Wednesday , September 26 2018
Home / مضامین / نہ ہادیہ کی خوشی نہ سعد کا غم کیجئے

نہ ہادیہ کی خوشی نہ سعد کا غم کیجئے

 

محمد مصطفی علی سروری
3 ڈسمبر 2017 ء کو اتوار کا دن تھا سہارنپور اترپردیش کے ایک مسلم خاندان نے وی ایچ پی اور آر ایس ایس کی مدد سے ایک آریہ سماج کی مندر میں جاکر ہندو مت اختیار کرلیا۔ اخبار انڈین اکسپریس کی 5 ڈسمبر 2017 ء کی خبر کے مطابق جس مسلم شخص نے اپنے افراد خاندان کے ساتھ ہندو مت اختیار کیا وہ دراصل پہلے ہندو ہی تھا ۔ 55 سال کے دھرم ویر نے سال2012 ء میں اپنے افراد خاندان کے ساتھ مذہب اسلام قبول کرتے ہوئے اپنا نام محمد سعد اختیار کیا تھا۔ اس کی شکایت ہے کہ مذہب اسلام قبول کرنے کے بعد اس کو ایک شخص مسلسل ہراساں کرنے لگا تھا اور ہراساں کرنے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ ایک مسلمان ہی تھا ۔ دھرم ویر ایک آٹو موبائیل اسپیر پارٹس کی دکان چلاتا ہے ، اس نے اخبار انڈین اکسپریس کے رپورٹر کو بتلایا کہ اپنے والد وجئے پال سے جھگڑے کے بعد سال 2012 ء میں اس نے ہندو مذہب سے ترک تعلق کرتے ہوئے مذ ہب اسلام اختیار کرلیا تھا ، سب ٹھیک ٹھاک تھا ، ہم سب نمازیں بھی پڑھتے تھے لیکن پچھلے ایک سال سے میری 19 سالہ لڑکی کو آصف نام کا ایک نوجوان ہراساں کرنے لگا تھا ۔ میں نے اس کے والدین کو بھی بتلایا ۔ لوگوں کی بھی مدد مانگی لیکن کچھ نہیں بدلا دو مہینے پہلے آصف نے لوگوں کو بتلایا کہ میں نے اس سے ڈھائی لاکھ کا قرضہ لیا ۔ اس کے خراب برتاؤ کے سبب میری بیوی اور بیٹی پریشان ہیں۔ آصف نے اب مجھے بھی ستانا شروع کردیا تھا جس سے تنگ آکر میں نے گزشتہ ہفتہ ہی واپس ہندو مت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور وی ایچ پی اور آر ایس ایس والوں سے ربط پیدا کیا (بحوالہ اخبار انڈین اکسپریس 5 ڈسمبر 2017 ء) کیرالا کی نو مسلم لڑکی ہادیہ کے معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہادیہ کی توصیف و بہادری کے گن گانے والے اس طرح کی خبروں کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔
راجستھان ہائیکورٹ نے اس ہفتے چرا غ سنگھوی کی ایک درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے ۔ چراغ نے عدالت سے اپنی بہن کی شادی کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی ۔ چراغ کی بہن پائل سنگھوی نے قبول اسلام کرکے اپنا نام عارفہ رکھا اور فیض مودی نام کے ایک شخص سے نکاح کرلیا ۔ چراغ سنگھوی اپنی بہن کی شادی کے صداقت ناموں کو جعلی قرار دیا اور عارفہ کو عدالت میں پیش کرنے کی درخواست کی۔ اس کیس میں عارفہ نے عدالت میں پیش ہوکر واضح کردیا کہ وہ 22 سال کی خاتون ہے اور اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہے ۔ چراغ سنگھوی نے عدالت سے استدعا کی کہ صرف ایک حلف نامہ کی بنیادوں پر مذہب تبدیل کرنے کو قبول کرنا غیر دستوری ہے ۔ تمام دلائل کو بغور سننے کے بعد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے کو محفوظ کر دیا ۔ (بحوالہ 5 ڈسمبر 2017 ء ہندوستان ٹائمز)
ان خبروں کو انگریزی اخبارات نے اور بعض تنظیموں نے لو جہاد کا نام دیا تھا لیکن یکم ڈسمبر 2017 ء کو انگریزی کے ہی اخبار ’’ایشین ایج‘‘ نے ایک خبر جئے پور سے ہی شائع کی ہے ۔ خبر کے مطابق 20 سال کی پوجا جوشی گریجویٹ ہے اور اس کو 23 سالہ محسن سے پیار ہوگیا ہے ۔ محسن نے صرف پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے اور ٹیکسی چلاتا ہے ۔ پوجا محسن کے ساتھ بھاگ جاتی ہے ۔ پوجا کے گھر والے پولیس میں شکایت درج کرواتے ہیں، پولیس پوجا کو بیکانیر سے گرفتار کر کے مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرتے ہیں پوجا مجسٹریٹ کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہتی ہے کہ محسن نے اس کو زبردستی نہیں بھگایا ہے بلکہ وہ اپنی مرضی سے محسن کے ساتھ گئی ہے اور جلد ہی جب محسن ہندو مذہب قبول کرے گا تو وہ اس کے ساتھ شادی بھی کرے گی (بحوالہ اخبار ایشین ایج یکم ڈسمبر 2017 ء) یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے ، انٹرنیشنل بزنس ٹائم انڈیا ایڈیشن نے 4 ڈسمبر 2017 ء کو ایک خبر شائع کی خبر کی سرخی تھی “When Kerla college campus became wedding venue for aninter faith couple” خبر کی تفصیلات کے مطابق 2 ڈسمبر 2017 ء کو مہاراجہ کالج کے کیمپس ایرناکلم میں 23 سالہ ا مرناتھ نے کوچی کی 22 سالہ صفنہ سے شادی کرلی ۔ اس شادی میں صفنہ کی ماں ممتاز نے بھی شرکت کی ۔

انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے 5 ڈسمبر 2017 ء کو ایودھیا فیض آباد سے ایک خبر دی ہے کہ گزشتہ نو برسوں سے 38 سالہ یاور اور 28 سال کی ہیم فیض آباد کے ایک روم کے اپارٹمنٹ میں خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔ یاور مسلمان ہے اور ہیم غیر مسلم ۔ یاور نے ایم اے اکنامکس کیا ہے اور ہیم نے ایم اے شوشیالوجی کیا ہے ۔ دونوں کی عمروں میں 10 برسوں کا فرق ہے لیکن دونوں نے اپنی پسند سے کورٹ میریج کی۔ یاور اپنے آپ کو بدستور اسلام کا پیروکار مانتا ہے اور ہیم اپنے مذہب پر قائم ہے۔ ہیم نے اخبار کو بتلایا کہ اس کو اس وقت بڑی پریشانی ہوتی ہے جب وہ غلطی سے کسی مسلمان کو جئے شری رام کہہ دیتی ہے (بحوالہ TOI 5 ڈسمبر 2017 ء) ایک خبر ہو تو نظر انداز کی جاسکتی ہے ، اخبارات اٹھاکر دیکھیں تو کئی خبریں نظروں کے سامنے آتی ہیں کس کو نظر انداز کروں اور کس کو پڑھوں سمجھ میں نہیں آتا ۔
2 نومبر 2017 ء کو گریش کمار شرما نے اترکھنڈ ہائی کورٹ میں اپنی لڑکی کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے ایک عرضی داخل کی ۔ 14 نومبر کو گر یش کمار شرما کی لڑکی ارجا اپنے شوہر کے ساتھ عدالت میں پیش ہوتی ہے اور بتلاتی ہے کہ اس نے اتل شرما کے ساتھ شادی کرلی ہے ۔ ارجا کی عمر 18 برس اور اتل شرما کی عمر 24 برس بتلائی گئی ہے ۔ بظاہر تو یہ ایک مذہب کے ماننے والوں کے درمیان شادی کا مسئلہ لگتا ہے مگر عدالت میں ارجا کے والد کے وکیلوں نے بتلایا کہ اتل شرما دراصل ایک مسلمان ہے جس کا نام عادل حسین انصاری ہے جس نے ایک ہندو لڑکی سے شادی کرنے کیلئے ہندو بننے کا ناٹک کیا ہے لیکن اتل شرما نے عدالت میں ایک سرٹیفکٹ پیش کیا ہے جس کے مطابق اس نے 28 اگست 2017 ء کو ہی مذہب اسلام ترک کرکے ہندو ازم کو قبول کرلیا ہے اور اس کا باضابطہ شدھی کرن ہوا ہے۔
21 نومبر 2017 ء کو ارجا نے اتل کے ساتھ اپنی شادی کو تسلیم تو کیا مگر اپنے والدین کو مزید تکلیف نہ دینے کی خاطر انہی کے ساتھ ان کے گھر کو جانے کا اعلان کیا ۔ (بحوالہ اخبار انڈین اکسپریس 21 نومبر 2017 ء)
بہار کے ضلع مغربی چمپارن کے رویندر شاہ کا 16 سالہ لڑکا مکیش کمار اسکول میں 9 ویں جماعت کا طالب علم تھا ۔ رویندر کو دسویں جماعت کی ایک مسلم لڑکی نور جہاں سے پیار ہوگیا تھا ۔ رویندر ایک خانگی اسکول میں پڑھتا تھا اور اسکول جانے کے دوران راستے میں اس کی نورجہاں سے ملاقات ہوتی تھی ۔ ا یک دن نورجہاں کے گھر والوں نے اس کو رویندر کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھ لیا اور پھر کچھ ہی دنوں بعد میں رویندر اور نورجہاں دونوں کی ہی مشتبہ حالت میں موت واقع ہوگئی ۔ پولیس کے حوالے سے اخبار نے دونوں کی موت کو Honour Killing قرار دیا ہے ۔ یعنی نورجہاں کے گھر والوں نے نہ صرف رویندر کو بلکہ نورجہاں کوبھی اپنی عزت نفس کی خاطر ہلاک کر ڈالا ۔ (یکم ڈسمبر 2017 ء اخبار انڈین اکسپریس)
اپریل 2016 ء میں ہندوستانی فوج میں برسرکار ایک مسلمان نے ایک آریہ سماج کی مندر میں اشلوکوں کی گونج میں آگ کے اطراف سات پھیرے لیتے ہوئے ایک ہندو لڑکی سے شادی کرلی۔ بھوپال میں ہوئی اس شادی کے خلاف لڑکی کے والدین نے ایف آئی آر درج کروائی کہ لڑکی ابھی نابالغ ہے۔ پولیس نے لڑکی کو اپنی تحویل میں لیکر والدین کے حوالے کردیا ۔ تب ہندوستانی فوج کا یہ ملازم سپریم کورٹ سے رجوع ہوا اور Habeas Corpus کی پٹیشن داخل کی اور عدالت العالیہ کو بتلایا کہ وہ اب مسلمان نہیں بلکہ ہندو دھرم اختیار کرچکا ہے ۔ فوج میں اپنے اعلیٰ ارباب کو بھی اس نے اطلاع دے رکھی ہے کہ وہ اب ہندو بن چکا ہے اس لئے عدالت اس کو اس کی بیوی واپس لوٹادے۔ مسلمان سے ہندو بن جانے والے اس شخص نے عدالت میں اپنی بیوی کے بالغ ہونے کے شواہد بھی پیش کئے ۔ سپریم کورٹ نے اس ’’ہندو‘‘ شخص کو اس کی بیوی کے متعلق کوئی واضح ہدایت دیئے بغیر کیس کو خارج کردیا ۔ (بحوالہ سی این ا ین نیوز 18 ، 17 نومبر 2017 ء)

ان ساری تفصیلات کو پڑھنے کے بعد قارئین اکرام فیصلہ آپ کریں کہ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں ۔ ایک ہادیہ کے معاملے پر خوش ہونا چاہئے یا ان لوگوں کا غم جو شادی کیلئے اسلام کو ترک کرنے تیار ہیں ۔ ہادیہ کا قبول اسلام اگر بڑا واقعہ ہے تو اس سے بڑے واقعات بھی گزشتہ دو ایک مہینوں کے دوران ہوچکے ہیں ۔ کسی پر افسوس کرنے اور کسی پر لعن طعن کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ ہاں ہمیں اپنا اور اپنے اطراف واکناف کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اس طرح کا کوئی واقعہ نہ ہوسکے۔
بین مذہبی شادیاں ہوں یا تبدیلی مذہب کے بعد ہونے والی شادیاں یہ شادیاں اکثر دو فرقوں اور مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان نفرت اور مسائل کا سبب بنتی ہیں ، ہمیں کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں ۔ ہمیں ہی طئے کرلینا چاہئے ۔ اگر ہم اپنے لئے خود اپنا لائحہ عمل طئے نہیں کریں گے ، تب یہی کام کوئی اور کرے گا ۔ سب سے پہلے والدین اس بات کو سمجھ لیں کہ اپنے بچوں کی دینی تعلیم اور تربیت انہی کی ذمہ داری ہے ۔ کوئی اسکول کوئی مدرسہ کوئی ٹیچر کوئی مولوی صاحب سے سوال نہیں ہوگا اور دنیا بھی صرف والدین پر ہی لعن طعن کرتی ہے۔ ہم سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ تم نے ہادیہ کے قبول اسلام پر جشن کیوں نہیں منایا اور عارفہ کے مسلمان ہونے کی خوشی کیوں نہیں منایا ۔ ہم سے اس بات کا بھی سوال نہیں ہوگا کہ تم نے سعد اور محسن کے مرتد ہونے کا غم کیوں نہیں منایا لیکن قارئین اکرام اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ ہم سے ایک سوال ضرور ہوگا کہ تم نے اپنی اولاد کی تربیت کیلئے کیا کیا تھا ؟ دوسروں کے غم و خوشی میں شریک ہونے سے پہلے اپنے گھر اور بچوں کی فکر کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی اولاد کی تربیت کا سامان کرنے والا بنادے اور ان لوگوں کا راستہ چلا جن پر اس کا انعام ہوا ہو۔ (آمین)
نہ ہادیہ کی خوشی نہ سعد کا غم کیجئے
پہلے تو اپنے گھر کی فکر کیجئے
[email protected]

TOPPOPULARRECENT