Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / نوٹ بندی کے اثرات کو جملہ گھریلو پیداوار سے علیحدہ کرنا ممکن نہیں

نوٹ بندی کے اثرات کو جملہ گھریلو پیداوار سے علیحدہ کرنا ممکن نہیں

کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے ۔ راجیہ سبھا میں منسٹر آف اسٹیٹ فینانس سنتوش کمار گنگوار کی وضاحت
نئی دہلی 18 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت نے آج کہا ہے کہ نوٹ بندی کے اثرات کو ملک کی جملہ گھریلو پیداوار سے الگ کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کئی عوامل پر انحصار کرتی ہے جن میں مالیاتی پہلو بھی شامل ہے ۔ وزیراعظم نریندرمودی نے 8 نومبر 2016 کو ایک ہزار روپئے اور پانچ سو روپئے کے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کا اچانک اعلان کردیا تھا ۔ مودی کا دعوی تھا کہ اس اعلان کا مقصد کالے دھن ‘ جعلی کرنسی اور رشوت کے خاتمہ کو یقینی بنانا تھا ۔ وزیر اعظم کے اس اعلان کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا اور اسی وقت سے یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے کہ اس فیصلے کے ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ منسٹر آف اسٹیٹ فینانس سنتوش کمار گنگوار نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی ملک کی جملہ گھریلو پیداوار کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے جن میں مالیاتی امور بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی امور پر نوٹ بندی کے جزوی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مسٹر گنگوار نے کہا کہ اس صورتحال میں نوٹ بندی کے اثرات کو جملہ گھریلو پیداوار سے الگ تھلگ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ مرکزی حکومت کے تحت کام کرنے والے دفتر اعدادو شمار کی جانب سے حال ہی میں تازہ ترین اعداد و شمار جاری کئے گئے ہیں ۔

اس تازہ ترین تخمینہ کے مطابق سال 2015-16 اور سال 2016-17 کیلئے جملہ گھریلو پیداوار کا مستقل مارکٹ قیمت کا نشانہ 8 فیصد رکھا گیا تھا ۔ اس سوال پر کہ آیا حکومت نے ان گھرانوں کی نشاندہی کرلی ہے جن کو گذشتہ سال نومبر میں کئے گئے نوٹ بندی کے فیصلے سے نقصان ہوا ہے یا جن گھروں میں ملازمتیں چلی گئی ہیں ان کی نشاندہی کی گئی ہے مسٹر گنگوار نے کہا کہ اس طرح کی کوئی سرکاری رپورٹ حکومت کو موصول نہیں ہوئی ہے ۔ ایک علیحدہ سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ 7جولائی 2017 کو پردھان منتری مدرا یوجنا کے تحت قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد 8.19 کروڑ تک پہونچ گئی تھی جن میں 6.20 کروڑ خواتین شامل تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ قرض حاصل کرنے والوں میں 2.46 کروڑ کی تعداد نئے تاجروں کی تھی ۔ وزیر موصوف نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے حکومت کو اطلاع دی ہے کہ بینکوں کیلئے ایسا کوئی سرکلر جاری نہیں کیا گیا ہے کہ بینک لاکرس سے اشیا کے سرقہ پر صارفین کو معاوضہ ادا کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی بینک کو ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے اس طرح کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے ۔ اپنے حدود میں لاکرس کو محفوظ رکھنا بینکوں کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی نقصان کیلئے متعلقہ بینک ہی ذمہ دار ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں جملہ 344 واقعات رہزنی ‘ چوری ‘ ڈاکہ زنی اور نقب زنی کے پیش آئے ہیں۔ اسی طرح بینک آف بڑودہ میں 188 واقعات ‘ آئی سی آئی سی آئی بینک میں 103 واقعات اور ایچ ڈی ایف سی بینک میں 67 واقعات پیش آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان واقعات کی تعداد گذشتہ تین سال پر مبنی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT