Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / نوٹ بندی کے بعد اراضی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، رئیل اسٹیٹ تجارت بھی برقرار ، حکومت کے ہراج کردہ اراضیات سے کروڑہا روپئے وصول

نوٹ بندی کے بعد اراضی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، رئیل اسٹیٹ تجارت بھی برقرار ، حکومت کے ہراج کردہ اراضیات سے کروڑہا روپئے وصول

حیدرآباد ۔ 19 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد اور ضلع رنگاریڈی میں اراضی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔ نوٹ بندی کا رئیل اسٹیٹ کاروبار پر کوئی اثر دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے ۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے ہراج کی گئی اراضی کو بھاری قیمت وصول ہوئی ہے ۔ رائے درگم میں ایک ایکڑ اراضی کو42.59 کروڑ روپئے وصول ہوئے ہیں 88 ہزار میں فی گز اراضی فروخت ہوئی ہے ۔ حکومت کے ہراج کو زبردست ردعمل حاصل ہوا ہے ۔ 5 ایکڑ اراضی فروخت کرنے پر حکومت کو 185 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ 10 سال قبل متحدہ آندھرا پردیش میں جب پہلی مرتبہ رائے درگم میں سرکاری اراضی ہراج کی گئی تھی تب رئیل اسٹیٹ عروج پر رہنے کے باوجود ایک ایکڑ اراضی کی قیمت 20 کروڑ روپئے بھی حاصل نہیں ہوئی تھی ۔ گذشتہ سال ٹی ایس آئی آئی سی کی جانب سے اراضی ہراج کرنے پر فی ایکڑ 29 کروڑ روپئے فروخت ہوئی تھی ۔ حیدرآباد میں اراضی خریدنے کے لیے کارپوریٹ ادارے ، کمپنیوں اور دوسروں کی جانب سے دلچسپی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ جس کی وجہ سے ایک سال میں اراضی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ ٹی ایس آئی آئی سی کی جانب سے آن لائن کے ذریعہ اراضیات کا ہراج کیا گیا ۔ رائے درگم کے دوبٹس کے لیے ٹنڈرس طلب کئے گئے ۔ رائے درگم کے قریب ایس بی ایچ کے پاس موجود ڈھائی ایکڑ 84 سینٹ اراضی فی ایکڑ 42.59 کروڑ روپئے کے حساب سے آدتیہ گورا بلڈرس نے خریدلی ہے ۔ اس کے علاوہ آٹیکیا شوروم کے قریب موجود ڈھائی ایکڑ 15 سینٹ اراضی فی ایکڑ 29.33 کروڑ روپئے کے حساب سے ایم ایس این لائف سائنس نے حاصل کی ہے ۔ دونوں مقامات کی اراضیات فروخت کرنے سے سرکاری خزانے میں 185 کروڑ روپئے جمع ہوئے ہیں ۔ رائے درگم خانہ میٹ کے علاقے میں اراضیات ہراج کرنے کے لیے ٹی ایس آئی آئی سی نے 10 مئی کو اعلامیہ جاری کیا تھا ۔ ریاست کی تقسیم کے بعد عوام میں یہ تجسس پایا جارہا تھا کہ اراضی کی قیمتیں گھٹ جائیں گی ۔ مختلف اداروں اور شخصیتوں کی جانب سے بھی یہی تاثر دیا جارہا تھا ۔ رائے درگم کی اراضی فی ایکڑ 42 کروڑ فروخت ہونے کے بعد تمام غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں ۔ ٹی آر ایس حکومت کی نظم و نسق پر مضبوط پکڑ اور لا اینڈ آرڈر پوری طرح کنٹرول میں رہنے کی وجہ سے بڑے بڑے ادارے حیدرآباد میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے اپنی دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں ۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار زوروں پر جاری ہے ۔ کئی کمپنیاں حیدرآباد کا رخ کررہی ہیں جس کی وجہ سے اراضیات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT