نیا حج ہاوز پہاڑی شریف میں تعمیر نہیں ہوگا

حیدرآباد۔/25جنوری، ( سیاست نیوز) ریاستی عازمین حج کیلئے شمس آباد انٹر نیشنل ایر پورٹ کے قریب پہاڑی شریف کے مقام پر حج ہاوز کی تعمیر کے فیصلہ پر عمل آوری کو عملاً روک دیا گیا ہے۔ نیا حج ہاوز اب پہاڑی شریف نہیں بلکہ قلب شہر میں تعمیر کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں بعض تجاویز حکومت کے زیر غور ہیں۔ توقع ہے کہ بہت جلد اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہ

حیدرآباد۔/25جنوری، ( سیاست نیوز) ریاستی عازمین حج کیلئے شمس آباد انٹر نیشنل ایر پورٹ کے قریب پہاڑی شریف کے مقام پر حج ہاوز کی تعمیر کے فیصلہ پر عمل آوری کو عملاً روک دیا گیا ہے۔ نیا حج ہاوز اب پہاڑی شریف نہیں بلکہ قلب شہر میں تعمیر کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں بعض تجاویز حکومت کے زیر غور ہیں۔ توقع ہے کہ بہت جلد اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود حکومت سے منظوری حاصل کرلے گا۔ موجودہ حج ہاوز نامپلی سے متصل کھلی اراضی پر نئے حج ہاوزکی تعمیر یا پھر موجودہ حج ہاوز کو خالی کرتے ہوئے اسے 30برس کیلئے حج کمیٹی کو لیز پر دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ نئے حج ہاوز کی تعمیر کے سلسلہ میں اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال، اسپیشل آفیسر حج کمیٹی ایس اے شکور اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اجلاس میں متفقہ طور پر پہاڑی شریف کے قریب حج ہاوز کی تعمیر کی تجویز کو مسترد کردیا کیونکہ یہ عازمین حج اور ان کے رشتہ داروں کیلئے تکلیف دہ ثابت ہوگا۔ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں پہاڑی شریف کے قریب 10ایکر اراضی پر نئے حج ہاوز کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا۔ حکومت نے اس سلسلہ میں 12کروڑ روپئے مختص کئے اور پہلی قسط کے طور پر 3کروڑ روپئے کی رقم جاری کردی گئی جو محکمہ اقلیتی بہبود کے پاس ہے۔ نئے حج ہاوزکی تعمیر کے سلسلہ میں جاری تعطل کو ختم کرنے کیلئے منعقدہ اجلاس میں عہدیداروں نے شہر کے مضافاتی علاقہ میں حج ہاوز کی تعمیر کو ناموزوں قرار دیا۔ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ عازمین حج مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں

اور ان کے رشتہ دار بھی انہیں وداع کرنے کیلئے بڑی تعداد میں آتے ہیں ایسے میں بنیادی سہولتوں سے محروم دور دراز علاقے میں حج ہاوز تعمیر کرنا ان کیلئے باعث تکلیف ہوگا۔ عہدیداروں نے کہا کہ حج درخواست فارم کی اجرائی سے لیکر روانگی تک عازمین حج کو ایک سے زاید مرتبہ حج ہاوز آنا پڑتا ہے۔ ایسے میں انہیں شہر کے مضافاتی علاقے کو پہنچنے میں دشواری ہوگی۔ عام طور پر حج کمیٹی سے ضعیف افراد ہی روانہ ہوتے ہیں لہذا شہر کے مرکزی مقام پر حج ہاوز کی موجودگی سے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے رشتہ داروں کو بھی سہولت ہوگی۔ نامپلی پر موجود حج ہاوز شہر کے مرکزی مقام پر ہے جہاں سے نہ صرف بس بلکہ ٹرین کی بھی سہولت قریب میں موجود ہے۔ اطراف کے علاقے میں عوام کو ضروری اشیاء کے حصول کی بھی سہولت ہے جبکہ اس طرح کی سہولت پہاڑی شریف کے علاقے میں حاصل نہیں ہوگی۔

اجلاس نے تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد شہر کے مرکزی مقام پر حج ہاوزکی تعمیر سے اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ضروری قواعد کی تکمیل کے ذریعہ حکومت سے اجازت حاصل کی جائے گی۔اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ نامپلی حج ہاوز سے متصل کھلی اراضی پر نیا حج ہاوز تعمیر کیا جاسکتا ہے یا پھر موجودہ حج ہاوز کی عمارت کو 30برس کی لیز پر حج کمیٹی کو حوالے کیا جائے۔ پہاڑی شریف میں ایک ایجوکیشن سوسائٹی کو 27ایکر اراضی الاٹ کی گئی تھی جس میں سے حکومت نے 10ایکر حاصل کرتے ہوئے حج ہاوز کی تعمیر کا فیصلہ کیا تھا۔ مختلف گوشوں سے شہر کے دور دراز علاقے میں حج ہاوز کے قیام کی اس لئے بھی مخالفت کی جارہی تھی کیونکہ صرف حج سیزن کے بعد اس عمارت کا استعمال مشکل ہوجائے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT