Monday , September 24 2018
Home / سیاسیات / نیتاجی سبھاش چندر بوس کی فائیلس کا افشاء نہیں کیا جاسکتا

نیتاجی سبھاش چندر بوس کی فائیلس کا افشاء نہیں کیا جاسکتا

کولکتہ۔ 17 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم کو نیتاجی سبھاش چندر بوس کی پراسرار گمشدگی سے متعلق خفیہ فائیلس کے افشاء کا اختیار نہیں ہے۔ وزیراعظم کے دفتر نے آج آر ٹی آئی جواب میں یہ وضاحت کی۔ تیرواننتاپورم کے ایک آئی ٹی پروفیشنل سریجیت پنیکر نے پی ایم او کو آر ٹی آئی درخواست روانہ کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ کیا وزیراعظم کو یہ اختیار ہے کہ وہ

کولکتہ۔ 17 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم کو نیتاجی سبھاش چندر بوس کی پراسرار گمشدگی سے متعلق خفیہ فائیلس کے افشاء کا اختیار نہیں ہے۔ وزیراعظم کے دفتر نے آج آر ٹی آئی جواب میں یہ وضاحت کی۔ تیرواننتاپورم کے ایک آئی ٹی پروفیشنل سریجیت پنیکر نے پی ایم او کو آر ٹی آئی درخواست روانہ کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ کیا وزیراعظم کو یہ اختیار ہے کہ وہ ان فائیلس کا افشاء کرتے ہوئے قومی آثارِ قدیمہ کو بھیجنے کی ہدایت دیں؟ گزشتہ سال دہلی کے آر ٹی آئی کارکن سبھاش اگروال نے پی ایم او سے اپیل کی تھی کہ وہ نیتاجی سبھاش چندر بوس سے متعلق ریکارڈس کا افشاء کرے۔ اس سے پہلے پی ایم او نے یہ کہتے ہوئے انکشاف سے انکار کیا تھا کہ ایسا کرنے سے بیرونی ممالک سے روابط متاثر ہوسکتے ہیں۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس کو اُس وقت کلکتہ میں انگریزوں نے نظربند رکھا تھا اور وہ 1941ء میں فرار ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے ملک کو آزادی دلانے کیلئے بین الاقوامی تائید حاصل کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ انہوں نے جاپان کی مدد سے انڈین نیشنل آرمی قائم کی تھی۔ وہ 1945ء سے لاپتہ ہیں اور ان کی ٹھکانے کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ مکرجی کمیشن نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا کہ 18 اگست 1945ء کو تائیوان میں واقع تائی ہیکو ایرپورٹ پر طیارہ حادثہ میں وہ ہلاک ہوگئے تھے۔ پنیکر نے جو ’’مشن نیتاجی‘‘ ریسرچ گروپ کا ایک حصہ ہیں، نیتاجی سبھاش چندر بوس کی خفیہ فائیلوں کی حقیقی تعداد کے بارے میں بھی سوال کیا تھا۔ پی ایم او نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق دفتر میں 41 فائیلس ہیں اور ان میں سے 36 فائیلس کے نام دیئے گئے۔ پی ایم او نے کہا کہ مابقی 5 فائیلوں کو حق معلومات قانون کی مختلف دفعات کے تحت افشاء سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ یہ شعبہ اُن امور سے تعلق رکھتا ہے جہاں اس بارے میں انکشافات سے ہندوستان کی سلامتی، سالمیت اور یکجہتی متاثر ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ ملک کے سائنٹفک یا معاشی مفادات پر بھی اثر پڑسکتا ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ روابط بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ جن فائیلس کے ناموں کا انکشاف کیا گیا ہے، ان میں ایک فائیل نیتاجی کی بیوہ کی 1996ء میں جرمنی میں آخری رسومات سے متعلق ہے، اسے ’’رازدارانہ‘‘ قرار دیا گیا جبکہ ایک اور فائل نیتاجی کی بیوہ اور بیٹی کے بارے میں ہے جسے ’’انتہائی خفیہ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT