Sunday , November 19 2017
Home / مضامین / نوٹ بندی پر عوامی بے چینی اور مشکلات اپوزیشن عوام کی توقعات پر پوری اترنے میں ناکام

نوٹ بندی پر عوامی بے چینی اور مشکلات اپوزیشن عوام کی توقعات پر پوری اترنے میں ناکام

خلیل قادری
ہندوستان بھر میں معاشی ایمرجنسی اور رقم کے بحران کی صورتحال ہے ۔ سارے ملک میں اگر کسی بات کے چرچے ہیں تو وہ بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کئے جانے کا مسئلہ ہے ۔ اس سے زندگی کے تمام شعبے جات متاثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ عام آدمی سب سے زیادہ پریشان حال ہے اور مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہوگیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کالے دھن کا چلن بند کرنے کا جو مقصد و منشا اس فیصلے کے پس پردہ کار فرما ہونے کا دعوی کیا ہے وہ ایسا لگتا ہے کہ کہیں پس منظر میں چلا گیا ہے ۔ جن لوگوں کے پاس کالا دھن ہے ‘ سینکڑوں ‘ ہزاروں کروڑ روپئے کی ناجائز دولت ہے وہ اپنے گھروں اور بنگلوں میں آرام اور چین کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ ان کی رقومات کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے کیونکہ یہ تاثر عام بات ہے کہ ان کی رقومات بڑی آسانی کے ساتھ تبدیل ہوجائیں گی ۔ اگر کسی کو مشکل ہو رہی ہے تو ملک کے کسان کو ہو رہی ہے ‘ اگر کسی کو تکلیف ہو رہی ہے تو گھریلو بجٹ چلانے والی خواتین کو ہو رہی ہے ‘ اگر کسی کو تکلیف ہو رہی ہے تو وہ ملک کا روزمرہ کام کاج کے ذریعہ روزی روٹی حاصل کرنے والا شخص ہے ‘ اگر کسی کو تکلیف ہو رہی ہے تو وہ چھوٹے موٹے کاروباری ہیں ‘ اگر کوئی مسائل کا شکار ہے تو ٹھیلہ بنڈی والے ہاکرس ہیں ‘ اگر کسی کو پریشانی ہے تو وہ لوگ ہیں جو معمول کی آمدنی میں اپنا گذربسر بمشکل تمام کرپاتے ہیں۔ ان سب کے باوجود حکومت یہ دعوی کرنے میں مصروف ہے کہ اس کے فیصلے کو عوام کی اکثریت نے قبول کرلیا ہے اور صرف مخالفین اس کے خلاف پروپگنڈہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی یہ دعوی بھی کرنے لگے ہیں کہ ان کے فیصلے سے صرف کالا دھن رکھنے والے افراد پریشان ہیں اور غریب عوام چین کی نیند سو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے فیصلے سے عوام کی نیند چین سب حرام کردیا ہے ۔ لوگ رات رات بھر اور دن دن بھر بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر طویل قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور کردئے گئے ہیں ۔ اس کے باوجود بھی ان کے ہاتھ میں خود ان کے خون پسینے کی کمائی کی رقم نہیں آ پا رہی ہے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس نے حکومت کے تعلق سے عوام کو بدظن کردیا ہے اور حکومت کے تعلق سے عوام کی رائے منفی ہوتی جا رہی ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت اس صورتحال کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے اور وہ صرف رائے عامہ کو دباتے ہوئے اپنے مطلب کی رائے کو ظاہر کرنے پر اتر آئی ہے ۔ یہ ایک طرح کی آمریت ہے اور اس کا ہندوستان میں کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ آمرانہ فیصلے ہمیشہ ہی سے نقصان کا باعث بنے ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہی ہونے والا ہے ۔ آمریت کا جمہوری نظام میں کوئی مقام نہیں ہوتا اور نہ اس کو قبول کیا جاسکتا ہے ۔

آج ملک بھر میں صورتحال یہ ہے کہ منڈیا خالی ہوگئی ہیں ‘ بازاروں میں سناٹے چھا گئے ہیں۔ چھوٹے موٹے کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔ غریب عوام کی جیب خالی ہوگئی ہے ۔ ان کے پاس دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کیلئے رقومات نہیں ہیں۔ گھروں کا بجٹ متاثر ہوکر رہ گیا ہے ۔ خواتین کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ بینکوں کے باہر ہزاروں افراد کی قطاریں ہیں۔ اے ٹی ایم مشینوں کے باہر سینکڑوں افراد اپنی باری کے منتظر ہیں۔ اس کے باوجود ہزاروں اے ٹی ایم ایسے ہیں جہاں کوئی رقومات دستیاب ہی نہیں ہیں۔ حکومت نے اس فیصلے کا اعلان کرنے سے قبل کوئی تیاری نہیں کی ۔ اس نے محض اپنی من مانی کرتے ہوئے ایک ایسا فیصلہ کردیا جس کے نتیجہ میں ملک کے سارے غریب عوام متاثر ہوکر رہ گئے ہیں۔ لوگ اپنے بیماروں کیلئے ادویات خریدنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ معصوم بچوں کیلئے دودھ حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ اس کے باوجود ہمارا نظام ایسا ہے کہ غریب عوام ہی کو بے یار و مدد گار بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر دھکے کھانے اور خوار ہونے کیلئے چھوڑ دیا ہے ۔ یہ در اصل عوام پر جبر ہے ۔ ان پر ظلم ہے ۔ ملک بھر میں جتنے بینکس ہیں اور جتنے اے ٹی ایم مشین ہیں وہاں ایک بھی مثال ایسی نہیں ہے کہ کوئی بڑا تاجر ‘ کارپوریٹ اداروں کے ذمہ داران یا مالکین لائین میں کھڑے نظر آئے ہوں ۔ ہزاروں افراد کی قطاریں ہیں اور ہر کوئی غریب ہے ۔ مڈل کلاس لوگ ہیں ۔ ان کے پاس اپنی روز مرہ کی ضروریات کی تکمیل کرنے کیلئے معمولی رقم تک بھی نہیں ہے ۔ اس صورتحال میں وزیر اعظم یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں حالات بہتر بنانے کیلئے 50 دن کا وقت دیا جانا چاہئے ۔ پتہ نہیں وزیر اعظم کیا پاس کوئی علا ء الدین کا چراغ ہو جس سے حالات بہتر ہوجائیں جبکہ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ جو حالات پیدا ہوگئے ہیں انہیں بہتر ہونے اور معمول پر آنے کیلئے کئی مہینوں کا وقت درکار ہوسکتا ہے ۔ بی جے پی کے قائدین ہوں ‘ مرکزی وزرا ہوں یا پھر خود وزیر اعظم نریندر مودی ہوں وہ ماہرین معاشیات کی رائے کو بھی اس معاملہ میں تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ انہیں صرف اپنے منصوبوں پر یقین ہے اور وہ کسی کی سننے کو تیار نہیں ہے ۔ یہ آمریت کی مثال ہے ۔ یہ انتخابات میں اپنے بل پر کامیابی حاصل کرنے کا اثر ہے جس کے نتیجہ میں سارے ملک کے عوام کو سزائیں دی جا رہی ہیں۔

