Thursday , June 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / نکاح فاسد کا حکم

نکاح فاسد کا حکم

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح زید نامی فرد سے ہوا۔ بتایا گیا کہ وہ ہریانہ کا باشندہ تھا ۔ ہندہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ فرد سے تقریباً ڈھائی یا تین سال قبل نکاح ہوا، کچھ نامساعد حالات کی بناء ہندہ شوہر کے پاس سے حیدرآباد واپس آگئی۔ مذکورہ فرد سے طلاق واقع ہوجانے کے ادعا کے ساتھ ہندہ نے بکر کے ساتھ سیاہہ جات کی تکمیل کے ساتھ نکاح کرلیا ۔ اب آہستہ آہستہ یہ بات سامنے آرہی ہے کہ سابقہ شوہر سے طلاق وغیرہ نہیں ہوا۔ اس صورت حال میں بکر کے ساتھ ہوئے نکاح کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے جبکہ دونوں کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوا ہے یعنی صحبت ہوئی ہے۔
جواب : غیر کی منکوحہ سے نکاح شرعاً فاسد ہے۔ رد المحتار جلد ۲ کتاب الطلاق باب العدۃ میں ہے : (قولہ نکاحا فاسدا) ھی المنکوحۃ بغیر شھود و نکاح امرأۃ الغیر بلا علم بأنھا متزوجۃ ۔ نکاح فاسد میں وطی نہو تو مہر لازم نہیں لا علمی سے وطی ہوئی ہو تو مہر مثل و مہر مسمیٰ (مقرر) میں جو کم ہو، ناکح پر واجب ہوگا۔ مذکورہ جلد کے باب المہر میں ہے ( و یجب مہر المثل فی نکاح فاسد بالوطئی لا بغیرہ) کالخلوۃ لحرمۃ و طئھا ولم یزد مہرالمثل علی المسمی۔
منکوحۃ الغیر سے نکاح کے بعد جان بوجھ کر وطی کرنا زنا ہے۔ اسلامی ملک ہو تو اس پر حد زنا کا وجوب ہے۔ مہر نہیں ہے ۔
نکاح فاسد میں زوجین میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی (ناکح ، یا منکوحہ) کے بغیر نکاح ختم کرلینے کا حق ہے یعنی اس نکاح کو ختم کرنے کے لئے دوسرے کی موجودگی ضروری نہیں۔ تاتار خانیہ جلد ۳ ص ۱۱ میں ہے: ولکل واحد من الزوجین فسخ النکاح بغیر محضر من صاحبہ۔
پس صورت مسئول عنہا میں بشرط صحتِ سوال محمد منعم اور حمیدہ بیگم پر شرعاً لازم ہے کہ فوری علحدگی اختیار کر لیں۔ حکم شرعی معلوم ہوجانے کے بعد فوری اس رشتہ کو ختم کرلیں اور صحبت نہ کریں۔ نکاح کے بعد لاعلمی کی بناء صحبت ہوچکی ہے تو حسب صراحت مہر مثل اور مہر مقرر میں جو کم ہو اس کی ادائی بکر پر لازم رہے گی کہ وہ ہندہ کو ادا کردے۔ ہندہ علی حالہ پہلے نکاح پر برقرار ہے یعنی زید نامی فرد ہی کی بیوی ہے۔
وقف میں نیت کافی نہیں
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید لاولد ہے، اس نے یہ نیت کی تھی کہ اپنی وفات کے بعد اپنی پوری جائیداد مسجد کے لئے وقف کردے گا لیکن اب اس کا یہ ارادہ ہے کہ مستحقین قرابتداروںکو دو حصے دے گا اور ایک حصہ مسجد کے لئے وقف کرے گا۔ ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے ؟
جواب : وقف میں محض نیت یا ارادہ کافی نہیں، بلکہ زبان سے الفاظ ادا کرنا ضروری ہے۔ در مختار برحاشیہ ردالمحتار جلد ۳ ص ۳۹۳ میں ہے: (ورکنہ الالفاظ الخاصۃ) ارضی ھذہ (صدقۃ موقوفۃ مؤبدۃ علی المساکین و نحوہ) من الألفاظ۔ فتاوی عالمگیری جلد ۲ ص ۳۵۷ کتاب الوقف میں ہے : اذا قال ارضی ھذہ صدقۃ محررۃ مؤبدۃ حال حیاتی و بعد وفاتی اوقال ارضی ھذہ صدقۃ موقوفۃ محبوسۃ مؤبدۃ حال حیاتی و بعد وفاتی … یصیر وقفا جائزا لازماً۔
پس صورت مسئول عنہا میں زید کو اپنی ملک میں ہر قسم کے تصرف کا حق ہے۔ وہ جس طرح چاہے وقف کرسکتا ہے۔
فقط واللہ تعالی أعلم بالصواب

TOPPOPULARRECENT