Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / نوٹ بندی کا فیصلہ عامرانہ‘ عوام مخالف اور غیرجمہوری

نوٹ بندی کا فیصلہ عامرانہ‘ عوام مخالف اور غیرجمہوری

معروف سماجی تنظیم انہد سمیت ملک کے 32رضاکا رتنظیموں کی جانب سے نوٹ بندی پر تیار کی گئی سالانہ رپورٹ پیش کی گئی‘ عوامی سطح پر فیصلہ قابل قبول نہیں‘ معروف سائنس داں گوہر رضا نے کہاکہ خود وزیراعظم نے کہاکہ تھا کہ ان کا فیصلہ عامرانہ تھا‘ کیونکہ انہوں نے اپنے وزراء تک سے مشورہ نہیں لیا۔
نئی دہلی۔نوٹ بندی کے خلاف اب حزت اختلاف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملک کی رضاکارانہ تنظیمیں بھی میدان میں اگئی ہیں اور وزیراعظم کے فیصلے کو عامرانہ‘ عوام مخالف او رغیرجمہوری قراردے رہی ہیں۔معروف سماجی تنظیم انہد سمیت ملک کے 32رضاکا رتنظیموں کی جانب سے نوٹ بندی پر سالانہ رپورٹ ’’ڈیامونا ٹائزیشن ایکسر سائز نگ دی ڈیمون‘‘ کے عنوان سے پیش کی جس کا مطلب ہے کہ راکشس کو ختم کرنا۔ ویمن پریس کلب میں رپورٹ فلم بند کرنے والے معروف سماجی کارکن پی وی ایس کمار‘ معروف سائنس داں گوہر رضا‘ ڈاکٹر سبودھ موہنتی‘ اکٹر جان دیال‘ شبنم ہاشمی وغیر ہ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے کیانیز رپورٹ کا خلاصہ میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

مذکورہ رپورٹ کو نوٹ بندی کے سبب جان گنوانے والوں کے نام سے موسوم کیاگیا۔واضح رہے کہ پچھلے سال8نومبر وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کیاتھا کہ آج رات بارہ بجے سے پانچ سو او رایک ہزار کے نوٹ کاغذ کے تکڑے ہوجائیں گے۔ اس اعلان کے بعد ملک میں افرتفری پیدا ہوگئی تھی اور اس کی وجہہ سے بینکوں کی قطار میں کھڑے اور مختلف وجوہات کی بناء پر ایک سوسے زائد لوگوں کی موت واقعہ ہوگئی تھی۔

رضاکارانہ تنظیمو ں نے نوٹ بندی کے متعلق 21صوبوں میں عوامی سطح پر بات چیت کی ۔ اس کے لئے تنظیم کی جانب سے96سوالات تیار کئے گئے تھے جو عوام سے پوچھے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ڈسمبر2016سے مارچ2017تک 3648انٹرویو کئے گئے تھے۔اس میں 16سے 35سال کی عمر والو ں کو ترجیح دی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق 55فیصد لوگوں نے اس بات سے صاف طور پر انکار کردیا کہ نوٹ بندی سے کالے دھن پر روک لگے گی۔جبکہ26فیصد لوگوں نے اس اقدام سے کالے دھن پر لگام لگنے کی بات کو قبول کیااور17فیصد لوگوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

رپورٹ کے مطابق 48فیصد لوگوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ نوٹ بندی کی وجہہ سے دہشت گردی پر لگام لگے گی اور26فیصد نے قبول کیا کہ یہ ممکن ہے جبکہ 25فیصد لوگوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جبکہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ 60فیصد لوگوں نے اس بات کو قبول کیاہے کہ نوٹ بندی کا فائدہ کارپوریٹ گھرانوں کو ہوا ہے اور26فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ اس سے حکومت کوفائدہ ہوا ہے ۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق 83فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہہ سے نچلی سطح کے لوگوں کو سخت ترین پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔

رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ اس فیصلے سے حکومت کا راکشسی چہرے بے نقاب ہوا ہے۔اس کے علاوہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گوہر رضا نے کہاکہ مذکورہ فیصلہ وزیراعظم کا غیرجمہوری او رعامرانہ تھا جس کااعتراف انہو ں نے خود کیاہے۔نوٹ بندی کے اعلان میں وزیراعظم نے کہاتھا کہ میں نے اس سلسلہ میں اپنے وزرا تک کو مشورہ میں شامل نہیں کیابلکہ یہ فیصلہ میرا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ اچھا فیصلہ ہویابرا فیصلہ مگر جمہوریت میں ذاتی فیصلے نہیں ہوا کرتے کیونکہ یہ جمہوری نظام کی توہین ہے۔

اپوزیشن جماعتیں یوم سیاہ منارہی ہیں تو آپ ان کے ساتھ ہیں؟اس سوال پر گوہر رضا کہاکہ یقیناًہم ان کے ساتھ ہیں کیونکہ نوٹ بندی غیرائینی اقدام ہے یہ فاشزم کو ظاہر کرتا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ ایمرجنسی کا فیصلہ ہویانوٹ بندیکا یہ جمہوریت میں قابل قبول نہیں ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ ہم اس کے خلاف نوٹ بندی کی سالگرہ کے موقع پر یوم سیاہ منائیں گے جبکہ اس ضمن میں حکومت جشن منارہی ہے۔

گوہر رضا نے کہاکہ معصوم اور بے گناہ لوگوں کی مو ت پر جشن منایاجارہاہے تو ایسا جشن حکومت کو مبارک۔ انہد کے علاوہ ال انڈیاویمن کانفرنس‘ آشئے‘ ادھیکار ابھیان‘ آسراء منچ‘ بی 4فاونڈیشن‘ بہار امبیڈکر اسٹوڈنٹ فورم‘ بریڈس ‘ سکیوڈیکن‘ سی ای سائی ائی وغیرہ شامل تھے

TOPPOPULARRECENT