Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / نکاح تقاریب میں بے جا اسراف کا سلسلہ برقرار

نکاح تقاریب میں بے جا اسراف کا سلسلہ برقرار

متعدد تحریکات کے باوجود فضول خرچی ، لاکھوں روپیوں کی ضیافت
حیدرآباد۔15جولائی (سیاست نیوز) نکاح میں اسراف کے خاتمہ کیلئے متعدد تحریکات کے باوجود شہر میں جاری نکاح تقاریب میں اسراف میں کمی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے ہر شادی خانے میں مسلسل تقاریب کا سلسلہ جاری ہے اور ان تقاریب میں دولت کی نمائش میں اضافہ ہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ شہر حیدرآباد کی شادیوں میں بے جا اسراف کے علاوہ لاکھوں روپئے ضیافت پر خرچ کئے جا رہے ہیں اور سجاوٹ پر بھی بے دریغ رقومات خرچ کی جا رہی ہیں۔اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات کے مطابق سب سے زیادہ با برکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔ ایسا نہیں کہ ہر نکاح میں فضول خرچی و شاہ خرچی دیکھی جا رہی ہے بلکہ کئی ایسی نکاح تقاریب بھی منعقد ہو رہی ہیں جو صرف مسجد کی حد تک محدود کر دی گئی ہیں اور مسجد میں نکاح کے بعد استقبالیہ کے نام پر کوئی تقریب منعقد نہیں کی جا رہی ہے بلکہ مسجد سے ہی رخصتی انجام دیتے ہوئے نکاح کو آسان بنانے کی سمت مثبت پیش رفت کی جا رہی ہے لیکن ایسی چند ایک مثالیں ہیں جبکہ سینکڑوں ایسی مثالیں دیکھنے کو مل رہی ہیں جن میں شاہ خرچی اور نمائش پر لاکھوں روپئے خرچ کئے جانے لگے ہیں۔ ماہ رمضان المبارک کے اختتام کے فوری بعد سے شروع ہوئے شادیوں کے موسم میں شہر کے تمام شادی خانے مصروف ہیں اور ان شادی خانوںمیں انجام پانے والی نکاح تقاریب کو دیکھتے ہوئے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تقاریب اس قوم کے لوگوں کی ہیں جس کی پسماندگی کا ثبوت سرکاری رپورٹس میں موجود ہے۔ شہر حیدرآباد میں جہیز کی لعنت کے خلاف چلائی گئی تحریک کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں لیکن عام طور پر یہ دیکھا جانے لگا ہے کہ جہیز سے جو رقم محفوظ کی جا رہی ہے وہ معیاری شادی کے نام پر خرچ کی جا رہی ہے جو کہ مزید تکلیف دہ ثابت ہورہا ہے۔ شہر میں کھولے جا رہے بڑے بڑے شادی خانے اور ان میں ہونے والی نکاح تقاریب شہر کے متوسط طبقہ کے لئے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ ان شادی خانوں میں نکاح کو معیاری تصور کیا جانے لگا ہے اور معیاری نکاح کے نام پر صرف شادی خانے کا کرایہ لاکھوں روپئے ادا کرنا پڑ رہاہے۔ علماء ‘ مشائخین ‘ سیاسی قائدین ‘ عمائدین ملت و ائمہ اگر اس جانب توجہ مبذول کرتے ہوئے امت کو اسراف سے بچنے کی تلقین میں کامیاب ہوتے ہیں تو کروڑہا روپئے بچائے جا سکتے ہیں جوبے دریغ خرچ کئے جا رہے ہیں۔ امت مسلمہ کا دستور حیات قرآن مجید ہے اور قرآن مجید میںایک مقام پر فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت سورہ بنی اسرائیل میں فرماتا ہے کہ ’’اسراف و بیجا خرچ سے بچو بیجا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اورشیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی نا شکرا ہے‘‘۔اس بات پر غورکرتے ہوئے ہمیں فیصلہ کرنا چاہئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟

TOPPOPULARRECENT