Thursday , January 18 2018
Home / ہندوستان / نکسلائیٹس تشدد ترک کرکے کانگریس میں شامل ہوں

نکسلائیٹس تشدد ترک کرکے کانگریس میں شامل ہوں

پاناجی۔ 14؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ کانگریس جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ نے نکسلائیٹس کو تشدد کی راہ ترک کرتے ہوئے ان کی پارٹی میں شامل ہونے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے گوا میں ریاستی کانگریس کے جاری ’چنتن شیبر‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نکسلائیٹس کو نیپال میں ماؤیسٹوں کی طرح قومی دھارے میں شامل ہونا چاہئے اور وہ سرگرم سیاست میں حصہ لے سکتے ہ

پاناجی۔ 14؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ کانگریس جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ نے نکسلائیٹس کو تشدد کی راہ ترک کرتے ہوئے ان کی پارٹی میں شامل ہونے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے گوا میں ریاستی کانگریس کے جاری ’چنتن شیبر‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نکسلائیٹس کو نیپال میں ماؤیسٹوں کی طرح قومی دھارے میں شامل ہونا چاہئے اور وہ سرگرم سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کانگریس صحیح جماعت ہے تو ان کا پارٹی میں شمولیت کے لئے خیر مقدم کیا جائے گا۔ ڈگ وجئے سنگھ نے حالیہ جھارکھنڈ انتخابی مہم میں بھی اسی طرح کا بیان دیا تھا جس پر بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرہلاد سنگھ پاٹل نے ان پر تنقید کی تھی۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ انھوں نے جو بات کہی، اس پر قائم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نکسلائیٹس کو تشدد کی سیاست ختم کرتے ہوئے قومی دھارے کی جمہوری سیاست میں شامل ہونا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ نکسلائیٹس کو جمہوری عمل میں حصہ لینا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فرقہ پرستی،

تشدد اور نفرت کی سیاست کو شکست دی جانی چاہئے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے پرہلاد سنگھ پاٹل کا نام لئے بغیر اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات دہرائی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا اشارہ بی جے پی کی فرقہ پرستانہ سیاست کی طرف ہے، انھوں نے جواب دیا یقینا میرا اشارہ بی جے پی کی طرف ہے۔ وہ مذہبی خطوط پر سماج کو تقسیم کررہی ہے، فرقہ وارانہ تشدد بھڑکا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسی صورت میں اس جماعت کی مخالفت کی جانی چاہئے۔ انھوں نے مرکزی حکومت پر دستوری قوانین اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ انسداد تبدیلی ٔ مذہب قوانین پر جاری مباحث کا حوالہ دیتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر نے کہا کہ وہ طاقت یا لالچ کے ذریعہ مذہبی تبدیلی کے خلاف ہیں۔ مذہب ایک شخصی معاملہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ کسی کو بھی اپنی مرضی کے مطابق مذہبی اختیار کرنے کی آزادی ملنی چاہئے۔
انھوں نے سینئر رکن اسمبلی گوا کے پارٹی چھوڑنے کی دھمکی کو بھی اہمیت نہیں دی۔

TOPPOPULARRECENT