Monday , July 23 2018
Home / مضامین / نوٹ بندی کا ایک بھی مقصد پورا نہیں ہوا حکومت کی غلطیاں سنگین پی چدمبرم کا انٹرویو

نوٹ بندی کا ایک بھی مقصد پورا نہیں ہوا حکومت کی غلطیاں سنگین پی چدمبرم کا انٹرویو

 

لکشمی سبرامنین
مرکز میں برسر اقتدار نریندر مودی حکومت کی جانب سے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کا چلن بند کئے جانے کے بعد ویسے تو کئی گوشوں سے حکومت پر تنقیدیں ہوئیں اور وزیر اعظم مودی کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ ہر کسی نے اپنے اپنے انداز میں حکومت کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کیا تھا تاہم ایک سیاسی لیڈر ایسا بھی ہے جو مودی حکومت کیلئے مسلسل کانٹا بنتا جا رہا ہے ۔ ٹاملناڈو کے روایتی انداز میں شرٹ اور دھوتی پہنے پلانی اپن چدمبرم نے نوٹ بندی کے بعد عوام کو اس کے منفی اور مضر اثرات کے تعلق سے واقف کروانا شروع کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ کالا دھن ایسی چیز نہیں ہے جسے ذخیرہ کرکے رکھا جائے بلکہ کالا دھن مسلسل استعمال میں رہتا ہے ۔ 72 سالہ پی چدمبرم حکومت کی معاشی پالیسیوں پر مسلسل تبصرے کرتے ہوئے ان کی قلعی کھول رہے ہیں ۔ چدمبرم چونکہ سابقہ وزیر فینانس ہیں اس لئے ان کی تنقیدیں واقعتا چبھنے والی ہیں۔ انہوں نے حکومت پر جو تنقیدیں کی ہیں ان کی عوام نے بھی تائید کی ہے اور اسے پسند بھی کیا ہے ۔ اپنی تحریروں ‘ تقاریر اور ٹوئیٹس کے ذریعہ چدمبرم نے سر عام مودی کو نشانہ بنایا ہے اور پارٹی میں ایسا مقام حاصل کرلیا ہے کہ اب دوسرے بھی ان کی تقلید کر رہے ہیں۔
کانگریس نائب صدر راہول گاندھی اگر ستمبر میں برکلے میں کی گئی اپنی تقریر کی وجہ سے پارٹی کی ساکھ میں بہتری کیلئے اصل چہرہ بن کر سامنے آئے ہیں تو چدمبرم اس کے اصل آرکٹیکٹ ہیں۔ چدمبرم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ عوام کی مایوسی اور ناراضگی انہیں بی جے پی سے دور کرکے کانگریس کے قریب لا رہی ہے ۔ جب لوگ کسی سیاسی جماعت کے قریب ہوتے ہیں تو پارٹی بھی مزید سرگرم اور توانا ہوجاتی ہے ۔ چدمبرم سے قربت رکھنے والے ایک ٹاملناڈو کانگریس لیڈر کے ایس الاگیری کا کہنا ہے کہ چدمبرم نے حالیہ دنوں میں 10 کارپوریشنوں کے دورے کئے تاکہ معیشت اور سیاسی معیشت پر لکچر دے سکیں۔ ان میں صرف تھنک ٹینک سے تعلق رکھنے والے یا پالیسی ساز ہی شامل نہیں تھے بلکہ وہ لوگ بھی شامل تھے جو مودی کی معاشی پالیسیوں کے منفی اثرات کو سمجھتے ہیں۔ ملک میں کوئی دوسرا لیڈر ایسا نہیں ہے جو اتنے سادہ انداز میں صورتحال کو سمجھا سکے ۔وہ گجرات گئے ‘ مہاراشٹرا گئے اور مدھیہ پردیش گئے تاکہ وہاں کے اعلی قائدین سے ملاقات کرسکیں اور وہاں انہوں نے کاروباری برادری سے خطاب بھی کیا ۔ انہوں نے حیدرآباد ‘ پونے ‘ چھتیس گڑھ اور کولکتہ میں طلبا سے خطاب بھی کیا ۔
ان کی تقاریر تنازعات سے پاک بھی نہیں رہیں۔ گذشتہ مہینے کشمیر کی سکیوریٹی صورتحال پر چدمبرم کے بیان پر کئی وزرا اور بی جے پی قائدین نے تنقیدیں کیں اور خود مودی نے بھی اس کا جواب دیا ۔ چدمبرم نے کہا تھا کہ کشمیر وادی میں اصل مطالبہ یہ ہے کہ دفعہ 370 کا احترام کیا جائے اور اس کا مطلب کشمیر کیلئے عظیم تر خود اختیاری ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر میں ان کی بات چیت سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ لوگ جب آزادی کی بات کرتے ہیں تو ان میں بیشتر ( پورے نہیں ) خود اختیاری کی بات کرتے ہیں۔ بی جے پی قائدین نے فوری چدمبرم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ ان کا موقف قومی مفاد کے مغائر ہے ۔ مودی نے ایک ریلی میں سوال کیا تھا کہ کانگریس قائدین ان افراد کی تائید کیوں کر رہے ہیں جو کشمیر میں آزادی چاہتے ہیں۔ وزْر فینانس ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ کانگریس چاہتی ہے کہ ہندوستان کیلئے بحران پیدا ہو ۔
چدمبرم تاہم اپنے بیان پر قائم رہے اور کہا تھا کہ یقینی طور پر وزیر اعظم نے جموں و کشمیر پر ان کے جواب کو پورا نہیں پڑھا ہے ۔ انہو ںنے اپنے ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ جو لوگ ان پر تنقیدیں کر رہے ہیں انہیں کہنا چاہئے کہ ان کا کونسا لفظ غلط تھا ۔ چدمبرم کے لب و لہجہ اور ان کی فہم و فراست نے کانگریس میں انہیں بہترین مقام دلایا ہے ۔ ٹاملناڈو کے کانگریس لیڈر پیٹر الفونس کا کہنا ہے کہ خود راہول گاندھی بھی ہر اہم مسئلہ پر جو معیشت اور فینانس سے متعلق ہو چدمبرم سے مشاورت کرتے ہیں۔ راہول نے کئی تقاریر میں پی چدمبرم کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ وہ ہندوستانی معیشت پر سب سے زیادہ بھروسہ مند شخصیت ہیں اور اسی لئے بی جے پی انہیں نشانہ بنا رہی ہے ۔ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے چدمبرم کے فرزند و سیاسی جانشین کارتی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ ان کی فرم پر بیرونی سرمایہ کاری کے حصول میں بے قاعدگیوں کا الزام ہے جبکہ کارتی نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان مقدمات سے کچھ بھی نہیں ہوگا اور اب تک ان کے خلاف چارچ شیٹ تک پیش نہیں کی جاسکی ہے ۔ ایک حالیہ انٹرویو میں چدمبرم نے کئی اہم امور پر اظہار خیال کیا ہے ۔

نوٹ بندی کے مقاصد کی تکمیل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں چدمبرم نے کہا کہ حکومت نے نوٹ بندی کے وقت جو مقاصد ظاہر کئے تھے ان میں ایک بھی پورا نہیں ہوسکا ہے ۔ کالا دھن اب بھی پیدا ہو رہا ہے اور استعمال میں ہے ۔ جعلی کرنسی اب2000 کے نوٹوں میں بھی آگئی ہے ۔ دہشت گردی کے واقعات ‘ در اندازی ‘ عام شہریوں کی اموات اور سکیوریٹی فورسیس کی اموات میں 2017 میں اضافہ ہوا ہے ۔
اس سوال پر کہ آیا جی ایس ٹی سے چھوٹی ‘ اوسط اور مائیکرو تجارت متاثر ہوئی ہے اور موجودہ جی ایس ٹی ڈھانچہ کیسا ہے چدمبرم نے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے عملا مائیکرو تجارت کو ختم کردیا ہے اور ہزاروں چھوٹی صنعتوں اور فرمس کو کاروبار سے باہر کردیا ہے ۔ جی ایس ٹی پر عمل آوری کا جو بوجھ اوسط کاروبار پر پڑا ہے وہ ناقابل برداشت ہے ۔ ایکسپورٹس کم ہوگئے ہیں کیونکہ یہاں اب ٹیکس سے استثنی نہیں رہا ہے ۔ تاجروں کو پہلے ادا کرنا ہوگا اور پھر واپسی کیلئے درخواست دینی ہوگی ۔ کئی کاروبار کے ورکنگ سرمایہ کی ضرورت بڑھ گئی ہے اور ایسے میں پیداوار میں کمی ہوسکتی ہے ۔ جی ایس ٹی کا جو موجودہ ڈھانچہ ہے وہ حقیقی جی ایس ٹی نہیں ہے ۔ اس کے نظریہ ‘ اس کی شرحوں اور اس پر عمل آوری کی ضروریات وغیرہ میں کئی خامیاں ہیں۔ کئی ماہرین نے ان بنیادی خامیوں کی نشاندہی کی ہے ۔
یہ توجہ دلانے پر کہ کانگریس نے ہی جی ایس ٹی کا خیال پیش کیا تھا اور اس سوال پر کہ اس وقت اس کی راہ میں رکاوٹ کیا تھی چدمبرم کا کہنا تھا کہ خود بی جے پی اس معاملہ میں رکاوٹ تھی اور خاص طور پر گجرات اور مدھیہ پردیش ریاستوں نے رکاوٹ پیدا کی ۔ بعد میں ٹاملناڈو بھی ان کے ساتھ ہوگیا ۔ اس وقت پرنب مکرجی نے جی ایس ٹی ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا اور میں ( چدمبرم ) نے بی جے پی قیادت سے استدعا کی تھی کہ اس بل کی منظوری میں تعاون کیا جائے ۔ انہوں نے تردید کی اور جی ایس ٹی متعارف کرنے میں پانچ سال ضائع ہوگئے ۔

