Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی کا فیصلہ ‘ دقیانوسیت کی انتہاء ‘ ششی تھرور کا ریمارک

نوٹ بندی کا فیصلہ ‘ دقیانوسیت کی انتہاء ‘ ششی تھرور کا ریمارک

بیف پر امتناع ‘ اینٹی رومیو اسکواڈ کی تشکیل بھی دقیانوسی سوچ کا نتیجہ ۔ لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ۔ کانگریس لیڈر کا مباحثہ میں اظہار خیال
ممبئی 17 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) نوٹ بندی کے مسئلہ پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ عوام سے یہ کہنا کہ وہ اپنے اکاؤنٹس میں موجود رقم تک بھی رسائی حاصل نہیں کرسکتے انتہاء درجہ کی دقیانوسیت ہے ۔ سابق مرکزی وزیر یہاں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے جی ایس ٹی پر عمل آوری کے طریقہ کے مسئلہ پر بھی بی جے پی زیر قیادت حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ ایک قوم ایک ٹیکس کا نظریہ حالانکہ بہترین ہے ۔ ششی تھرور نے کہا کہ نوٹ بندی ایک ایسا عمل تھا جس کے ذریعہ عوام سے کہا گیا کہ ان کے پاس کس طرح کے نوٹ ہونے چاہئیں۔ حکومت نے ہم سے کہا کہ آپ خود اپنی رقم تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے جو خود آپ کے اکاؤنٹس میں موجود ہے ۔ یہ دقیانوسیت ہے جسے انتہاء درجہ تک پہونچادیا گیا ہے ۔ وہ ایک مباحثہ میں حصہ لے رہے تھے جس کا عنوان تھا کیا ہم ایک دقیانوسی مملکت میں رہتے ہیں ۔ اس مباحثہ کی صدارت ویر سنگھوی نے کی ۔ ششی تھرور کے علاوہ جے این یو کے پروفیسر مکراند پرانجپے نے نوٹ بندی کی مخالفت میں اظہار خیال کیا جبکہ سینئر صحیفہ نگار چندن مترا اور صنعت کار سنیل الگھ نے اس کی حمایت میں بات کی ۔ ششی تھرور نے جی ایس ٹی کے نفاذ کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک قوم ایک ٹیکس کی بجائے ہم پر تین ٹیکس عائد کئے گئے ۔ تین شرحیں پیش کی گئیں اور 37 فارمس سالانہ داخل کرنے کو کہا گیا ہے ۔ یہ دقیانوسی مملکت ہے جو آپ پر مسلط ہوگئی ہے ۔ انہوں نے بیف پر امتناع کی بھی مذمت کی اور کہا کہ اس کے نتیجہ میں صرف مہاراشٹرا میں لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ہوکر رہ گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بیف پر امتناع کا جو نظریہ ہے اور اس کے جو مقاصد تھے وہ بھی دقیانوسی مملکت کا طریقہ کار تھا ۔ حکومت یہ طئے کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ لوگ کس طرح کا نوالہ اٹھائیں ۔ لوگ اپنے گھروں میں کیا کھائیں گے وہ بھی حکومت طئے کر رہی ہے ۔ اس طرح کی دقیانوسیت نے صرف مہاراشٹرا ریاست میں لاکھوں افراد کا روزگار متاثر اور گذربسر مشکل کردیا ہے ۔ انہوں نے انٹرنیشنل فلم فیسٹول سے دو فلموں کو ہٹادینے وزارت اطلاعات و نشریات کے فیصلے سے پیدا ہوئے تنازعہ کا بھی حوالہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سنسر شپ بھی ایک طرح کی مثال ہے ۔ حال ہی میں حکومت نے فلم فیسٹول کی فہرست سے دو فلموں کو ہٹادیا ہے ۔ یہ کام حکومت نے کیا ہے جیوری نے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سنسر بورڈ ایسا ہے جو امرتیہ سین کی دستاویزی فلم اڑتا پنجاب سے 72 مناظر حذف کرنا چاہتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ لفظ ہندو اور گائے کو حذف کیا جائے ۔ اگر یہ دقیانوسیت نہیں ہے تو پھر کیا ہے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ دقیانوسیت ہی کا نتیجہ تھا کہ اترپردیش میں آدتیہ ناتھ کی حکومت نے اینٹی رومیو دستے بھی بنادئے ۔ یہ مملکت ہی سمجھتی ہے کہ ملک کیلئے کیا بہتر ہے ۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر ان کا ذہن یہ کہتا ہے کہ حکومت کا کام عوامی پالیسی میں ہے ‘ عوامی اشیا کی تیاری اور انتظامات میں ہے ‘ ملک کی سرحدات کی حفاظت میں ہے ‘ انفرا اسٹرکچر کی تیاری میں ہے ۔ ایسا کرنا درست ہے ۔ لیکن عوام کے کچن میں گھس جانا ‘ ان کے بیڈروم میں جھانکنا اور عوام کی شخصی زندگی میں دخل اندازی کرنا یہ مملکت اور حکومت کا کام نہیں ہے ۔ ہم کو اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے چاہے حکومت میں کوئی بھی ہو۔

TOPPOPULARRECENT