس داخل کرنے کے پورٹل میں فنی خرابیاں سامنے آئی تھیں جن کے بعد حکومت نے ریٹرنس داخل کرنے کی مہلت میں تبدیلی کی تھی ۔ اپوزیشن جماعتیں مسلسل نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر تنقیدیں کر رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT