Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / نوٹ بندی کے تباہ کن اثرات کیلئے نریندر مودی تنہا ذمہ دار

نوٹ بندی کے تباہ کن اثرات کیلئے نریندر مودی تنہا ذمہ دار

بلیک منی اور جعلی کرنسی کی روک تھام میں ناکام۔ سی پی ایم لیڈر سیتا رام یچوری کا ادعا
نئی دہلی۔/8ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم نے آج نوٹ بندی کی وجہ سے معاشی بدحالی کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کو مورد الزام ٹہرایا ہے اور بتایا کہ پارلیمنٹ کے باہر پالیسی ساز بیانات دینے اور ایوان میں بحث سے راہ فراری اختیار کرنے پر ان کے خلاف توہین پارلیمنٹ کی نوٹس کی تجدید کی جائے گی۔ نریندر مودی کی جانب سے 8نومبر کی شب کرنسی نوٹوں کی اچانک منسوخی کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے سی پی ایم لیڈر سیتا رام یچوری نے کہا کہ ہمارے معاشی نظام کی تباہی کیلئے فرد واحد وزیر اعظم ذمہ دار ہیں کیونکہ یہ ان کا شخصی اعلان اور ذاتی فیصلہ تھا جس میں مرکزی کابینہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے لہذا انہیں پارلیمنٹ میں جواب دینا ہوگاکہ آخر وہ کیوں بحث سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں؟ ۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے آج راجیہ سبھامیں نریندر مودی حاضر کیوں نہیں تھے جبکہ وزیر اعظم کے دفتر ( پی ایم او ) سے متعلق سوالات کے جوابات طلب کرنے کیلئے ایک فہرست ترتیب دی گئی تھی۔ گوکہ وزیر اعظم ایوان میں بیٹھنے سے پس و پیش کررہے ہیں لیکن عوامی جلسوں میں مسلسل پالیسی ساز بیانات دیئے جارہے ہیں جو کہ پارلیمنٹ کے اصولوں اور قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ حتی کہ آج بھی پارلیمنٹ کے باہر کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشن ( لین دین ) پر سرویس ٹیکس کی معافی کا اعلان واضح خلاف ورزی ہے جبکہ کوئی بھی ٹیکس تجویز پارلیمنٹ کے سوا کہیں اور پیش نہیں کی جاسکتی۔ سیتا رام یچوری نے کہا کہ وزیر اعظم کی تجویز کی وجہ سے ترقیاتی فنڈ کیلئے بہت ہی کم رقومات حاصل ہوں گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ پارلیمنٹ کے باہر بیانات دیتے ہوئے ایوان کی توہین کیوں کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج پھر ایک مرتبہ ہتک نوٹس صدر نشین راجیہ سبھا حامد انصاری نے پیش کی ہے اور اس خصوص میں رولنگ دینے کی گذارش کی گئی ہے جس پر غور و خوض کیلئے مراعات کمیٹی کجا اجلاس کل طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے اثرات کے تمام پہلوؤں بشمول 100 سے زائد افراد کی اموات، عوام کو درپیش مشکلات و مصائب اور بھاری رقومات کے ساتھ بی جے پی لیڈروں کی گرفتاری کی جانچ پڑتال کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے مطالبہ کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے تائید کی ہے۔ وزیر اعظم کا یہ دعویٰ ہے کہ بلیک منی، کرپشن اور جعلی کرنسی کی روک تھام کیلئے نوٹ بندی کا قدم اٹھایا گیا ہے لیکن آر بی آئی نے حال ہی میں یہ انکشاف کیا کہ اعلیٰ قدر کے نئے کرنسی نوٹ اجراء کے بعد بینکوں میں واپس آگئے ہیں جو کہ 82فیصد یعنی کہ 11.86 لاکھ کروڑ مالیتی ہیں اور پرانے نوٹوں کے  تبادلے کیلئے 30ڈسمبر تک سہولت دی گئی ہے۔ اس طرح وزیر اعظم نے بلیک منی کو وائیٹ ( جائز دولت ) میں تبدیل کرنے کے لئے راہ ہموار کی ہے اور جعلی کرنسی کو قانونی شکل دے دی گئی ہے جس کے باعث نریندر مودی کا بنیادی مقصد ناکام ہوگیا۔

TOPPOPULARRECENT