Tuesday , October 23 2018
Home / شہر کی خبریں / نکسل ازم کی مسلح جدوجہد میں خواتین کی شمولیت تشویشناک

نکسل ازم کی مسلح جدوجہد میں خواتین کی شمولیت تشویشناک

حیدرآباد ۔ 3 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ظلم و زیادتی جبر و نا انصافی ظالمانہ نظام سماجی عدم مساوات کے خلاف مسلح جدوجہد نکسل ازم میں خواتین کی بڑی تعداد میں شمولیت لمحہ فکر ہے ۔ خواتین کی فلاح و بہبود اور سماجی انصاف کا نعرہ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ اور سماج میں وقار فراہم کرنے کی دعویداری کیلئے خواتین کی مسلح جدوجہد ایک طمانچہ ہے ۔ گذشتہ روز چھتیس گڑھ ۔ تلنگانہ سرحدی مقام پر ہوئے انکاونٹر میں 10 ماؤنواز ہلاک ہوگئے جن میں 7 خواتین شامل ہیں اور ان کا تعلق چھتیس گڑھ سے بتایا گیا ہے ۔ بڑے پیمانے پر سرکاری اقدامات کے دعوے ان خواتین کی مسلح جدوجہد میں دلچسپی سے کھولے ثابت ہورہے ہیں ۔ سماجی انصاف اور خود مختاری کے علاوہ وقار کی لڑائی کیلئے خواتین ہتھیار اٹھانے لگی ہیں ۔ جو دوسری خواتین کیلئے ایک نئے رجحان کے علاوہ سسٹم کیلئے خطرناک تصور کیا جارہا ہے ۔ جبکہ انسانی حقوق تنظیموں کا اس مسئلہ پر کہنا ہے کہ موجودہ سسٹم بھی اس صورتحال کا ذمہ دار ہے ۔ چھتیس گڑھ کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں جہاں ماویسٹ گروپس سرگرم ہیں ان علاقوں میں قدرتی وسائل کی سرمایہ داروں کو منتقلی و حق تلفی زیادہ ہے اور ایسے علاقوں سے اب خواتین کا بھی اس مسلح جدوجہد میں شامل ہونا یقینا حیرت ناک رجحان سمجھا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT