Monday , April 23 2018
Home / شہر کی خبریں / نوٹ بندی کے باوجود نقلی نوٹ کی تیاری و چلن

نوٹ بندی کے باوجود نقلی نوٹ کی تیاری و چلن

حیدرآباد ۔ /15 اپریل (سیاست نیوز) نوٹ بندی کے باوجود بھی نقلی نوٹس کی تیاری اور اس کے کاروبار میں ملوث افراد نے اپنے کاروبار سے دستبرداری اختیار نہیں کی بلکہ زائد مقدار میں نقلی نوٹس تیار کرنے لگے ۔ اسٹیٹ فارنسک لیباریٹریز کو نقلی نوٹس کو جانچ کرنے کے بوجھ میں اضافہ ہوا ہے ۔ نومبر سال 2016 ء میں نوٹ بندی کے بعد حکومت نے 2000 ، 500 اور 200 روپئے کے نئے نوٹس متعارف کئے تھے اور نقلی نوٹ کا کاروبار کرنے والے افراد اس کی نقل کرتے ہوئے کچھ ہی دنوں میں نقلی نوٹ تیار کرنے لگے ۔ پولیس نے نقلی نوٹ کے کاروبار کرنے والے افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے ریاست بھر میں 35 مقدمات درج کئے تھے اور ان کے قبضے سے برآمد ہونے والے نقلی نوٹس کی جانچ اور تصدیق کیلئے اسٹیٹ فارنسک لیباریٹری کو روانہ کیا تھا ۔ ذرائع کے بموجب فارنسک لیباریٹری میں 35 کیسیس میں 15 کیس 2000 روپئے ، 10 کیس 500 روپئے اور 5 کیس 200 روپئے کے نوٹس سے متعلق ہے ۔ فارنسک لیباریٹری کے ذرائع نے بتایا کہ دھوکے بازوں نے اسکیاننگ (ڈی ٹی پی) کے ذریعہ نقلی نوٹ تیار کئے تھے ۔ ضبط شدہ کرنسی نوٹس کا سائنٹفک طور پر تجزیہ کیا جاتا ہے اور ریزرو بینک آف انڈیا سے کرنسی نوٹس سے متعلق تمام تفصیلات حاصل کرتے ہوئے ان نوٹس کی جانچ کی جاتی ہے ۔ فارنسک لیباریٹری کی جانب سے فراہم کی گئی رپورٹ کی بنیاد پر ہی تحقیقاتی عہدیدار اپنے کیس میں پیشرفت کرتے ہوئے ملزمین کے خلاف عدالت میں مزید کارروائی کرسکتے ہیں ۔ نوٹ بندی کے بعد نقلی نوٹوں کا کاروبار کرنے والے افراد نے زیادہ تر 2000 روپئے کے نوٹس تیار کئے تھے جبکہ دیگر دھوکے بازوں کی جانب سے بھی 100 ، 50 ، اور 20 روپئے کے نوٹس بھی تیار کئے گئے تھے ۔ واضح رہے کہ نومبر سال 2016 ء میں رچہ کونڈہ پولیس نے 6 افراد کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے قبضے سے 2000 روپئے کے نقلی نوٹس برآمد کئے تھے اور یہ کارروائی پولیس نے نوٹ بندی کے کچھ ہی دنوں بعد کی تھی ۔ اسی طرح ڈسمبر سال 2017 ء میں پولیس نے بین ریاستی دھوکے بازوں کی ٹولی کو گرفتار کیا تھا جو ایک تاجر کو اصلی نوٹ کے عوض زیادہ مقدار میں نقلی نوٹس فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے ٹھگ لیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT