Thursday , January 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز

نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز

میاں محمد افضل

میاں محمد افضل
دہلی کے محلہ کوچہ چیلاں کے کسی شخص نے ہنگامہ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ ہنگامہ کے بعد ایک انگریز سپاہی نے اس محلہ میں حکیم فتح اللہ کے گھر کے زنانہ حصہ میں داخل ہونے کی کوشش کی اور اس کشمکش میں وہ زخمی ہو گیا۔ اس شکایت پر انگریز حاکموں نے حکم جاری کیا کہ اس محلہ کے تمام مردوں کو مارڈالا جائے یا پکڑکر لایا جائے۔ چنانچہ کوئی گھر اس محلہ کا ایسا نہ تھا، جہاں کوئی مرد مارا نہ گیا ہو۔ بعض لوگ جان بچانے کے لئے دریا کی طرف بھاگے اور پانی میں ڈوگ گئے۔ ان مقتولوں میں سید احمد میاں امیر پنجہ کش شامل تھے، جو اپنے وقت کے منفرد خوش نویس تھے۔ ان کی خوش نویسی کا لوہا سارا ہندوستان مانتا تھا اور ان کے ہاتھ کے لکھے حروف سونے چاندی کے عوض خریدے جاتے تھے۔ وہ گداگروں کو ایک حرف لکھ کر دے دیتے تھے، جو ایک روپیہ کے نوٹ کی طرح ہر جگہ ایک روپیہ میں فروخت ہو جاتا تھا۔ خواجہ حسن نظامی نے لکھا ہے کہ کوچہ چیلاں میں انگریزوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں میں ’’ہندوستان کے آفتاب و ماہتاب‘‘ تھے۔ ان ہی مقتولوں میں مولانا صہبائی بھی تھے، جن کی فارسی دانی مسلم تھی۔ مرزا غالبؔ نے اپنے رقعات میں ان کا ذکر درد انگیز الفاظ میں کیا ہے۔ شاعر صدر الدین آزردہؔ نے ان کی موت پر کہا تھا:

کیونکہ آزردہ نکل جائے نہ سودائی ہو
قتل اس طرح سے بے جرم جو صہبائی ہو
اس حملے میں قتل ہونے والوں کی تعداد کا علم کسی کو نہیں، کیونکہ صرف مولانا صہبائی کے گھر کے اکیس افراد قطار میں کھڑے کرکے گولیوں سے اُڑا دیئے گئے تھے۔ ذکاء اللہ دہلوی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ انگریز حکمراں صرف مسلمانوں کو باغی سمجھتے تھے، ایک انگریز کسی مقامی شخص سے ملتا تو اس سے پوچھتا کہ وہ مسلمان ہے یا ہندو؟۔ اگر وہ ہندو کہتا تو جانے دیا جاتا اور اگر مسلمان کہتا تو پکڑلیا جاتا۔ اسی بنا پر مرزا غالبؔ نے، جو ہنگامہ داروگیر ۱۸۵۷ء کے عینی شاہد تھے، کہا تھا کہ دہلی شہر کی مٹی صرف خون مسلماں کی پیاسی ہے۔ روزانہ ایک دو امیرزادوں کو پھانسیاں ہوتی تھیں، تاہم بعض شہزادے (جن میں مرزا قویاش بھی شامل تھے) کسی نہ کسی طرح چھپ کر جنگلوں میں فرار ہوئے اور پھر ان کا کوئی پتہ نہ چلا۔

مغل شہزادیاں در در کی خاک چھانتی پھریں، ان شہزادیوں کی تو ایک دم دنیا ہی بدل گئی۔ شاہی محل سے نکل کر کٹیا میں آگئیں اور اکثر نے نوکرانیوں کا پیشہ اختیار کرلیا۔ جب ہزارہا مسلمان مارے گئے تو ان کی لاوارث بیویاں، کنواری اور بیاہی لڑکیاں، بہنیں اور مائیں بے سہارا ہو گئیں۔ ان میں سے بہت سی عورتوں نے انگریزی فوج کے مسلمانوں سے نکاح کرلئے۔ بہادر شاہ کی ایک بیٹی ربیعہ بیگم نے روٹیوں سے محتاج ہونے کے سبب دہلی کے مشہور حسین باروچی سے عقد کرلیا۔ اسی طرح بہادر شاہ کی ایک دوسری بیٹی فاطمہ سلطان نے پادریوں کے زنانہ اسکول میں معلمی کا پیشہ اختیار کیا۔ صدہا عورتوں نے اپنے بال جووں کی تکلیف سے سر منڈوا دیئے اور ہزارہا شریف عورتیں بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئیں۔ اگر کوئی شخص ایک ایک خمیری روٹی یا ایک مٹھی چنے یا کوڑیاں تقسیم کرتا تو مسلم خواتین کے غول کے غول جمع ہو جاتے۔ یہ وہ عورتیں تھیں، جو سال دو سال پہلے خود ہزاروں روپئے کی خیرات اپنے گھروں میں بیٹھ کر کرتی تھیں۔ (خواجہ حسن نظامی)
۱۸۵۷ء کے ہنگامے اور ناکام جدوجہد آزادی کے بعد شہر دہلی پر جو قیامت ٹوٹی، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے قلم کانپتا ہے۔ بقول شاعر:
تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ
نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز
مولانا غلام رسول مہر نے اس موقع پر جو جملے کہیں ہیں، یہاں وہ نقل کئے جاتے ہیں: ’’فتح دہلی کے بعد شہر پر عموماً اور مسلمانوں پر خصوصاً جو قیامت گزری، اس کی سرسری کیفیت بھی پیش کرنا کم از کم اتنا درد انگیز اور زہرہ گداز ضرور ہے، جیسا کہ دل کو پہلو سے نکال کر دہکتے ہوئے انگاروں پر ڈال دیا جائے۔ اگر کسی شخص میں اتنی ہمت ہو کہ قلم کا کام برق تپاں سے لے سکے اور سیاہی کی جگہ خون جگر استعمال کرے تو ممکن ہے وہ اس آتشکدہ اور ظلم و تعدی کی دھندلی سی تصویر تیار کرے، جو ۱۶؍ ستمبر ۱۸۵۷ء سے دہلی میں انگریزوں نے بھڑکایا اور مہینوں تک شہر کا سرمایہ، جان و مال اور آبرو خس و خاشاک کی طرح جل کر خاکستر بنتا رہا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT