Tuesday , November 21 2017
Home / Mera Column / نوٹ بندی کے فائدے

نوٹ بندی کے فائدے

میرا کالم                  سید امتیاز الدین
تین ہفتے پہلے ہم نے اپنے کالم میں آپ کو پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں کی منسوخی کی اطلاع دی تھی تو ہمارے بعض دوستوں نے ہمیں آڑے ہاتھوں لیا تھا کہ تمہاری دی ہوئی اطلاع  غیر ضروری اور بالکل باسی تھی کیونکہ ہم خود پردھان منتری سے یہ خوش خبری سن چکے تھے ۔ ہم شرمندہ ہوئے کہ واقعی ہم کو ایسی بات لکھنی چاہئے تھی جو ہمارے تجربات کا نچوڑ ہو اور جس سے ہماری انفرادیت ظاہر ہو۔
پرانے نوٹ کیا بند ہوئے مظاہروں ، جلوسوں ، احتجاجی نعروں کا شور مچ گیا ۔ پارلیمنٹ میںایک دن بھی کام نہیں ہوا ۔ بھارت بند کا اعلان ہوا جس سے ہمارے پوتے بہت خوش ہوئے کہ شاید اس دن اُن کو اسکول سے چھٹی مل جا ئے لیکن بھارت بند پھسپھسا ثابت ہوا۔ کچھ انتخابی نتیجے آئے جو سب کے سب تقریبا ً حکومت کے حق میں گئے ۔ ہم نے اپنے دماغ کو زحمت دی جو پانچ سو اور ہزار کے نوٹوں کی طرح ناکارہ ہوگیا تھا تو ہم کو اندازہ ہوا کہ نوٹ بندی میں نقصان کچھ نہیں بس فائدے ہی فائدے ہیں۔ قدیم زمانے میں لوگ حکیموں سے علاج کرواتے تھے اور صحت مند رہا کرتے تھے ۔ ہم نے ایک حکیم صاحب کے بارے میں سنا تھا کہ وہ اپنے فن میں اتنے ماہر تھے کہ مریض کا قارورہ دیکھ کر مریض کی تنخواہ اور اس کے بچوں کی تعداد بھی بتادیتے تھے ۔ حکیم حضرات ایسا لاجواب جلاب تجویز کرتے تھے کہ پورے خاندان کا پیٹ آئینے کی طرح شفاف ہوجاتا تھا۔ ہماری حکومت نے پہلے تو کروڑوں بنک کھاتے کھلوائے پھر سوچھ بھارت ابھیان کے تحت گھر گھر بیت الخلاء بنوائے ۔ ان ابتدائی بلکہ تمہیدی تیاریوں کے بعد نوٹ بندی کا تیر بہدف نسخہ تجویز کیا جس سے سفید پوش لوگوں کا کالا دھن دیکھتے ہی دیکھتے باہر آگیا ۔ ہم نوٹ بندی کو سوچھ بھارت ابھیان سے جوڑ کر دیکھتے ہیں تو ہم کو دونوں اسکیموں میں گہرا تعلق دکھائی دیتا ہے ۔
ہم نے ایک عرصہ سے صبح کی چہل قدمی چھوڑدی تھی ۔ دن بھر گھر بیٹھے مکھیاں مارا کرتے تھے ۔ سچ تو یہ ہے کہ شہر کے بعض راستے ہمارے ذہن سے نکل گئے تھے ۔ اب آپ سے کیا چھپائیں ایک دن پرانا پل جانے کیلئے نکلے تو مغلپورہ چلے گئے ۔ اب بینکوں اور اے ٹی ایم کی تلاش میں اتنا گھوم چکے ہیںکہ بیٹھے بیٹھے پورے شہر کا رائج الوقت نقشہ بناسکتے ہیں۔ گھومنے پھرنے بلکہ گھومتے پھرتے رہنے سے ہماری صحت روز بروز اچھی ہوتی جارہی ہے ۔ گھنٹوں اے ٹی ایم کی اور بینک کی قطاروں میں کھڑے رہنے سے جوڑوں کا درد تقریباً غائب ہوگیا ہے ۔ ہم ٹی وی پر ایک اشتہار اکثر دیکھا کرتے ہیں جس میں ایک ڈاکٹر کو اپنے کسی دوست سے بات کرتا دکھایا گیا ہے ۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ میں ہر روز کئی مریضوں کو دیکھتا ہوں، کئی مریضوں کی سرجری کرتا ہوں۔ رات میں آرام دہ نیند کیلئے فلاں کمپنی کا آرام دہ گدا یعنی Bed استعمال کرتا ہوں تاکہ صبح تازہ دم اٹھوں۔ ہم اس ڈاکٹر سے زیادہ خوش نصیب ہیںکہ ہمارا پرانا بستر بھی آج کل ہم کو راتوں میں آرام دہ نیند سلا رہا ہے ۔

