Tuesday , May 22 2018
Home / سیاسیات / نکسل از م کے خاتمہ کا مرکز کا دعویٰ کھوکھلا: کانگریس

نکسل از م کے خاتمہ کا مرکز کا دعویٰ کھوکھلا: کانگریس

سی آر پی ایف ٹیم پر حملے سے ثابت ، ریاستی حکومت پر بھی تنقید ، دھماکے کے مہلوکین کو وزیراعظم کا خراج

نئی دہلی۔ 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج دعویٰ کیا کہ مرکز، بایاں بائیں بازو کی انتہا پسندی پر قابو پانے سے قاصر رہا ہے کیونکہ اس کی پالیسیاں بے مقصد اور پرعیب ہیں۔ قومی سلامتی پر مرکز کی پالیسی نے داخلی طور پر اور سرحدوں پر ناراضگی پیدا کی ہے۔ سی آر پی ایف ٹیم پر تازہ ترین حملے سے حکومت کے یہ دعوے کھوکھلے ثابت ہوچکے ہیں کہ وہ نکسل ازم کا خاتمہ کرچکا ہے۔ کانگریس نے سی آر پی ایف پر حملے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ چھتیس گڑھ کے علاقہ سکما میں انتہا پسندوں کا یہ حملہ بلاسوچے سمجھے اور بے رحمانہ حملہ تھا۔ صدر پارٹی راہول گاندھی نے کہا کہ اس سے اندرون ملک نظم و قانون کی ابتر ہوتی ہوئی صورتِ حال ظاہر ہوتی ہے جو مرکزی حکومت کی پرعیب پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ پارٹی نے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مہلوکین کے ورثاء کو تعزیت پیش کی کہ اور امید ظاہر کی کہ زخمی عاجلانہ صحت یاب ہوجائیں گے۔ چھتیس گڑھ کے علاقہ سکما میں ماؤسٹوں کے حملے سے 9 سی آر پی ایف جوان ہلاک ہوگئے۔ اس سے اندرون ملک ابتر ہوتی ہوئی نظم و قانون کی صورتحال اور مرکزی حکومت کی پرعیب پالیسیاں بے نقاب ہوگئی ہیں۔ انہوں نے مہلوکین کے ورثا سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کی عاجلانہ صحت یابی کی تمنا کی۔ انہوں نے سی آر پی ایف کی بٹالین 212 کے 9 سی آر پی ایف جوانوں کی ہلاکت اور دیگر 2 کے طاقتور آئی ای ڈی دھماکہ میں زخمی ہونے پر اظہار رنج و غم کیا۔ کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج رندیپ سرجے والا نے یاد دہانی کی کہ گزشتہ سال بھی سکما میں انتہا پسندوں کا بے رحمانہ حملہ ہوچکا ہے جس میں 26 سی آر پی ایف جوان ہلاک ہوگئے تھے اور کہا کہ بی جے پی حکومت نے 2017ء کے گھات لگاکر کئے گئے حملے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ہندوستان کی قومی سلامتی کو لاحق خطرہ حکومت کی بے مقصد، ناکارہ اور غیرمستقل پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ مودی نے اقتدار حاصل کرنے کیلئے قومی سلامتی کو بطور نعرہ اختیار کیا تھا ،

لیکن گزشتہ چار سال میں ہم نے ملک کی صورتحال کو ابتر ہوتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ سرجے والا نے کہا کہ سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ، سرحد پار دراندازی ، فوجی تنصیبات پر دہشت گرد اور نکسلائیٹس حملے ، ریاستوں میں نکسلائیٹس حملے ، بی جے پی دور اقتدار میں زیادہ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے کہا کہ دہشت گردی اور نکسل ازم کے بارے میں جو مبالغہ آرائی کی تھی، اس کا پول کھل چکا ہے۔ حقائق ایک مختلف کہانی سنا رہے ہیں۔ اعلیٰ مالیاتی کرنسی نوٹس پر امتناع کے بعد 23 بڑے نکسلائیٹس حملے ہوئے جن میں 97 فوجی اور 121 شہری ہلاک کردیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مابعد نوٹوں کی تنسیخ 53 بڑے دہشت گرد حملے صرف جموں و کشمیر میں ہوئے جن میں 99 فوجی اور 64 شہری ہلاک ہوگئے۔ گزشتہ تین سال کے دوران بحیثیت مجموعی نکسلائیٹس حملوں کی تصویر سے مودی اور بی جے پی حکومت کے بلند بانگ دعوے بے نقاب ہوگئے ہیں جو اس نے لوک سبھا میں کئے تھے۔ جاریہ سال 122 پرتشدد حملے کئے گئے جن میں 14 فوجی اور 12 شہری ہلاک ہوگئے ۔ کانگریس زیرقیادت یو پی اے حکومت کے گزشتہ چار سال میں نکسلائیٹس حملوں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد موجودہ تعداد سے نصف تھی۔ کانگریس نے چھتیس گڑھ کی بی جے پی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تاحال کوئی ٹھوس کام نہیں کیا ہے۔ رمن سنگھ حکومت ، داخلی سلامتی کے محاذ پر بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ دریں اثناء رائے پور سے موصولہ اطلاع کے بموجب چیف منسٹر نے سینئر عہدیداروں کے ساتھ صورتِ حال کا جائزہ لیا اور ارکان عملہ کو ہدایت دی کہ نکسلائیٹ کے خلاف کارروائی میں شدت پیدا کردی جائے۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ملک ان 9 سی آر پی ایف فوجیوں کو جو چھتیس گڑھ میں آئی ای ڈی دھماکہ میں ہلاک ہوگئے ، سلام کرتا ہے اور دلیر فوجیوں کے ارکان خاندان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

TOPPOPULARRECENT