Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / نوٹ بندی کے 90 دن بعد بھی عوام مشکلات سے دوچار

نوٹ بندی کے 90 دن بعد بھی عوام مشکلات سے دوچار

پابندیاں ختم کرتے ہوئے راحت فراہم کی جائے، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا احتجاج

نئی دہلی۔8 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن جماعتوں نے نوٹ بندی کے 90 دن گزرنے کے بعد ہی بینکوں سے رقم نکالنے پر عائد پابندیوں کے خلاف حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ راجیہ سبھا میں کانگریس اور ٹی ایم سی کے ساتھ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا یہ موقف تھا کہ یہ مشکلات صرف 50 دن رہیں گی۔ 500 اور 1000 روپئے کی کرنسی کا چلن بند کرنے کے فیصلے پر سب سے زیادہ تنقید ترنمول کانگریس کررہی ہے اور اس نے راجیہ سبھا میں آج ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے کے لیے قاعدہ 267 کے تحت نوٹس دی۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس کی تائید کی۔ سکھیندھو شیکھر رائے (ٹی ایم سی) نے کہا کہ نوٹ بندی کے آج 90 دن پورے ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے یہ کہا تھا کہ 50 دن میں عام حالات بحال ہوجائیں گے اور انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر 30 ڈسمبر کے بعد عوام کو کسی طرح کی مشکل یا پریشانی کا سامنا ہو تو برسر عام کوئی بھی سزاء قبول کرنے کے لیے وہ تیار ہیں۔ شیکھر رائے نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ وزیراعظم کو کسی ’’چوراہے‘‘ پر کھڑا کیا جائے لیکن نقد رقم منہا کرنے پر تحدیدات 90 دن کے بعد بھی برقرار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے تمام تحدیدات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا

تاکہ عوام اپنی رقم اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرسکیں۔ اس وقت سیونگ بینک اکائونٹس کے ذریعہ ہر ہفتہ 24 ہزار روپئے منہا کرنے کی حد مقرر ہے۔ نائب صدرنشین پی جے کورین نے نوٹس کو منظور نہیں کیا اور کہا کہ اس مسئلہ پر پہلے ہی 12 گھنٹے بحث ہوچکی ہے۔ شیکھر رائے نے یہ دلیل پیش کی کہ صدر جمہوریہ کے خطبے پر تحریک تشکر کے دوران یہ بحث ہوئی تھی اور نوٹ بندی پر بحث ایک علیحدہ موضوع ہے۔ نائب صدرنشین نے اعتراف کیا کہ ٹیکنیکی طور پر تحریک میں اس کا مخصوص تذکرہ نہیں کیا گیا لیکن بحث میں یہ موضوع بھی شامل تھا۔ چنانچہ وہ مزید (نوٹس پر) بحث کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس موقع پر کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے احتجاج میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی اس مسئلہ پر بات کرنے کی اجازت دی جائے لیکن کورین نے اجازت نہیں دی جس کے نتیجہ میں تمام ارکان نے احتجاج شروع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تحریک کو مسترد کرچکے ہیں، لہٰذا کسی بھی رکن کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ارکان نے کچھ دیر تک اپنا احتجاج جاری رکھا اور اس کے بعد اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ پھر ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق جاری رہی۔

TOPPOPULARRECENT