جب سے نوٹ بندی کا یہ سنہرا دور شروع ہوا ہے ہمارے لئے قدیم دوستوں سے ملنا آسان ہوگیا ہے ۔ کبھی ہم کسی دوست کو فون کردیتے ہیں یا کبھی ہمارا دوست ہم کو فون کردیتا ہے کہ آج دن میں دس بجے سے شام کے چار بجے تک میں فلاں بینک  کی قطار میں رہوں گا ۔ اگر ایک فلاسک (Flask) میں چائے اور بسکٹ کا پیکٹ لالو تو کیا کہنا ۔ پانی کا بندوبست میں کر رہا ہوں۔ آج کل لوگ ہر قطار کو اے ٹی ایم کی قطار سمجھنے لگے ہیں ۔ دو تین دن پہلے ہم نے سنا کہ بنگلور شہر میں ایک کافی لمبی قطار کو دیکھ کر ایک صاحب نے اسے اے ٹی ایم کی قطار سمجھا اور قسمت آزمائی کیلئے قطار میں کھڑے ہوگئے ۔ دو گھنٹے کے بعد جب اُن کا نمبر آیا تو ان کو پتہ چلا کہ وہ اے ٹی ایم نہیں بلکہ گول گپے کی دکان تھی ۔ مجبوراً انہوںنے گول گپے کھائے اور تلاش  معاش میں نکل گئے ۔ نوٹ بندی کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ لوگ بیک وقت ایک سے زیادہ کام کرنے لگے ہیں۔ کل ہم نے ایک خاتون کو دیکھا کہ وہ قطار میں کھڑی سوٹر بُن رہی تھیں۔ ہم نے پوچھا کہ آپ کو کوئی دشواری تو نہیں ہورہی ہے ۔ کہنے لگیں کہ میں آرام سے سوٹر بن رہی ہوں۔ قریب الختم ہے ۔ دراصل میرے شوہر کو 8 نومبر کے بعد سے سردی زیادہ لگ رہی ہے ۔  میں نے سوچا کہ کیوں نہ یہی فرصت سے یہ کام بھی کرلوں۔ ایک پنتھ دوکاج ۔ ایک اور صاحب کو ہم نے دیکھا کہ وہ اپنے ساتھ ایک فولڈنگ چیر بھی لائے تھے ۔ خوش قسمتی سے بینک میں اعلان ہوا کہ کیاش دو بجے کے بعد آئے گا ۔ انہوںنے قطار میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی اور فولڈنگ چیر پر سو گئے۔

نوٹ بندی کے بعد لوگوں میں حقیقت پسندی کا جذبہ بھی پیدا ہوا ہے ۔ ا یک اسکول کے ا متحانی پرچہ میں سوال پوچھا گیا کہ ایک شخص کے بینک اکاؤنٹ میں پچاس ہزار روپئے ہیں۔ اُس نے چالیس ہزار کا چک بینک میں دیا بتاؤ کہ اب اس کے اکاؤنٹ میں کتنی رقم بچی۔ طالب علم نے جواب لکھا ’’وہ شخص میرے والد تھے  جوبینک میں رقم نہ ہونے کی وجہ سے نا کام واپس آگئے ۔ لڑکے کی ٹیچر نے اسے فل مارکس دے دیئے۔

چک پر ہمیں یاد آیا کہ ہمارے ایک دوست جو شادیوں میں پابندی سے شریک ہوتے ہیں۔ آج کل شادیوں میں دولہا دلہن کو سلامی کے طور پر خوش رنگ لفافوں میں چک دے رہے ہیں، اس اُمید کے ساتھ کہ دولہا دلہن چک بھنانے کیلئے لمبی قطار کے خوف سے جائیں گے ہی نہیں اور چک کی مدت ختم ہوجائے گی ۔
نوٹ بندی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ بیویوں کی قیمتی فرمائشیں بھی بند ہوگئی ہیں۔ ایک صاحب کی بیوی نے انگوٹھی کی فرمائش کردی تو انہوںنے کہا کہ دیوانی ہوئی ہو۔ جانتی نہیں جوہریوں کی دکانوں میں خفیہ کیمرے لگے ہیں۔ ادھر تم نے انگوٹھی پہنی اُدھر تمہارے ہاتھ میں ہتھکڑی ۔ بیوی نے فوراً فرمائش سے توبہ کرلی۔
نوٹ بندی کا سب سے بڑا فائدہ تو خیر غریبوں کو پہنچے گا اور نئی نئی فلاحی اسکیمات روبہ عمل لائی جائیں گی لیکن ہمیں خوشی ہے کہ اس عمدہ اسکیم کے تحت نابینا لوگوں کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے ۔ دو ہزار کے نوٹوں پر ابھری ہوئی لکیریں ہیں جنہیں چھو کر اندھا بھی اصلی نقلی کی پہچان کرلے گا ۔ پانچ سو اور ہزار کے نوٹ اندھوں کے لئے بھی اتنے ہی بے کار ہیں جتنے آنکھ والوں کیلئے ۔

آج کل لوگوں میں اخبار بینی کا شوق بھی بہت بڑھ گیا ہے ۔ اب تک لوگ فلموں کے اشتہارات یا عقد ثانی کے رشتوں پر زیادہ توجہ کرتے تھے لیکن اب اخبار بینی باریک بینی میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ نوٹ بندی اور اتنے بڑے پیمانے کی اچانک نوٹ بندی شاید ملک میں پہلی بار ہوئی ہے۔ اگر عوام اس تجربہ سے کچھ سیکھ رہے ہیں تو حکومت بھی سیکھ رہی ہے ۔ ہر روز ایک نئی بات ، نیا حکم صادر ہوتا ہے ۔ ہمارے پڑوسی نے عینک کے شیشے بھی بدلوالئے ہیں اور ایک محدب عدسہ بھی لے رکھا ہے ۔ بہرحال سارے ملک کو اخبار پابندی سے پڑھنے اور ٹی وی کے نیوز چیانل دیکھنے کا سہرا بھی نوٹ بندی کے سر جاتا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT