Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / نوٹ بندی کے بعد مرکزی حکومت حالات پر قابو پانے میں ناکام

نوٹ بندی کے بعد مرکزی حکومت حالات پر قابو پانے میں ناکام

اسمبلی میں وزیراعظم پر تنقید، چیف منسٹر اور محمد علی شبیر میں لفظی جھڑپ
حیدرآباد ۔ 17 ڈسمبر (سیاست نیوز) وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے پر چیف منسٹر کے سی آر اور قائد اپوزیشن محمد علی شبیر میں لفظی جھڑپ ہوگئی۔ کے سی آر نے محمد علی شبیر کی جانب سے 8 نومبر کو یوم سیاہ قرار دینے اور مرکزی حکومت ناکام ہوجانے کا الزام عائد کرنے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے مفاد میں لیا گیا فیصلہ ہے۔ اس پر مباحث کرنے اور صحیح و غلط قرار دینے کا اسمبلی و کونسل کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگر تنقید کی گئی تو قواعد کی خلاف ورزی ہوگی۔ وزیراعظم، مرکزی حکومت اور ایوان میں موجود نہ رہنے والوں کو تنقید کا نشانہ نہ بنائے اور مرکزی حکومت پر نوٹ بندی کے معاملے میں ناکام ہوجانے کا الزام بھی عائد نہ کریں۔ وزیراعظم نے عوام سے 50 دن کی مہلت طلب کی ہے۔ لہٰذا صدرنشین کونسل مرکزی حکومت ناکام ہونے کے ریمارک کو ریکارڈ سے حذف کردیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وہ حقائق پیش کررہے ہیں۔ منسوخ شدہ 95 فیصد نوٹ بینکوں میں پہنچ چکے ہیں۔ قائد اپوزیشن نے چیف منسٹر کو یاد دلایا کہ ضلع کھمم کے 7منڈل کو مرکزی حکومت نے آندھراپردیش میں شامل کردیا تھا تب چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسمبلی میں قرارداد منظور کرکے مرکز کو روانہ کی تھی۔ ایسی روایت ریاست میں موجود ہے۔ چیف منسٹر نے قائد اپوزیشن محمد علی شبیر کی جانب سے ان پر کی گئی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وزیراعظم سے ملاقات کو معاملت ہوجانے کا الزام عائد کیا تھا۔ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے دوران اپنی بات تو نہیں کریں مگر رضاکارانہ طور پر انکشاف کئے جانے والے غیرمحسوب دولت کے بارے میں بات چیت کرچکے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 50 فیصد رقم مرکزی حکومت کو دینا ہے۔ اگر محمد علی شبیر کے کوئی دوست ہیں تو بولئیے کچھ ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT