Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / نکاح فسخ کرنے میں مدد دینے این آئی اے کو سپریم کورٹ کی ہدایت

نکاح فسخ کرنے میں مدد دینے این آئی اے کو سپریم کورٹ کی ہدایت

تحقیقات غیر جانبدار محکمہ این آئی اے کے سپرد ، سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ کے احکام

نئی دہلی 10 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کیرالا پولیس کو ہدایت دی کہ این آئی اے کے ساتھ تحقیقات کی تفصیلات میں شراکت داری کرے اور کہاکہ ہائیکورٹ نے مقدمے کی جو تفصیلات بتائی ہیں، ان کا این آئی اے پر بھی انکشاف کیا جائے تاکہ مسلم مرد کی ہندو خاتون کے ساتھ تبدیلیٔ مذہب اور قبول اسلام کے بعد فسخ نکاح کے مقدمے میں مدد کی جاسکے۔ یہ مسئلہ اِس لئے سپریم کورٹ تک پہنچا کیوں کہ مرد نے فسخ نکاح کو کیرالا ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس نے ریاستی پولیس کو ایسے مقدمات کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ وہ قومی تحقیقاتی محکمہ (این آئی اے) کو حکم دیا کیوں کہ وہ ایک غیر جانبدار ادارہ ہے اور واقعہ کی پوری تفصیلات کی تصویر کو پیش نظر رکھے گا اور اِس بات کو یقینی بنائے گا کہ کیا یہ خصوصی واقعہ صرف ایک چھوٹے سے علاقہ تک محدود ہے یا پھر ایک وسیع تر مسئلہ ہے۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس ڈی وائی چندراچوڑ پر مشتمل بنچ نے کیرالا کے متوطن شافین جہاں کے مشیر قانونی کے اعتراض کا سنجیدگی سے نوٹ لیتے ہوئے کہاکہ این آئی اے کو کسی کو بھی اِس مقدمے کے پولیس ریکارڈس اور تحقیقات کا مطالعہ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ عدالت نے کہاکہ اِس کا احساس ہے کہ درخواست گذار (جہاں) نہیں چاہتی کہ تنازعے کا درست اور آزادانہ نقطۂ نظر اُس کے سامنے پیش کیا جائے۔ عدالتی حکمنامہ کی ایک نقل ریاستی پولیس کو حوالے کردی گئی ہے۔ این آئی اے کی جانب سے پیروی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل مہندر سنگھ نے سپریم کورٹ کے اجلاس پر صبح پیش ہوتے ہوئے ایک حکمنامہ کے لئے درخواست کی تھی کہ اگر ریکارڈس تک رسائی کی اجازت دی جائے تو یہ پولیس کی منصفانہ تحقیقات میں رکاوٹ پیدا کرے گی اور تحقیقات کے ریکارڈس تک رسائی کی اجازت اِسی لئے نامناسب ہے۔

TOPPOPULARRECENT