Tuesday , January 23 2018
Home / سیاسیات / نوین پٹنائک چوتھی بار اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ

نوین پٹنائک چوتھی بار اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ

بھوبنیشور ۔ 21 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) اسمبلی انتخابات میں بی جے ڈی کو زبردست کامیابی سے ہمکنار کرنے والے نوین پٹنائک نے آج چوتھی بار اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا جو ایک ریکارڈ ہے ۔ ان کے علاوہ دیگر 21 وزراء نے بھی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی جن میں آٹھ بالکل نئے چہرے ہیں جبکہ سابقہ اسمبلی کے پانچ ارکان کو کوئی قلمدان نہیں د

بھوبنیشور ۔ 21 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) اسمبلی انتخابات میں بی جے ڈی کو زبردست کامیابی سے ہمکنار کرنے والے نوین پٹنائک نے آج چوتھی بار اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا جو ایک ریکارڈ ہے ۔ ان کے علاوہ دیگر 21 وزراء نے بھی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی جن میں آٹھ بالکل نئے چہرے ہیں جبکہ سابقہ اسمبلی کے پانچ ارکان کو کوئی قلمدان نہیں دیا گیا ۔ گورنر ایس ایس جامیر نے پٹنائک اور ان کے کابینی رفقاء کو راج بھون میں عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا 67 سالہ وزیر اعلیٰ نے حلف برداری کی تقریب سے قبل پوری میں واقع جگناتھ مندر میں بھی حاضری دی تاکہ بھگوان کا آشیرواد لیا جاسکے ۔ تقریب کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اڈیشہ کی حوشحالی اور ترقی کیلئے ہم ایک ٹیم کے طور پر کام کریں گے ۔ جن گیارہ ارکان نے پٹنائک کے ساتھ حلف لیا۔ ان میں پردیپ کمار امات ، ڈاکٹر دامودر راوت ، دیبی پرساد مشرا ، پردیپ مہارتھی ، بجے شری روترے ، بکرم کیشریاروکھ ، اوشا دیوی ، لال بہاری ہمیریکا، جوگیندر بہیرا، بدری نارائن پترا اور پشپندر سنگھ دیو شامل ہیں جبکہ دس ریاستی وزراء میں پرافل ملک ، رمیش چندر ماجھی ، اتانی سابھیا ساچی نائک ،

ارون مار ساہو، سنجے کمار داس برما ، سودم رانڈی ، اشوک مار پانڈا ، پرنب پرکاش داس ، پردیپ پانی گڑھی اسنیہگنی چھوریا شامل ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ چار بار ایم ایل اے رہ چکے پردیپ کمار امات سبکدوش ہونے والے اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نوین پٹنائک کے والد بیجو پٹنائک کی وزارت کے بھی ایک اہم رکن رہ چکے ہیں ۔ نوین پٹنائک کے سابقہ اسمبلی کے پانچ ارکان کو موقع نہیںدیا اور آٹھ نئے چہروں کو متعارف کرواتے ہوئے پہلی بار وزارتی ٹیم میں شامل کیا۔ یاد رہے کہ اکثر اسمبلیوں میں نئے چہروں کو متعارف کرنے کا چلن کوئی نئی بات نہ یں ہے لیکن اس کیلئے وزیر اعلیٰ کو جرأت مندی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ نئے چہروں کو متعارف کرنے سے تجربہ کار قائدین کی ناراضگی کا بھی اندیشہ ہوتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT