نوکری تو نہیں جائے گی مگر میرا تبادلہ ضرور ہوگا:گورنر ستیہ پال ملک

سری نگر ، 28نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کے گورنر کی حیثیت سے اپنے بیانات، ریمارکس اور اقدامات کی وجہ سے مسلسل خبروں میں رہنے والے ستیہ پال ملک کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم نہیں کب میرا تبادلہ ہوگا۔ تاہم موصوف کا کہنا ہے کہ نوکری نہیں جائے گی۔ستیہ پال ملک نے گذشتہ روز جموں میں سابق کانگریسی راہنما، ممبر پارلیمنٹ اور ریاستی وزیر خزانہ گرداری لعل ڈوگرہ کے 31 ویں یوم وصال کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ‘میں جب تک یہاں ہوں (گرداری لعل کو خراج عقیدت پیش کرنے آیا کروں گا) ، اپنے ہاتھ میں نہیں ہے ، پتہ نہیں کب تبادلہ ہوجائے ۔ نوکری تو نہیں جائے گی مگر تبادلے کا خطرہ رہتا ہے ۔ جب تک میں یہاں ہوں ، میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ چھٹی بھیج دینا میں ضرورت پھول چڑھانے آیا کروں گا’۔گورنر ستیہ پال 21 نومبر کی شام ریاستی قانون ساز اسمبلی کو اچانک تحلیل کرنے کی وجہ سے سوالات کے گھیرے میں آگئے تھے ۔ گورنر موصوف نے 21 نومبر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا حکم نامہ اُس وقت جاری کیا تھا جب ان کے پاس مبینہ طور پر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی جنہیں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حمایت حاصل ہوگئی تھی، کا مکتوب پہنچا تھا جس میں ریاست میں حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کیا گیا تھا۔ گورنر کو بی جے پی کے حمایت یافتہ پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون کا بھی مکتوب پہنچا تھا۔ سجاد لون نے اپنے مکتوب میں کہا تھا کہ انہیں بی جے پی کے ساتھ ساتھ 18 دیگر ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اور وہ حکومت تشکیل دینے کے لئے درکار تعداد رکھتے ہیں۔گورنر ستیہ پال کی جانب سے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے معاملے پر اب تک متعدد بیانات سامنے آئے ہیں۔ موصوف نے گذشتہ روز مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ‘میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں۔ دلی کی طرف دیکھتا تو مجھے لون کی سرکار بنانا پڑتی۔ میں تاریخ میں ایک بے ایمان انسان کے طور پر جانا جاتا۔ میں نے اس معاملے کو ہی ختم کردیا، جو گالی دیں گے ، تو دیں گے ۔ لیکن میں مطمئن ہوں کہ میں نے ٹھیک کام کیا’۔اس سے قبل گورنر نے 22 نومبر کو راج بھون جموں میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں جو ٹھیک لگا وہی کیا، ناراض سیاسی جماعتیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے آزاد ہیں۔

ووٹنگ مرکز کے باہر فائرنگ
بھنڈ، 28 نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) مدھیہ پردیش کے ضلع بھنڈ میں ایک ووٹنگ مرکز کے باہر نامعلوم افراد کے ہوائی فائرنگ کے بعد پولیس نے احتیاطاًسکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر میں واقع جنتا کالج کے ووٹنگ مرکز کے باہر کچھ لوگوں نے ہوائی فائرنگ کی۔ اس سلسلہ میں نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور احتیاطاً سکیورٹی بڑھادی گئی ہے ۔ ضلع بھند کے کئی حصے انتخابات کے حوالے سے کافی حساس مانے جاتے ہیں۔ یہاں ووٹنگ کے مد نظر انتظامیہ نے تقریبا آدھا درجن امیدواروں کو ایک ساتھ بٹھا رکھا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT