Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / نکاح، طلاق، خلع پر حکومت کو علماء سے مشاورت کی ضرورت

نکاح، طلاق، خلع پر حکومت کو علماء سے مشاورت کی ضرورت

عرب شہریوں سے شادیوں کے انسداد کیلئے قانون سازی پر زور، علماء، دانشوروں کا اجلاس، شرکاء کا خطاب
حیدرآباد22اکتوبر(سیاست ڈاٹ کام )نکاح، طلاق، خلع جیسے امور میں کچھ بھی فیصلہ کرنے سے قبل حکومت کو علماء، ماہرین قانون اور سوشیل انجینئرس سے مشاورت کرنا چاہئے ۔ چوں کہ یہ امور نہ صرف شریعت سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ قانون اور معاشرہ سے بھی جڑے ہیں۔ ذراسی کوتاہی شریعت میں مداخلت کے دروازے کھول دیتی ہے جس کے نتیجہ میں نہ صرف مسلم امہ انتشار کا شکار ہوگی بلکہ حکومت کے لئے بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں اور غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان خیالات کا اظہار علمائے کرام، ماہرین قانون اور دانشوروں نے ایک مذاکرہ ”نکاح، شریعت’ قانون اور موجودہ حالات” میں کیا جس کا اہتمام میڈیاپلس آڈیٹوریم جامعہ نظامیہ کامپلکس گن فاؤنڈری میں صحافیوں، وکلاء اور سوشیل انجینئرس کے ایک گروپ نے کیا تھا۔ جس میں مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری صدر سٹی جمعیۃ العلماء حیدرآباد، جناب اقبال احمد انجینئر ملی کونسل، مولانا نصیرالدین ناظم وحدت اسلامی تلنگانہ، مولانا سید طارق قادری ایڈوکیٹ سابق رکن اقلیتی کمیشن، جناب مرزا نثار احمد بیگ نظامی (ایڈوکیٹ )، جناب ایس ایم اے قدیر سینئر صحافی، مولانا حسین شہید، جناب مصطفے ٰ علی سروری اسوسی ایٹ پروفیسر مانو، جناب الیاس شمسی صدر آر ایف آئی، جناب مجاہد ہاشمی، جناب اظہرالدین (جماعت اسلامی)، جناب محمد فاروق، جناب عفان قادری، جناب محمد عبدالنعیم، جناب علیم بیگ، مرزا ساجد بیگ ، جناب احمد ارشد حسین، جناب اعجاز قریشی ، جناب ایم اے حکیم نائب صدر ٹی یو ڈبلیو جے یو، جناب طٰہٰ قادری، جناب ارشد حسین، جناب عبدالساجد معراج ٹی یو ڈبلیو جے یو، جناب ظہورالدین، جناب وصی الدین فاروقی ایڈوکیٹ اور دیگر نے حصہ لیا۔عرب شہریوں کی مقامی لڑکیوں سے شادیوں کے واقعات کے تناظر میں حکومت کی جانب سے قانون سازی اور قواعد کی تدوین کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ نکات میں کچھ قابل اعتراض اور ناقابل عمل ہیں اور کچھ تو راست شریعت سے متصادم بھی۔ شرکائے مذاکرہ کا احساس تھا کہ ایسی کسی بھی پہل سے قبل حکومت کو چاہئے کہ علمائے کرام، ماہرین قانون اورسماجی کارکنوں سے مشاورت کرے اور سب کے لئے قابل قبول قواعد مرتب کرے ۔ غیر ملکیوں کیلئے جن شرائط کی تجویز رکھی گئی ہے اُن کے سبب نکاح سہل نہیں ہوگا بلکہ مشکل ہوجائے گا اور جرائم کے نئے دروازے کھل جائیں گے ۔ شرکاء نے عاقدہ کے نام پر دس لاکھ روپئے کی سیکوریٹی ڈپازٹ کے لزوم، عاقدین کی عمروں میں دس سال سے زیادہ کا فرق نہ ہونے کی شرط اور بوقت نکاح پولیس اور DMWO کی موجودگی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ مقامی لڑکیوں کے استحصال کو روکنے کے لئے ایسے اقدامات کئے جائیں’ جو شریعت اور ملکی قانون سے باہم متصادم نہ ہوں۔ شرکاء کا یہ بھی احساس تھا کہ ایسے واقعات کے تدارک کے لئے جہاں موثر قانون سازی کی ضرورت ہے وہیں معاشرتی سطح پر اصلاحی اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔عرب شہریوں کے مقامی لڑکیوں کے استحصال کا جہاں تک سوال ہے حقیقی صورتحال ویسی نہیں ہے جیسی پولیس اور میڈیا پیش کرتی ہے ۔ یقیناًایسے کچھ واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن بیشتر شادیاں بڑی کامیاب رہی ہیں۔ قاضیوں کے لئے جو قواعد مرتب کئے جارہے ہیں ان پر بھی حکومت کو نظر ثانی کرنی چاہئے ۔ کسی ایک دینی ادارہ سے ہی فارغ ہونے کا لزوم جانبدارانہ ہے ۔ اسی طرح جہاں اقل ترین تعلیمی قابلیت ایس ایس سی رکھی گئی ہے ‘ وہیں قاضی کے لئے یہ بھی ضروری بتایا گیا کہ وہ قانون کی جانکاری حاصل کرے اور تعلیم پائے ۔ جبکہ ہندوستان میں دسویں جماعت کے بعد قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اسی طرح قاضیوں کی تقرری کی عمر 30 تا 40سال رکھی گئی ہے ۔ یہ بھی غیر مناسب ہے ۔ حکومت سارے جی ایچ ایم سی علاقے کے لئے ایک صدر قاضی اور ڈیویژنس کے لئے نائب قاضیوں کے تقرر کی تجویز رکھتی ہے ۔ اسی طرح اضلاع میں ڈیویژن سطح پر صدر قاضی اور منڈل کے سطح پر نائب قاضیوں کو مقرر کیا جائے گا جبکہ موجودہ نظام میں صرف جی ایچ ایم سی حدود میں 13سے زائد صدر قاضی ہیں’ اور ان کے علاقوں کے تعین کے لئے ہائی کورٹ میں 13سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں۔ اگر حکومت کی اس تجویز پر عمل کئے جانے کی صورت میں موجودہ قاضیوں اور حکومت کے درمیان قانونی کشاکش شروع ہوجائے گی اور یہ مسئلہ بہت ہی بگڑ جائے گا۔ جناب اطہر معین آرگنائزر نے مذاکرہ کی کاروائی چلائی۔

TOPPOPULARRECENT