چدمبرم سے جب سوال کیا گیا کہ بحیثیت مجموعی ہندوستانی معیشت کے تعلق سے ان کا کہنا کیا ہے جبکہ بی جے پی قائدین ارون شوری اور یشونت سنہا تک کہہ رہے ہیں کہ انحطاط شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ ان (چدمبرم ) کے خیال میں معاشی احیاء کیلئے کیا کیا جانا چاہئے ‘ مسٹر چدمبرم نے کہا کہ وہ گذشتہ 18 ماہ سے انحطاط پر لکھتے اور تقریر کرتے جا رہے ہیں۔ یشونت سنہا اور ارون شوری نے ان کے خیالات کی تائید کی ہے ۔ انہوں نے اپنے دلائل بھی پیش کئے ہیں اور واضح کیا ہے کہ اب کیا کیا جاسکتا ہے ۔ سب سے پہلے حکومت کو یہ قبول کرنا ہوگا کہ اس نے سنگین غلطیاں کی ہیں اور معیشت انحطاط کا شکار ہے ۔ دوسری بات یہ کہ حکومت کو انحطاط کی وجوہات کا پتہ چلانا ہوگا اور ان کا ازالہ کرنا ہوگا ۔تیسری بات یہ کہ حکومت کو کچھ غلط فیصلے واپس لینے ہوں گے جن کی اب بھی گنجائش موجود ہے ۔ صرف حکومت کے پاس مکمل اطلاعات اور ڈاٹا ہیں ۔ حکومت ہی کو اس کی تجاویز پیش کرنی چاہئے ۔ اس کے بعد ہی اپوزیشن اپنے تبصرے دے سکتی ہے اور تجاویز پیش کرسکتی ہے ۔
اس سوال پر کہ وزیر فینانس ارون جیٹلی کی کارکردگی کیسی ہے اور وہ انہیں کیا مشورہ دیں گے ‘ چدمبرم نے کہا کہ وہ کوئی ریٹنگ ایجنسی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپوزیشن میں ہیں۔ صرف اپنے خیالات ظاہر کرسکتے ہیں اور ان کی تحریروں اور تقاریر میں تجاویز موجود ہیں۔ اب یہ وزیر فینانس کا کام ہے کہ وہ انہیں تجاویز سمجھیں یا مشورہ سمجھ کر قبول کریں۔ نیتی آیوگ کی کارکردگی سے متعلق سوال پر انہوں نے خود سوال کیا کہ نیتی آیوگ نے اب تک کیا کیا ہے ؟ ۔ نیتی آیوگ کوئی منصوبہ بندی ادارہ نہیں ہے ۔ یہ صرف مختلف وزارتوں اور محکموں کو بجٹ مختص کرتا ہے ۔ یہ کوئی تھنک ٹینک بھی نہیں ہے ۔ ایسے میں یہ ہے کیا ؟ ۔ ان کے خیال میں وزیر اعظم کی معاشی مشاورتی کونسل کے قیام کے بعد نیتی آیوگ کی اہمیت ہی ختم ہوگئی ہے ۔

کانگریس کے اچانک احیاء کے امکانات اور ایسا ہونے کی وجہ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے چدمبرم نے بتایا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ بی جے پی حکومت سے مایوس ہو رہے ہیں۔ حکومت نے ملازمتوں ‘ تعلیمی مواقع ‘ نگہداشت صحت ہاوزنگ کے شعبہ میں کچھ نہیں کیا ہے ۔ اگر آپ احتیاط اور گہرائی سے جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ گذشتہ 42 مہینوں میں ملک کے عوام کی اکثریت کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ لوگوں کی مایوسی اور ناراضگی انہیں بی جے پی سے دور اور کانگریس سے قریب کر رہی ہے ۔ لوگ جتنا پارٹی سے قریب آئیں گے پارٹی اتنی ہی سرگرم اور توانا ہوگی ۔
اس سوال پر کہ آیا گجرات اور ہماچل انتخابات کے نتائج 2019 انتخابات کی تیاری ہوں گے اور کانگریس کی حکمت عملی کیا ہوگی ‘ چدمبرم نے کہا کہ کانگریس کو امید ہے کہ وہ گجرات اور ہماچل پردیش میں اچھی کارکردگی دکھائے گی ۔ 2019 سے قبل کچھ اور ریاستوں کے انتخابات بھی ہیں۔ کانگریس ہر الیکشن کیلئے مناسب حکمت عملی اختیار کرے گی ۔ زیادہ توجہ حکومت کی غلطیوں اور اس کی عدم کارکردگی پر دی جائیگی اور یہ غلطیاں ہنوز چل رہی ہیں جن سے عوام بیروزگار ہو رہے ہیں۔
اس سوال پر کہ کیا راہول گاندھی آئندہ انتخابات میں وزیر اعظم مودی کی امیج کا مقابلہ کرسکیں گے ؟ اور کیا راہول گاندھی کو پارٹی صدر بنائے جانے سے پارٹی کو کامیابیاں مل سکتی ہیں ‘ چدمبرم نے کہا کہ کانگریس پارٹی اپوزیشن میں اصل جمعت ہے۔ اگر سونیا گاندھی پارٹی کی صدر بنے رہنا نہیں چاہتی تو پھر یہ ہمارا حق اور ذمہ داری ہے کہ نئے لیڈر کو منتخب کریں۔ کل ہند کانگریس، پارٹی کے لاکھوں کارکنوں کی خواہش کے مطابق نئے لیڈر کا انتخاب کرے گی اور انہیں امید ہے کہ یہ نئے لیڈر راہول گاندھی ہوں گے ۔
لالو پرساد یادو ‘ مایاوتی اور ممتابنرجی کی جانب سے مرکز پر سی بی آئی کے بیجا استعمال اور مخالفین کو دھمکانے کے الزامات پر چدمبرم نے کہا کہ وہ کسی کے خلاف تبصرہ نہیں کرسکتے ۔ ان کے بیٹے کے مقدمہ میں صرف الزامات ہیں۔ کوئی چارچ شیٹ پیش نہیں کی گئی ہے اور نہ کوئی الزام ہے ۔ اصل نشانہ وہ خود ہیں۔ میری آواز اور تحریروں کو دبانے کیلئے حکومت میرے بیٹے کو ہراساں کرنے ایجنسیوں کا بیجا استعمال کر رہی ہے ۔ ان کا بیٹا بہادر ہے اور وہ ان جھوٹے الزامات کا سامنا کریگا اور قانون کا سہارا لے گا ۔

TOPPOPULARRECENT