Saturday , November 25 2017
Home / مضامین / نیا ہندوستان ’’کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں‘‘

نیا ہندوستان ’’کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں‘‘

غضنفر علی خاں

ملک کے 71 ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ 2022 ء تک ہم ایک نیا ہندوستان بنائیں گے ۔ اب یہ تو وہی جانے کہ نیا ہندوستان کیسا ہوگا اور کیوں کر بنے گا۔ غالباً انہوں نے یہ سوچ کر تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے یوم آزادی جیسے اہم موقع پر عوم کو مخاطب کرتے ہوئے ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کا خواب فروخت کردیا۔ یہ بھی وزیراعظم نے نہیں بتایا کہ نیا بھارت کن باتوں میںعظیم الشان تاریخ رکھنے والے ہمارے ملک کی مجوزہ نئی شکل کیا ہوگی ۔ کیا اس میں دستور اور قانون کا احترام بھی ہوگا جوان کی اپنی پارٹی بی جے پی کے لیڈر پسند نہیں کرتے۔ کھلے طور پر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ بی جے پی لیڈر گوشت کھانے والوں کو پاکستان چلے جانے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ ان کے دینی مدارس کو اپنے اصولوں پر چلانے کا تقاضہ کرتے ہیں۔ وندے ماترم گانے پر اصرار کرتے ہیں۔ کیا نئے ہندوستان میں ان شرپسند عناصر کو لگام دی جائے گی یا پھر انہیں کچھ بھی کہنے یا کرنے کی آزادی حاصل رہے گی جو آج کے ہندوستان میں ان لوگوں کوحاصل ہے ۔ وزیراعظم نے یہ نہیں سوچا کہ مونگیری لال کے حسین سپنے (خواب) صرف کہانیوں میں اچھے لگتے ہیں، حقیقت میں ان کی کبھی تعبیر نہیں ہوتی۔ یہ سپنے ریت پر بنائے ہوئے ان محلوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں ایک طوفان کے تھپیڑے تنکوں کی طرح بکھر دیتے ہیں۔ نیا ہندوستان کیسے بنے گا یہ نیا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہوگا ، اس میں شک کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جتنے خواب ابھی تک اس مودی حکومت نے دکھائے ہیں وہ پچھلے تین سالہ دور میں پورے نہیں ہوئے ۔

یہ نہ تو ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ والا خواب پورا ہوا اور نہ کالا دھن واپس لاکر ہر ہندوستانی کو لاکھوں روپئے ملنے کا خواب کبھی سچائی بن سکا، ایسے کئی وعدے ہیں جن کی فہرست طویل ہے ۔ پھر یہ نیا خواب کیوں دکھایا جارہا ہے ۔ حکومت نے جتنے بلند بانگ دعوے کئے تھے جتنے خواب دکھائے تھے وہ ’’اچھے دن‘‘ تو آج تک نہیں آئے۔ اچھے دن بھی ان سپنوں میں شامل ہے جو مودی حکومت نے ملک کی مارکٹ میں بیچے ہیں۔ خریدار بیچارے عوام میں جو ہر نئے نعرے کے بعد یہ امید لگا بیٹھے ہیں کہ ان کے دن پھر جائیں گے ۔ رقم از خود ان کے بینک کھاتوں میں دوڑتی چلی آئے گی ، اچھے دن ان کے دروازہ پر دستک دے گی۔ مہنگائی کا دیو انہیں آنکھیں نہیں دکھاسکے گا ۔ عوام بڑے بھولے بھالے خریدار ہوتے ہیں۔ اس لئے بھی کہ خواب انہیں کوئی اور نہیں ملک کی حکومت اور اس کے سربراہ وزیراعظم دکھاتے ہیں۔ تین سال میں کتنی ناکامیاں حکومت کو درپیش ہوئے ان کی امیدیں کس طرح سے حسرتوں میں بدلتی رہیں، اس کا کوئی اندازہ موجودہ حکومت کو نہیں ہے۔ نیا ہندوستان یہ حکومت اور وزیراعظم کیوں بنانا چاہتے ہیں۔ کیا ان گنت صدیوں قدیم کا موجودہ ہندوستان اس کا سیکولرازم اس کی رواداری ، تحمل پسندی حکومت اور وزیراعظم کو پسند نہیں ہے ۔ کیا اظہار خیال کی آزادی اس کے گلے سے نہیں اتر رہی ہے ۔ آخر کتنے سوالات کا حکومت اطمینان بخش جواب دے سکتی ہے ۔ کوئی نئی قوم یا نیا ملک محض لفاظی سے نہیں بن سکتا۔ لال قلعہ کی فصیل سے تقریر کرنے سے ہندوستان کو نیا روپ نہیں دیا جاسکتا ۔ اس کے لئے وہ جانفشانی و نفسی قربانیاں دینی پڑتی ہیں جو ہمارے قومی رہنماؤں گاندھی جی اور جواہر لال نہرو نے دی ہے ۔ ان کی پیڑی کے سبھی قائدین نے دی تھیں۔ ا یسے لوگ نیا ہندوستان نہیں بناسکتے جن کے دلوں میں مسلم اقلیت کے تعلق سے بغض و عناد ہو جو مسلمانوں کی وطن دوستی یا ان کی قوم پرستی پر حرف گیری کرتے ہیں ۔ ہاں بے شک اگر ان میں ہمت ہے تو پھر 2022 ء تو کیا اس سے قبل ہی نئے ہندوستان کی تعمیر ہوسکتی ہے لیکن اس کو کیا کیجئے کہ حکمراں طبقہ کا ذہن کشادہ نہیں ہے ۔ ان کے دل ان کی نیت صاف نہیں ہے ۔ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ حکمراں طبقہ ہر بات یک طرفہ انداز سے سوچتا ہے جس میں اختلاف رائے کو ملک سے غداری کے مماثل سمجھا جاتا ہے ۔

یہ وہ ذہن ہے جواختلاف کرنے والوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے ۔ یہ وہ حکمراں طبقہ ہے جو ذہن کو کبھی کشادہ نہیں کرسکتا۔ یہ وہ فکر ہے جو گائے کے گوشت کی موجودگی کے شبہ پر کسی محمد اخلاق کو ہلاک کردیتا ہے ۔ یہی وہ ذہن ہے یہی وہ سوچ ہے جو پہلو خان کے خاندان کو اجاڑ دیتا ہے جو کسی مسلم نوجوان جنید کو دوران سفر ریل کے ڈبے میں مار ڈالتا ہے جو گائے کی حفاظت کے نام پر انسانوں کو زندہ درگور کردیتا ہے ۔ کیا اس چھوٹے ذہن کے ساتھ نیا ہندوستان بنے گا ۔ کیا دینی مدارس میں وندے ماترم کے لزوم سے نیا ہندوستان بنے گا؟ کیوں دینی مدارس کی وطن پرستی اور ان کے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگا جارہا ہے۔ ہمارے مدرسے ہمارے فکر کی سرحدوں کے نگہبان ہوتے ہیں یہاں طلبہ کو کسی دہشت گردی کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ آج تک کسی دینی مدرسے کے کسی طالب علم کو ایسے کسی الزام کے تحت گرفتار کیا گیا پھر کیوں وزیراعظم مودی کی آنکھوں کے اشارے اترپردیش کے چیف منسٹر نے وندے ماترم کو لازمی قرار دے کر مذہبی علماء اور مدرسوںکے اساتذہ کی صفوں میں کھلبلی پیدا کردی ۔ وقفہ وقفہ سے کیوں مدارس کو شکار بنایا جاتا ہے ۔ کیا نئے ہندوستان میں فکر و خیال کی آزادی پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ اگر نہیں ہوئی تو یہ کوئی نئے ہندوستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے گا کیونکہ نئے بھارت کی تعمیر میں ہر کسی کا رول ہونا چاہئے ۔ عین اس دن جبکہ وزیراعظم یوم آزادی کے موقع پر تقریر کر رہے تھے ۔ ہریانہ میں ایک معصوم بچی کی عصمت ریزی ہوئی ، اسی دن ایک معصوم بچہ کھڈ میں گر پڑا ، یہ تو وہ واقعات ہیں جو میڈیا میں آئے ، خدا جانے ایسے کتنے دردناک دیگر واقعات ہوں گے جو وقوع پذیر ہوئے ہوں گے ۔ اس دن سے کچھ اور قبل ہی یو پی کے ضلع گورکھپور کے ایک اسپتال میں جو میڈیکل کالج بھی ہے ، دلخراش واقعہ پیش آیا ۔ جہاں 60 معصوم بچوں کی محض اس لئے موت ہوگئی کہ انہیں بروقت آکسیجن مہیا نہیں کی گئی اور آکسیجن سلینڈر کی کمی اس لئے پیدا ہوئی تھی کہ اسپتال کے ذمہ داروں نے گیس سپلائی کرنے والی کپنی کو بل ادا نہیں کیا تھا ۔ یہ بچے ہلاک ہوگئے اور وزیراعظم کے چہیتے وزیر اعلیٰ یوگی جی کی حکومت سارے غمناک واقعہ کی خاموش تماشائی بنی رہی تو کیا وزیراعظم جس نئے ہندوستان کی تعمیر کی بات کر رہے ہیں اس میں نہ صرف یو پی بلکہ ملک کے ہر دیہات یا ضلع اور مقام پر ایسی اموات نہیں ہوں گی ۔ پہلے نظم و نسق میں پیدا شدہ ان نقائص کو تو ختم کرے پھر وندے ماترم گائے یا نہ گائے کی بات کیجئے ۔ یہ نہیں کہ ہندوستان بن ہی نہیں سکتا ۔ یقیناً بن سکتا ہے اور یقیناً بننا بھی چاہئے ۔ تعمیر نو کیلئے میٹریل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ موجودہ ناقص میٹریل سے نئے ہندوستان کو نہیں بنایا جاسکتا ۔ میٹریل کے علاوہ تعمیر کیلئے اچھے اچھے بلڈرس بھی ضروری ہیں ۔ فی الحال ان دونوں ضروری چیزوں کی حکمراں طبقہ میں کمی نہیں بلکہ یہ خوبیاں بالکلیہ طور پر نہیں ہیں، نیا ہندوستان کوئی خواب نہیں جو کوئی بھی مونگیری لال دکھاسکتا ہے ۔ ملک کے عوام ہر چیز کو سمجھتے ہیں، انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کوئی بچے نہیں، کوئی طفل مکتب نہیں ہیں جنہیں کھلونے دیکر بہلایا جاسکتا ہے ۔ موجودہ حکومت سپنوں کی سوداگری میں مصروف ہے اور ہر وقت کوئی نیا کھلونا عوام کے ہاتھوں تھما دیتی ہے۔ تسلیاں دے کر انہیں گمراہ کرتی ہے ۔ نئی تمناؤں کا سہارا لیا جاتا ہے ۔
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کر بہلایا گیا ہوں

TOPPOPULARRECENT