Tuesday , September 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر

سـیِـد زبـیـر ہـاشـمـی خالق کائنات، مالک کُل اﷲ رب العزت نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دنیا میں بے حساب و بے شمار خصائص کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، جن کا احاطہ ہم سب کے لئے نا ممکن ہے، مگر ان میں سے کچھ کچھ بتلایا جاسکتا ہے۔ ملاحظہ ہو:

سـیِـد زبـیـر ہـاشـمـی

خالق کائنات، مالک کُل اﷲ رب العزت نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دنیا میں بے حساب و بے شمار خصائص کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، جن کا احاطہ ہم سب کے لئے نا ممکن ہے، مگر ان میں سے کچھ کچھ بتلایا جاسکتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
٭ آقائے دوجہاں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کے کائنات کی پہلی تخلیق ہیں۔ ابھی کائنات کو وجود بھی نہیں ملاتھا کہ اﷲ تعالیٰ نے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو عدم سے وجود میں لایا۔ جس کا اظہار سورئہ انعام کچھ اس طرح سے ہوا ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے ’’ائے حبیب مکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرمادیجئے کہ بیشک میری نماز اور میرا حج و قربانی اور میری زندگی اور میری موت اﷲ تعالیٰ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں‘‘۔ {الانعام آیت ۱۶۲،۱۶۳}

یہاں پر یہ بتلایا گیا ہے کہ اﷲ رب العزت اس کارخانئہ قدرت کا بغیر کسی شک و شبہ کے مربِی و کارساز ہے، اور ساری کائنات میں سب سے پہلے سر جھکانے والے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہی ہیں۔ ویسے تو کائنات میں ہر شئی اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں سجدہ کرتے رہتی ہے۔ جس کا ذکر سورئہ مریم میں کچھ اس طرح سے آیا ہے ترجمہ ملاحظہ ہو: ’’آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہیں وہ اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں خالص بندہ کے طور پر حاضر ہونے والے ہیں‘‘ {مریم، ۹۳} اس سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں سب سے پہلے سجدہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اور اﷲ تعالیٰ پر ایمان لانے والے حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہی ہیں۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہی سب سے اول ہیں جس کا ثبوت قرآنی کئی آیات سے ہمیں ملتا ہے۔ مثلاً

’’{اے نبی علیہ السلام} اور ہم نے آپ کو تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘ {الانبیاء ۱۰۷} اس آیت پاک میں رحمت کا ذکر کیا گیا ہے، رحمت کی ابتداء ہی اُس وقت ہوتی ہے جب کسی شئی کو وجود ملتا ہے اور حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں اِسی کو مذکورہ آیت میں ارشاد فرمایا گیا ’’آپ علیہ السلام کو ساری کائنات کے لئے مطلقاً رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔
معلوم ہوا کہ کائنات ہست و بود کی ہر شئی کو وجود بھی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی رحمت کے تصدق سے ملا ہے۔ جب یہ بات یہ طے ہوگئی کہ کائنات میں اپنے وجود میں حضور نبی محتشم صلی اﷲ علیہ وسلم کی رحمت کی محتاج ہے تو یہ قانون فطرت اور اٹل حقیقت ہے کہ محتاج شی محتاج الیہ کے بعد آتی ہے، مثال کے طور پر یہاں ایک محقق کی کتاب ’سیرت الرسول‘ کے حوالے سے کچھ باتیں تحریر کی جائیں گی ملاحظہ ہو:

٭ ہوا: دنیوی زندگی میں اپنے وجود کیلئے ہوا کی ضرورت ہوتی ہے، ہوا کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نا ممکن ہے، اگر ہوا پہلے سے موجود نہ ہوتی تو ہمارا وجود بھی کبھی نہیں ہوسکتا تھا، اس لئے اﷲ سبحانہ وتعالیٰ نے ہوا کو پیدا کیا اور بعد میں ہمیں زندگی بھی عطا کیا۔
٭ پانی: زندگی میں ہر کسی کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بغیر کسی کا گزارا ممکن نہیں ہے، اﷲ تعالیٰ نے ہر شئی کو پانی سے پیدا کیا ہے۔

٭ اولاد: اولاد اپنے وجود اور پیدائش و پرورش میں اپنے والدین کی محتاج ہے، والدین نہ ہوتے تو اولاد کا ازخود وجود میں آنا ناممکن ہے۔ اولاد اس وقت موجود میں آتی ہے جب والدین پہلے سے موجود ہوں۔ {از: سیرت الرسول}

مذکورہ مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ محتاج پہلے آتا ہے اور محتاج الیہ جس کی ضرورت ہو وہ بعد میں آتاہے۔ جب تمام کائنات حضور نبی رحمت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی رحمت کی محتاج ہے تو لامحالہ قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق تمام کائنات کو وجود بعد میں ملا اور حاملِ رحمت حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خلقت اور رحمت کا آغاز پہلے ہوا۔

حضرت سیدنا جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’میں نے عرض کیا : یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! مجھے بتائیں کہ اﷲ سبحانہ وتعالیٰ نے سب سے پہلے کیا چیز پیدا فرمائی؟ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر ! بیشک اﷲ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا، پھر وہ نور مشیت ایزدی کے مطابق جہاں چاہا سیر کرتا رہا۔ اس وقت نہ لوح تھی، نہ قلم، نہ جنت، نہ دوزخ، نہ فرشتہ تھا، نہ آسمان، نہ زمین، نہ سورج تھا نہ چاند، نہ جن تھا اور نہ انسان۔ جب اﷲ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ مخلوقات کو پیدا کرے تو اس نور کو چار حصوں میں تقسیم کردیا: پہلے حصے سے قلم بنایا، دوسرے سے لوح اور تیسرے سے عرش۔ پھر چوتھے حصے کو چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے حصے سے عرش اٹھانے والے فرشتے بنایا اور دوسرے سے کرسی اور تیسرے سے باقی فرشتے۔ پھر چوتھے کو مزید چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے سے آسمان بنایا، دوسرے سے زمین اور تیسرے سے جنت اور دوزخ… ‘‘ {قسطلانی ، المواہب اللدنیہ}

مذکورہ تمام تحریرات سے پتہ چلا کہ محبوبِ خدا حضور علیہ التحیۃ و الثناء ساری کائنات کی اصل ہے، جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مشہور شاعر علامہ اقبال بڑے بہترین انداز میں کہتے ہیں:
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طٰہٰ
[email protected]

TOPPOPULARRECENT