Wednesday , July 18 2018
Home / مضامین / نوٹ بندی پاگل پن سے کیا کچھ نقصان ہوا ؟

نوٹ بندی پاگل پن سے کیا کچھ نقصان ہوا ؟

 

موہن گرو سوامی
2011 میں کئے گئے پیو ریسرچ سروے کے مطابق 1955 یا اس سے قبل پیدا ہوئے 95 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس دن کی ساری باتیں یاد ہیں جس دن جان ایف کنیڈی ہلاک ہوئے تھے ۔ وہ اس دن کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے وہ سب باتیں یاد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دن جو کچھ بھی واقعات پیش آئے تھے اور جو صدمہ ہوا تھا اس کی ہر ہر بات انہیں یاد ہے ۔ اسی طرح 31 اکٹوبر 1984 کو اندرا گاندھی کا قتل بھی ایسا ہی دوسرا دن تھا ۔ ہم میں سے بیشتر جو اس وقت زندہ تھے اس دن کی ہر چھوٹی چھوٹی بات یاد کرسکتے ہیں۔ میں اب بھی اس دن کے ہر واقعہ اور بات چیت کو یاد کرسکتا ہوں۔ اسی طرح گذشتہ سال 8 نومبر کو نوٹ بندی کا فیصلہ بھی اسی طرح کا ایک دن ہے جس کی تکلیف دہ یادیں ہماری ذہنوں میں محفوظ ہیں۔
میں سکندرآباد میں گھر میں کچھ دوسروں کے ساتھ محظوظ ہو رہا تھا ۔ میں نے سنا کہ وزیر اعظم قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔ میں اور میرے دوست ٹی وی کے اطراف جمع ہوگئے اور ہم نے سنا کہ وزیر اعظم اعلان کر رہے تھے کہ ’’ بھائیو اور بہنو ۔ کرپشن اور کالے دھن کا زور ختم کرنے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 500 روپئے اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹ جو فی الحال استعمال ہو رہے ہیں وہ آج نصف شب سے ( یعنی 8 نومبر 2016 کی نصف شب سے ) چلنے بند ہوجائیں گے ۔ اس دن میرے پاس جتنے بھی 1000 روپئے اور 500 روپئے کے نوٹ تھے وہ میری جیب میں تھے ۔ حالانکہ وہ زیادہ نہیں تھے ۔ لیکن یہ حقیقت کہ وہ اچانک ہی کسی اہمیت کے نہیں رہ گئے تھے باعث تشویش تھی ۔ اس وقت مجھے پتہ چلا کہ میری جو بھی بچت تھی وہ اب ہرہفتہ صرف 4000 کی رہ گئی تھی ۔ اچانک ہی میں خود کو نہ صرف برہنہ محسوس کر رہا تھا بلکہ اس سے میری بہت زیادہ ہتک بھی ہوئی ۔

 

اس رات عشائیہ پر جو لوگ موجود تھے ان میں ایک شخص ایسا بھی تھا جس کے تعلق سے کہا جاتا تھا کہ وہ بہت دولتمند ہے ۔ لیکن اس نے کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا ۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ آیا اسے کوئی تکلیف نہیں ہوگی ؟ ۔ اس نے جواب دیا کہ اسے مجھ سے زیادہ تکلیف نہیں ہوگی ۔ اس نے اس وقت ایسا کچھ کہا جو میں فراموش نہیں کرسکتا ۔ جن کے پاس بہت زیادہ ’ دو نمبر ‘ ہوتا ہے وہ بیوقوفی سے دولتمند نہیں بنتے ۔ ایسی رقم جس پر انکم ٹیکس ادا نہ کیا جائے اسے دیگر اثاثوں کی شکل میں یا پھر قوم کے معاشی نظام کی رسائی سے دور رکھا جاتا ہے ۔ میں جانتا تھا کہ یہ صحیح ہے ۔ جیسا کہ ریسرچ میں ہمیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہر سال جو غیر معلنہ آمدنی ہوتی ہے اس کا نصف جائیدادوں میں لگادیا جاتاہے اور تقریبا 44-46% سونے اور زیورات میں لگادیا جاتا ہے یا پھر غیر قانونی طور پر بیرون ملک روانہ کردیا جاتا ہے اور مابقی چار تا چھ فیصد ہی رقم کی شکل میں رکھا جاتا ہے ۔

