Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / نوٹ بندی کے بعد درج انکم ٹیکس مقدمات کی تحقیقات میں سرعت

نوٹ بندی کے بعد درج انکم ٹیکس مقدمات کی تحقیقات میں سرعت

دھاندلیوں کی سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سے جانچ ، عہدیداروں کی نقل و حرکت پر گہری نظریں
حیدرآباد۔8۔ ڈسمبر(سیاست نیوز) محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے درج کردہ مقدمات کی تحقیقات میں تیزی پیدا کردی گئی ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے 8نومبر کو بڑی کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کا اعلان کئے جانے کے بعد سے اب تک محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے 400مقدمات درج کئے جا چکے ہیں جن میں رقمی معاملتوں میں بے قاعدگیوں اور کرنسی کی تبدیلی کے معاملہ میں کی جانے والی دھاندلیوں کے 30مقدمات کو انکم ٹیکس نے سی بی آئی اور انفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ کو حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کی جانب سے نوٹو ںکی تنسیخ کے بعد سے اب تک 130کروڑ نقد و زیورات ضبط کئے گئے ہیں اور 2000کروڑ مالیت کے غیر محسوب اثاثہ جات کا ٹیکس دہندگان نے انکشاف کیا ہے جن کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ انکم ٹیکس اور سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس نے فیصلہ کیا ہے کہ دھاندلیوں و بدعنوانیوں کے علاوہ رقمی تبدیلیوں کے فوجداری مقدمات کی تحقیقات انفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ یا سی بی آئی کو تفویض کی جائے تاکہ محکمہ انکم ٹیکس معاشی جرائم بالخصوص ٹیکس چوری کے مقدمات کا جائزہ لیتے ہوئے حالات کو معمول پر لانے اور خرد برد کرنے والوں کے خلاف کاروائی انجام دے سکے۔بتایا جاتا ہے کہ بینکوں کے ذمہ دار عہدیداروں اور دیگر سرکاری ملازمین جن کے خلاف رقمی معاملتوں میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں ان کے تمام تر مقدمات کو سی بی آئی کے حوالہ کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسی طرح بڑی رقومات کے معاملات خواہ وہ سرکاری ہو یا خانگی انہیں ای ڈی اور ریوینیو انٹلیجنس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان مقدمات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ساتھ عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بنایا جا سکے۔سی بی آئی کو بینک اہلکاروں کی تفصیل حوالہ کرنے کے علاوہ مشتبہ افراد کی فہرست بھی حوالہ کردی گئی ہے اس کے علاوہ محکمہ ریوینیو انٹلیجنس کے عہدیداروں کو بھی چوکسی برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ کسی بھی طرح کی مالیاتی بدعنوانیوں کے خلاف کاروائی کی جا سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت کی ان ایجنسیوں کی جانب سے مقامی عہدیداروں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیداروں کو موصولہ اطلاعات کے بموجب بعض مقامی عہدیداران رقمی تبدیلیوں کے متعلق اطلاعات رکھنے کے باوجود خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان کی اس خاموشی کی وجوہات کا پتہ لگایا جا رہا ہے تاکہ ان کے ملوث ہونے کے ثبوت پائے جانے کی صورت میں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT