Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / نوٹ بندی کیخلاف آج بھارت بند

نوٹ بندی کیخلاف آج بھارت بند

اپوزیشن جماعتیں منقسم ،کرپشن اور کالے دھن کے خاتمہ میں رکاوٹ کا الزام :مودی

نئی دہلی /خوشی نگر (اُترپردیش)۔ 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں بڑی کرنسی کا چلن بند کرنے مودی حکومت کے فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں نے غیرمعمولی اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا لیکن کل ’’بھارت بند ‘‘کے بارے میں اپوزیشن کی رائے منقسم ہوگئی ہے ۔ بائیں بازو جماعتوں بشمول سی پی آئی اور سی پی آئی ایم نے بطور احتجاج مغربی بنگال میں 12 گھنٹے بند کا اعلان کیا ہے لیکن ترنمول کانگریس اس احتجاج میں شریک نہیں ہوگی ۔ کانگریس نے بھی بند میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ (خبر صفحہ 3 پر) جنتادل (یو) بھی اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج میں شریک نہیں ہوگی ۔ اڈیشہ میں حکمراں اے جے پی بھی احتجاج میں شریک نہیں ہورہی ہے اور پارٹی لیڈر و چیف منسٹر نوین پٹنائک نے نوٹ بندی کے فیصلے کی ستائش کی تھی ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس بھارت بند کی اپیل پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ان کا یہ بھارت بند نوٹوں کی منسوخی کے خلاف ہے۔ یہ لوگ کرپشن اور کالے دھن کے صفایا کی راہ میں حائل ہورہے ہیں۔ ایک ایسے وقت جب میں ملک میں رشوت اور کالا دھن کا خاتمہ کرنا چاہتا ہوں، یہ پارٹیاں اس میں رخنہ ڈالنا چاہتی ہیں۔ وزیراعظم مودی نے اُترپردیش کے مشرقی حصہ میں بی جے پی پریورتن یاترا ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کالا دھن اور رشوت کا بازار روکنے کی کوشش کررہے ہیں اور کچھ لوگ ’’بھارت بند‘‘ کی اپیل کررہے ہیں۔ کسی بھی اپوزیشن پارٹی کا نام لئے بغیر نریندر مودی نے کہا کہ کیا ملک میں اس طرح کا بھارت بند ہونا چاہئے یا کرپشن کے راستوں کو بند کردینا چاہئے۔ کئی اپوزیشن پارٹیوں نے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو منسوخ کردینے مرکز کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کل بھارت بند کی اپیل کی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ نہایت ہی سخت ہے لیکن مستقبل تابناک اور روشن ہے۔ مواضعات میں دیہی عوام کے بشمول عام آدمی کو درپیش مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ اب ای والیٹ راستہ اختیار کریں۔ رقم نکالنے میں اگر عوام کو مشکل ہورہی ہے تو اس کا بہترین راستہ ای والیٹ ہے۔ اب والیٹ (پاکٹ) کا دور ختم ہوچکا ہے۔ اب آپ اپنے موبائل فون کو اپنے بینک برانچ کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ اس فون سے آپ اپنی تصاویر لے سکتے ہیں اور انہیں دوستوں کو روانہ کرسکتے ہیں۔ مودی نے کہا کہ جو لوگ موبائل فونس کس طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں، یہ سیکھنے کے لئے کلاسیس میں شرکت نہیں کی، اب وہ اس ڈیوائس کو استعمال کرسکتے ہیں اور مالیاتی لین دین انجام دے سکتے ہیں۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ تبدیلی چاہتے ہو تو مسائل بھی پیدا ہوں گے۔ میں نے آپ سے 50 دن مانگے تھے، ابھی 30 دن باقی ہیں اور حکومت تمام کوشش کررہی ہے کہ عوام کی پریشانیوں دور کی جائیں۔ کیا آپ نے اسکول جاکر یہ سیکھا ہے کہ موبائل فون کو کس طرح چارج کیا جائے؟ آپ نے واٹس ایپ استعمال کرنا سیکھا ہے۔

اب ٹیکنالوجی بہت ہی آسان ہوگئی ہے۔ اگر آپ کا ایک بینک اکاؤنٹ ہے تو آپ جو چاہئے خرید سکتے ہیں۔ کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ پر عمل آوری میں بعض کمزوریوں پر اپوزیشن پارٹیوں نے ہنگامہ برپا کردیا ہے اور کئی دنوں سے پارلیمنٹ کی کارروائی روک دی ہے۔ اس پر مودی نے کہا کہ میں اچھی طرح واقف ہوں کہ عوام کو پریشانی ہورہی ہے۔ رقم نہیں ہونے سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے لیکن مرکز کی این ڈی اے حکومت پوری طرح سے غریب کے لئے وقف ہوچکی ہے۔ کسانوں، دیہی عوام اور دلتوں کے لئے وہ ہر دم تیار ہے۔ ہجوم کی جانب سے زبردست تالیوں کی گونج میں مودی نے کہا کہ میری حکومت غریبوں کی حکومت ہے۔ نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر متحدہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں مرکز پر شدید تنقید کررہی ہے۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے اس اقدام کو سراسر انتظامی ناکامی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت اپنی دانش میں قدم اٹھاکر منظم طریقہ سے لوٹ مار مچا رہی ہے اور غلطیوں اور خرابیوں کو جائز بنا رہی ہے۔ اس طرح کی نادانیوں کی وجہ سے ملک کا جی ڈی پی 2% کم ہوگیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابی تیاریوں میں مصروف ریاست یوپی میں سماج وادی پارٹی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ وہ کسانوں کے لئے وضع کردہ مرکزی اسکیموں پر عمل آوری میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ انہوں نے جلسہ عام میں عوام کی کثیر تعداد میں شرکت پر اظہار تشکر کیا ۔
اور کہا کہ 2014ء کے انتخابات میں انہوں نے خود وارناسی سے مقابلہ کیا تھا۔ وہ ریاست کے کئی علاقوں کا دورہ کرچکے ہیں، لیکن آج عوام کا اتنا بڑا ہجوم اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا، آج کے جلسہ کا تقابل کیا جائے تو اس سے نصف تعداد میں ہی لوگ جلسہ گاہ میں دکھائی دیتے تھے لیکن اب ایک بڑا جم غفیر مجھے دیکھنے میری تقریر سننے کے لئے جمع ہوا ہے۔ اس جلسہ میں خواتین کی کثیر تعداد بھی موجود ہے۔ میں خواتین مجھے آشیرواد دینے کے لئے آئی ہیں۔ آپ نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے تو میں آپ کچھ سے غداری نہیں کروں گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ڈیجیٹل انڈیا کا ساتھ دیں۔

TOPPOPULARRECENT