اچانک نوٹ بندی کے ذریعہ حکومت نے بازار میں چلنے والی تقریبا 87 فیصد رقم یا 15.44 لاکھ کروڑ روپئے ختم کردئے تھے ۔ جب وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ یہ نوٹ بندی در اصل قوم کو کالے دھن سے نجات دلانے کیلئے ہے تو ساری قوم کا اس کا خیر مقدم کیا تھا ۔ حکومت نے اس کی دیگر جو وجوہات بتائی تھیں وہ یہ تھیں کہ وہ موجودہ نظام کو نقلی کرنسی سے نجات دلانا چاہتی ہے اور دہشت گردی کے فینانس نیٹ ورک کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ کالا دھن کا مطلب وہ آمدنی یا معاشی معاملتیں ہوتی ہیں جو قوم کو اس کا واجبی حصہ ٹیکس کی شکل میں ادا نہیں کرتی۔ 1000 کے نوٹوں سے یقینی طور پر نقلی کرنسی کا مسئلہ تھا ۔ 2014 – 15 میں یہ نقلی کرنسی 22 فیصد تک پہونچ گئی تھیں۔ اس کا مطلب یہ چھ لاکھ کرنسی نوٹ تھے ۔ 2015 – 16 میں جو نقلی نوٹ سامنے آئے تھے ان میں 415 نوٹ 500 روپئے کے تھے جبکہ 35 فیصد 100 روپئے کے تھے جبکہ مابقی نوٹ 1000 کے تھے ۔ اس بات پر غور کیجئے کہ جاریہ سال اپریل میں 1646 کروڑ روپئے 500 کی نوٹ کی شکل میں اور 1642 کروڑ روپئے 100 روپئے کی نوٹ کی شکل میں چلن میں تھے ۔ اس کے مطابق نقلی نوٹ کم مالیتی نوٹوں میں تھے اور اس سے سسٹم کو زیادہ نقصان نہیں ہو رہا تھا ۔ ریزرو بینک آف انڈیا اب یہ اطلاع دیتی ہے کہ مالیاتی سال 17 میں گذشتہ سال کی بہ نسبت فرضی نوٹوں کا 20.4 فیصد زیادہ پتہ چلا ہے ۔ فرضی نوٹوں کی جملہ مالیت میں اضافہ کے باوجود یہ ساری رقم صرف 42 کروڑ کی تھی ۔ کیا اس سے کوئی پریشانی ہوسکتی تھی ؟ ۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ اس طرح کی بڑی ’ اصلاح ‘ کیلئے حکومت نے پہلے سے کوئی خاطر خواہ تیاری نہیں کی تھی ۔ جب قلت پیدا ہوئی تو ریزرو بینک اور دیگر بینکوں کے پاس دوسری مالیت کے نوٹ خاطر خواہ تعداد میں موجود نہیں تھے تاکہ مشکلات کو کم کیا جاسکے چاہے کچھ حد تک ہی صحیح ۔ اس کی بجائے ملک کو معاشی نظام کے بریک ڈاون کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے نتیجہ میں کروڑہا عوام کو مشکلات پیش آئیں جو یومیہ کمائی کے ذریعہ گذارا کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ چھوٹے تاجروں اور کسانوں کو مشکلات پیش آئیں جنہیں فوری سرمایہ کاری کرتے ہوئے بیج بونے تھے اور اناج ‘ پھل اور ترکاریاں اگانی تھیں۔ ریزرو بینک کو بڑی مالیت کے نوٹوں کو بدلنے کئی ماہ درکار ہوئے ۔ اس وقت تک تکالیف برقرار رہیں۔ اس طویل پریشانی کی معاشی قیمت لازمی چکانی پڑے گی ۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ‘ جو ایک سیاستدان کم اور ایک اعلی معیاری ماہر معاشیات رہے ہیں ‘ کہا تھا کہ اس کے نتیجہ میں جی ڈی پی کی شرح 2 فیصد تک گھٹ جائیگی ۔

اب وہ تقریبا صد فیصد صحیح ثابت ہو رہی ہیں۔ جی ڈی پی کے سرکاری اعدادو شمار اس کو ظاہر کر رہے ہیں۔ 36000 کروڑ کے اخراجات 500 اور 2000 روپئے کے نئے نوٹ طبع کرنے پر ہوئے تھے ۔ اس کے علاوہ جی ڈی پی کا جو خسارہ ہوگا وہ 3 لاکھ کروڑ روپئے کا ہوگا ۔ یہ ایسی رقم ہے جو کبھی واپس نہیں آسکتی ۔ یہ صرف پاگل پن تھا ۔ اب اس سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیجئے ۔ ہندوستان میں ملازمت پیشہ افراد کی تعداد 450 ملین ہے ۔ ان میں صرف سات فیصد منظم شعبہ میں ہیں۔ ان 31.5 ملین میں 24 ملین کو سرکاری یا سرکاری ملکیت والی کمپنیوں میں روزگار ہے ۔ مابقی خانگی شعبہ کے ملازم ہیں۔ 415 ملین کی وسیع ورک فورس میں تقریبا نصف تعداد زرعی شعبہ سے روزگار حاصل کرتی ہے ۔ مزید 10 فیصد تعداد تعمیرات ‘ چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ اور ریٹیل شعبہ سے روزگار حاصل کرتی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ اس فیصلے سے معیشت پوری طرح ٹھپ نہ ہوگئی ہو لیکن لاکھوں گھروں میں اس فیصلے کے فوری بعد چولہا تک نہیں جل سکا تھا ۔ ایسا اسلئے کیونکہ یومیہ اجرت پانے والوں کو ان کی پوری یا جزوی اجرت تک ادا نہیں کی جا رہی تھی ۔ اگر انہیں منسوخ شدہ کرنسی میں ادائیگی کی بھی جارہی تھی اور یہ لوگ بینکوں کو جا بھی رہے تھے تو وہاں چھوٹے نوٹ یا نئے نوٹ کہاں دستیاب تھے کہ انہیں تبدیل کیا جاسکتا ؟ ۔
ایسے میں خود ساختہ ’ کالے دھن ‘ کا ایک بڑا حصہ جو 500 اور 1000 کے نوٹوں کی شکل میں تھا اور جسے حکومت نے روک دیا تھا وہ در اصل چلن میں موجود رقم تھی ۔ حکومت جو بے نقاب کرنا چاہتی تھی وہ دستیاب رقم کا معمولی حصہ تھی ۔ یہ رقم کاروباری افراد ‘ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے پاس تھی ۔ لیکن اس رقم کو بے نقاب کرنے کی تگ و دو میں حکومت نے غریب عوام کو متاثر کرکے رکھ دیا ۔ اور غور کیجئے اس بات پر کہ گذشتہ سال جو راست بیرونی سرمایہ کاری ہندوستان میں ہوئی تھی اس کا 55 فیصد حصہ( تقریبا 44 بلین ڈالرس ) در اصل ہندوستان کا پیسہ ہی تھا جو اب ایک چکر کاٹ کر ملک کی معیشت میں اپنی جگہ بنا رہا تھا اور یہ پیسہ ٹیکس چوری سے کمایا گیا تھا ۔ اب کیا حکومت اس بات کا جائزہ لے گی اور ان کمپنیوںسے اس رقم کے ذرائع کے بارے میں سوال کرے گی ؟ ۔

نوٹ بندی کے بعد کے دنوں میں مودی حکومت کی اسلئے بھی ہوا کھل گئی کیونکہ توقعات کے مطابق کالا دھن بینکوں کو واپس نہیں آیا ۔ یہ امید کی جا رہی تھی کہ تقریبا ایک تہائی نوٹ واپس نہیں آئیں گے اور اس سے حکومت کو 4 لاکھ کروڑ کا فائدہ ہوگا اور اس سے حکومت کو عوامی شعبہ کے بینکوں کو کارکرد بنانے اور غیر کارکرد اثاثہ جات کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی گذشتہ ماہ جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق 98.96 فیصد 500 اور 1000 روپئے مالیت کے کرنسی نوٹ ‘ جو نوٹ بندی کے ذریعہ چلن سے ہٹالئے گئے تھے ‘ وہ بینکوں کو واپس آگئے ۔ ریزرو بینک کو جو نوٹ موصول ہوئے ان کی مالیت 15.28 لاکھ کروڑ کی تھی جبکہ 8 نومبر تک جملہ 15.44 لاکھ کروڑ کی مالیت کے نوٹ چلن میں تھے ۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ نوٹ بندی ایک بڑی ناکامی تھی اور یہ معیشت کے تئیں بڑی غنڈہ گردی سے کم نہیں تھی ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT