Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / نوٹ بندی کے بعد میاں بیوی کے جھگڑوں میں اضافہ

نوٹ بندی کے بعد میاں بیوی کے جھگڑوں میں اضافہ

روزمرہ کا سودا سلف لانے کے لیے بھی پیسہ نہیں ، گرہست خواتین کی شکایات
حیدرآباد ۔ 7 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : وزیراعظم نریندر مودی کے نوٹ بندی فیصلہ نے بیشتر خاندانوں میں جھگڑے پیدا کردئیے ہیں ۔ نوٹ بندی سے معاشی ابتری کی خبریں تو عام ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ کی شکایات موصول ہورہی ہیں ۔ ہر شہری نوٹوں کی قلت کا شکار نظر آرہا ہے ۔ دن بھر کی تھکان اور اضطرابی کیفیت کے ساتھ لوگ اپنے گھر واپس ہوتے ہیں تو گھر کے اندر کی صورتحال نازک دکھائی دیتی ہے ۔ شہر میں کی خواتین کی گھریلو زندگی محض نوٹ بندی کی وجہ سے انتشار کا شکار ہوچکی ہے ۔ میاں بیوی میں جھگڑے بڑھ رہے ہیں ۔ خواتین کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور رضاکار اداروں کو ملنے والی شکایات سے پتہ چلتا ہے کہ میاں بیوی میں گھریلو اخراجات اور کرنسی کے مسئلہ کو لے کر بحث و تکرار اب معمول کا عمل بن گیا ہے ۔ کونسلنگ سنٹروں میں خواتین کے ساتھ شوہروں کی زیادتیوں اور مار پیٹ کی شکایات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ شہر میں مہیلا پولیس اسٹیشنوں میں جہاں خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے عملہ موجود ہے وہاں اب نئے مسائل کے ساتھ رجوع ہونے والی خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔شہر کی رضاکار تنظیموں نے بتایا کہ ان کے پاس درجنوں خواتین رجوع ہو کر گھریلو تشدد میں اضافہ کی شکایت کررہی ہیں ۔ نوٹ نہ ملنے کے بعد شوہروں میں چڑچڑا پن بڑھ گیا ہے ۔ 30 تا 40 سال کی عمر کی خواتین اپنی گھر کی روزمرہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں ۔ بال بچے والے خاندانوں میں خاص کر میاں بیوی کے جھگڑوں نے زندگی کو اجیرن بنادیا ہے ۔ رضاکارانہ طور پر کام کرنے والی سماجی تنظیموں اور کونسلنگ سنٹرس پر ایسی متاثرہ خواتین کی شکایات کے ازلہ کے لیے کوشش کی جاری ہے ۔ گرہست خواتین عموماً بچت اور کفایت شعاری کی عادی ہوتی ہیں مگر نوٹ بندی نے انہیں بچت یا کفایت شعاری کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی ۔ جن گھروں میں بیوی اور شوہر کام کرتے ہیں وہاں پیسوں کا مسئلہ نہیں ہوتا ۔ اس لیے جھگڑے کی نوبت کم آرہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT