Monday , November 20 2017
Home / مضامین / نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے …

نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے …

کے این واصف
اُمت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کے فقدان کی بات ساری امت ہی کرتی ہے۔ علمائے دین ، سیاسی قائدین ، سماجی کارکنان سے عام مسلمان تک سب یہ بات محسوس کرتے ہیں کہ ہماری بدحالی ، ناکامی اور رسوائی کا سبب ہماری صفوں میں اتحاد کی کمی ہے اور اس کیلئے ہم کبھی ایک دوسرے کو اور کبھی اغیار کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ یہ بات کوئی نئی بھی نہیں ہے۔ اس ہفتہ کے دوران سامنے آئے کچھ سماجی ، مذہبی اور سیاسی قائدین کے بیانات ہیں جو مختلف ذرائع سے ہمارے مطالعہ میں آئے۔ ہماری صفوں میں عدم اتحاد کو مختلف قائدین نے الگ الگ نظریہ سے دیکھا ہے ۔ کوئی اسے امت کا اندرونی انتشار کہتا ہے، کوئی اسے بیرونی سازش قرار دیتا ہے ، کوئی اس کی وجہ ذمہ داران ملت کی لاپروائی بتاتا ہے، کوئی اسے قائدین ملت کی بدنیتی ، بدیانتی و بے ضمیری سے تعبیر کرتا ہے ۔ آئیے اس ہفتہ کے دوران چند ذمہ داران ملت کے بیانات پر نظر ڈالتے ہیں۔

سعودی وزیر اسلامی امور شیخ صالح بن عبدالعزیز آل شیخ نے واضح کیا کہ ہمیں ایسے چیلنج کا سامنا ہے جس کی نظیر اسلامی تاریخ میں کبھی اور کہیں نہیں ملتی۔ اسلام کی تصویر خود ہمارے اپنے بگاڑ رہے ہیں۔ توحید ، رحمدلی ، امن و سلامتی اور محبت و موت کے علمبردار مذہب کو خود ہمارے اپنے منفی شکل میں پیش کر رہے ہیں۔ وہ پچھلے اتوار کو ریاض میں جی سی سی (GCC) ممالک کے وزراء اسلامی امور و اوقاف و دعوت کی تیسری کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ آل شیخ نے کہا کہ امت مسلمہ کو ان دنوں بڑے چیلنج درپیش ہیں۔ یہی چیلنج اسلام کی راہ میںبھی حائل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ اسلام کی تصویر مسخ کرنے کا مشن بیرونی دنیا کی طرف سے نہیں بلکہ خود مسلمانوں کے اپنے اندر سے اٹھ رہا ہے ۔ اسلامی عقائد اور اسلامی قوانین کے حقائق کا حسن مسخ کیا جارہا ہے۔ ہمیں اسلام کے دفاع کیلئے بہت کچھ کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے سب سے پہلے اپنی مساجد کے توسط سے مسلمانوں کے داخلی معاشروں کو صالح بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کے ذہنوں میں پیدا ہوجانے والے بگاڑ کو ٹھیک کرنا ہوگا۔۔ آلِ شیخ نے کہا کہ گمراہ کن دہشت گرد تکفیری تنظیموں اور جماعتوں سے مسلم معاشروں کو بچانا پڑے گا ۔ اس طرح کی تنظیموں نے خون ریزی اور غارت گری کے باب میں مساجد اور نمازیوں تک کو نہیں بخشا۔ اس طرح کی تنظیموں سے پوری قوت سے نمٹنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

اس جمعہ کو امام کعبہ نے بھی اس موضوع پر اپنا خطبہ دیا ۔ مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید نے واضح کیا ہے کہ داخلی اور خارجی دشمن امت مسلمہ کو علماء سے لڑانے کیلئے کوشاں ہیں۔ داخلی و خارجی دشمن علماء اور امت کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو لوگ علماء کی پگڑی اچھالیتے ہیں وہ گمراہ یا نادان یا کینہ پرور یا متعصب ہوتے ہیں۔ امام حرم نے پرزور الفظ میں کہا کہ علماء کے کردار کو کمزور کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ امت کا حال و مستقبل متاثر ہوگا ۔ معاشرے کی تشکیل اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پھر علماء کی مساعی جمیلہ سے جڑی ہوئی ہے ۔ علماء کو کمزور کرنے سے معاشرہ کمزور ہوگا۔ علماء کے خلاف بد زبانی سے فسادیوں کو شہ ملے گی ۔ اگر کوئی عالم غلطی کرتا ہے تو اس کی گرفت اہل علم ہی کا حق ہے۔ ہر کس و ناکس کو یہ حق نہیں ۔ امام حرم نے نصیحت کی کہ علماء خود کو شک و شبہ کے مقامات سے دور رکھیں۔ کوئی ایسی بات یا کوئی ایسا کام نہ کریں جسے بنیاد بناکر لوگ ان کی پگڑی اچھالنے لگیں۔
اسی ہفتہ سوشیل میڈیا پر NDTV کی ایک Clipping جاری کی گئی جس میں بریلوی اور دیوبندی عقائد رکھنے والے مسلمانوں کے درمیان ایک مرتبہ پھر سے اختلاف کھل کر سامنے آئے۔ بتایا گیا کہ دیوبند کی درگاہ اعلیٰ حضرت سے فتویٰ جاری ہوا جس میں کہا گیا کہ مسجدوں کو لڑائی جھگڑوں کی آماجگاہ بننے سے بچانے کیلئے ہم نے یہ فتویٰ جاری کیا کہ وہابی مسلک سے تعلق رکھنے والے حضرات ایسی مساجد میں نہ آئیں جو ان کے عقیدے یا فکر سے اتفاق نہیں رکھتے تاکہ عقیدے کے اختلاف کی بنیاد پر جھگڑے پیدا نہ ہوں۔ یعنی وہابی حضرات کو مساجد میں داخلے پر امتناع عائد کردیا گیا ۔اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ بریلوی ، دیوبندی ، سنی ، سلفی ، شیعہ وغیرہ وغیرہ جب یہاں مکہ مکرمہ میں آتے ہیں تو سب کے سب ایک ہی امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔ پھر یہ لوگ یہاں سے جاکر پھر کیوں خانوں میں بٹ جاتے ہیں۔

اب آخر میں اس ہفتہ روزنامہ سیاست میں شائع ایک خبر جو امت کا سر شرم سے جھکا دیتی ہے، وہ تھی بعض ضمیر فروش علماء آر ایس ایس سے خطیر رقومات وصول کر کے ملت اسلامیہ کو مسلک کی بنیادوں پر منقسم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ بات ممتاز دانشور آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری منظور عالم نے کہی۔ وہ ا یک دینی تعلیمی ادارے میں منعقد تقریب سے مخاطب تھے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں میں آج ایک عجیب قسم کی بے چینی، غیر یقینی اور عدم اطمینانی کی کیفیت پائی جارہی ہے جو دراصل ساری دنیا میں اسلام کے خلاف پیدا ہونے والی نفرت اور خوف کا نتیجہ ہے اور اسلام سے خوف زدہ عناصر کرۂ ارض سے اسلام کا نام و نشان مٹادینے کے درپے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں مسلمانوں کے بارے میں آنے والی خبروں کے تجزیہ کے ذریعہ اس صورتحال کو صحیح انداز میں سمجھا جاسکتا ہے ۔ 90 فیصد میڈیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر منظور عالم نے مزید کہا کہ یہ میڈیا کی طاقت ہی تھی جو بی جے پی برسر اقتدار آئی ۔ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کیلئے بعض گوشوں کی طرف سے کی جانے والی مبینہ کوششوں کا اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے مسلمانوں اور بالخصوص مسلم قائدین پر زور دیا کہ وہ آرا یس ا یس ، اس کے نظریات اور ارادوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ امت میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش میں مسلکی ، نظریاتی و سیاسی اختلافات پیدا کئے جارہے ہیں تاکہ ملت اسلامیہ ایک پلیٹ فارم پرکبھی متحد نہ ہوسکے اورایک منقسم ملت کی حیثیت سے ہمیشہ کمزور رہے۔

ان تمام خبروں اور بیانات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہماری اکثریت اس حقیقت سے واقف ہے کہ امت مسلمہ سازشوں کا شکار ہے اور ہم اس بات سے بھی واقف ہیں کہ ہماری نااتفاقی ہمیں تباہی کے دہانے کی طرف لے جارہی ہے ۔ یعنی ہماری اکثریت ملت کے مرضی سے بھی واقف ہے اور اس کا علاج بھی جانتی ہے اور ہم مرض کے بھیانک نتائج سے بھی آشنا ہیں۔ پھر بھی علاج کی طرف توجہ نہیں ہے ۔ ہمارا یہ تجاہل عارفانہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ نہ ہم کو اپنے حال کی فکر ہے نہ اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کا خیال۔
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
[email protected]

TOPPOPULARRECENT