حکومت کے اس فیصلے نے ملک کے عوام میں بے چینی اور عدم اطمینان کی کیفیت پیدا کردی ہے ۔ بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کا اعلان خود وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا ہے ۔ حالانکہ وہ یہ اعلان اپنے وزیر فینانس سے کرواسکتے تھے ۔ بی جے پی کیلئے یہ فیصلہ منفی اثرات کا حامل ہی ہوگا ۔ یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی میں آج کوئی بھی لیڈر مقبولیت کے معاملہ میں نریندر مودی کی ہمسری کا دعوی نہیں کرسکتا ۔ لیکن جس فیصلے کا خود وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے وہ عوام کے حق میں مشکلات و پریشانیوں کا باعث بنا ہے ۔ اس کے بعد جب وزیر اعظم جاپان سے واپس آئے تو انہوں نے عوام کا مذاق اڑانے کی کوشش کی اور بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر لائین میں کھڑے افراد کو کرپٹ ‘ بد عنوان اور کالا دھن رکھنے والا قرار دیدیا ہے ۔ اس پر بھی عوام میں ناراضگی کی لہر پیدا ہوگئی ہے ۔ اب بی جے پی کا سب سے مقبول عوامی چہرہ ہی عوام سے ٹکراو کی صورتحال میں آگیا ہے ۔ اپنی محنت کی کمائی کو روزمرہ کی ضرورت کیلئے نئی کرنسی میں تبدیل کرنے والے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آیا وہ کرپٹ ہیں ؟ ۔ کیا وزیر اعظم نے ان کا امیج اور وقار تو متاثر نہیں کردیا ہے ؟ ۔ کیا حکومت کی نظر میں ان کی یہی اہمیت رہ گئی ہے کہ انہیں بدعنوان اور کرپٹ قرار دیدیا جائے ؟ ۔ کیا وزیر اعظم کی نظر میں ملک کے عوام کی اکثریت ٹیکس چوری کرنے والی ہے ؟ ۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو عام آدمی کے ذہن میں مسلسل گھوم رہے ہیں اور اس صورتحال میں ملک کی اپوزیشن جماعتوں کیلئے ایک موقع تھا کہ وہ اس کا فائدہ اٹھاتے اور عوام میں حکومت کے فیصلے کے منفی پہلووں کو مزید اجاگر کرتے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک میں اپوزیشن انتہائی کمزور ہوکر رہ گئی ہے ۔ کانگریس پارٹی کا وجود برائے نام ہوگیا ہے ۔ دوسری اپوزیشن جماعتیں بھی اپنے اپنے مسائل کا شکار ہیں۔ ان کے سامنے کوئی ایسی جہت نہیں ہے جس کے ذریعہ وہ عوام میں اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرسکیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے عوام کی تکالیف اور مشکلات کو اس ڈھنگ سے پیش نہیں کیا ہے جس طرح سے انہیں کیا جانا چاہئے تھا ۔ نوٹوں کی تبدیلی کیلئے تقریبا 50 افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں اور اپوزیشن جماعتیں اس کو مناسب ڈھنگ سے پیش کرنے میں ناکام ہیں۔ احتجاج کا فیصلہ کرنے اور راستہ طئے کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں نے پانچ دن کا وقت لگادیا ۔ اس وقت تک عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی تھیں۔ ماہرین کے بموجب یہ مشکلات آئندہ وقتوں میں مزید بڑھنے والی ہیں اور ملک کی معیشت پر اس کا انتہائی منفی اثر ہونے والا ہے ۔ ملک کی جملہ گھریلو پیداوار کی شرح متاثر ہوکر رہ جائیگی ۔ صنعتیں اور فیکٹریاں بند ہونے کے دہانے پر پہونچ جائیں گی ۔ ان مسائل کو اپوزیشن جماعتیں موثر ڈھنگ سے عوام کے سامنے پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ اپوزیشن کیلئے اب بھی موقع ہے کہ وہ حالات کا حقیقی انداز میں جائزہ لیں۔ ایک موثر اور جامع حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ حکومت کے اس عوام مخالف اور عاقبت نااندیش فیصلے کے حقیقی اثرات کو عوام میں پیش کرتے ہوئے رائے عامہ ہموار کی جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT