Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی پر مودی کو طلب نہیں کیا جائیگا ‘ پی اے سی

نوٹ بندی پر مودی کو طلب نہیں کیا جائیگا ‘ پی اے سی

کمیٹی کو وزیر اعظم کو طلب کرنے کا اختیار نہیں۔ صدر نشین تھامس کے ریمارکس پر بی جے پی ارکان کا اعتراض

نئی دہلی 13 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنے صدر نشین کے وی تھامس کے خیال کو عملا مسترد کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آج فیصلہ کیا ہے کہ کمیٹی نوٹ بندی کے مسئلہ پر اپنے روبرو وزیر اعظم نریندر مودی کو طلب نہیں کریگی ۔ اس سے قبل بی جے پی کے ارکان نے کانگریس لیڈر کے ان ریمارکس پر شدید اعتراض کیا تھا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ نوٹ بندی کے مسئلہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی طلب کرسکتے ہیں۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب برسر اقتدار جماعت کے ارکان نے کے وی تھامس کے بیان پر ہنگامہ کھڑا کردیا تھا ۔ کے وی تھامس نے جاریہ ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ( پی اے سی ) کی جانب سے نوٹ بندی مسئلہ پر وزیر اعظم کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے ۔ ایوان کی مالیاتی کمیٹیوں اور وزیر اعظم یا وزرا کی طلبی سے متعلق قوانین سے متعلق اسپیکر کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے پی اے سی نے ایک اعلامیہ میں کہا کہ وزرا کو کمیٹی کی جانب سے مشاورت کیلئے یا پھر ثبوت دینے کیلئے طلب نہیں کیا جانا چاہئے ۔ کہا گیا ہے کہ قواعد کے مطابق کمیٹی کے صدر نشین جب ضروری سمجھیں لیکن کمیٹی کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد وزیر کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کرسکتے ہیں۔ بی جے پی کے ارکان بشمول نشی کانت دوبے ‘ بھوپیندر یادو اور کیرت سومیا نے تھامس کے بیان کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ اس کمیٹی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو طلب کرے ۔ نشی کانت دوبے نے قبل ازیں اسپیکر لوک سبھا کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تھامس کے یہ ریمارک غلط ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ نوٹ بندی کے مسئلہ پر نریندر مودی کو بھی پی اے سی کے روبرو طلب کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ ریمارکس غیر اصولی ہیں اور یہ مروجہ پارلیمانی اصولوں اور طریقہ کار کے مغائر ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ اجلاس میں مسٹر کے وی تھامس نے یہ وضاحت کی کہ ان کے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ کمیٹی وزیر اعظم کو اسی وقت طلب کرسکتی ہے جب اس تعلق سے کوئی متفقہ فیصلہ ہو اور انہوں نے اس کمیٹی کی اہمیت کو ختم کرنے کے خلاف مشورہ دیا تھا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عہدیداروں کو طلب کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ کسی مخصوص وزارت کے اخراجات اور اکاؤنٹس وغیرہ کے تعلق سے ثبوت دے سکیں یا ان سے سوال کیا جاسکے ۔ یہی مروجہ طریقہ کار ہے ۔ کمیٹی وزیر اعظم یا پھر دوسرے وزرا کو بھی طلب نہیں کرسکتی ۔ یو پی اے حکومت کے دور میں بھی اس وقت کے پی اے سی صدر نشین مرلی منوہر جوشی نے اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو 2G اسپیکٹرم اسکام میں طلب کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جس پر کانگریس کے ارکان نے شدید اعتراض کیا تھا ۔ اس وقت مرلی منوہر جوشی وزیر اعظم کو طلب نہیں کرسکے تھے کیونکہ پی اے سی میں برسر اقتدار جماعت ( کانگریس ) کے ارکان کا غلبہ تھا ۔ چند دن قبل ہی کے وی تھامس نے کہا تھا کہ پی اے سی نوٹ بندی کے مسئلہ پر وزیر اعظم کو بھی طلب کرسکتی ہے تاہم اب کمیٹی نے ان کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ کمیٹی کو وزیر اعظم کو طلب کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔

 

پنجاب میں بی جے پی ‘ اکالی و عآپ قائدین کی کانگریس میں شمولیت
چندی گڑھ 13 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) پنجاب میں 4 فبروری کے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس کو آج اس وقت تقویت ملی جبکہ بی جے پی ‘ شرومنی اکالی دل اور عام آدمی پارٹی کے کئی قائدین بشمول سینئر بی جے پی لیڈر و سابق ریاستی وزیر ستپال گوسین نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ۔ پنجاب پردیش کانگریس کے صدر کیپٹن امریندر سنگھ نے ان قائدین کی کانگریس میں شمولیت کو پارٹی کے حق میں چل رہی بڑی لہر سے تعبیر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں رائے دہندوں کیلئے واحد حقیقی انتخاب اب کانگریس ہے ۔ ووٹرس اکالی دل ۔ بی جے پی برسر اقتدار اتحاد کی وجہ سے الجھن کا شکار ہیں ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT