نیتن یاہو کی مسجدا قصیٰ کو نقصان نہ پہنچانے کی یقین دہانی

یروشلم ، 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اردنی فرمانروا شاہ عبد اللہ دوم کو یقین دلایا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھا جائے گا اور اس کے’موقف‘ میں کسی قسم کا رد وبدل کرنے اور یہودیوں کو وہاں پر عبادت کی غرض داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تل ابیب میں اسرائیلی وزیر

یروشلم ، 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اردنی فرمانروا شاہ عبد اللہ دوم کو یقین دلایا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھا جائے گا اور اس کے’موقف‘ میں کسی قسم کا رد وبدل کرنے اور یہودیوں کو وہاں پر عبادت کی غرض داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے سکریٹریٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ حکومت مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے حوالے سے اردن کی نگرانی کے فیصلے پر قائم ہے۔ امن معاہدے کے تحت مسجد اقصیٰ کی نگرانی اور سر پرستی کی ذمہ داری اردن ہی کی ہے۔اسرائیل اس حیثیت کو تبدیل نہیں کرے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم اور نیتن یاہو نے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے جس میں دونوں قائدین نے بیت المقدس میں ہر طرح کے تشدد کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے۔ ادھر عمان میں اردنی شاہی دیوان سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی وزیر اعطم نے شاہ عبداللہ دوم سے بات چیت میں یقین دلایا ہے کہ وہ بیت المقدس میں کشیدگی کو پرامن طریقے سے ختم کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے یقین دلایا کہ پرتشدد کارروائیوں کے باوجود مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔

نیتن یاہو سے بات کرتے ہوئے شاہ عبداللہ دوم نے واضح کیا کہ اردن مسجد اقصیٰ کی حرمت اور تقدس پر کسی قسم کے حملے برداشت نہیں کرے گا۔ اسرائیلی حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کی بندش اور مقدسات اسلامیہ کے خلاف ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کو سختی سے روکنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل بیت المقدس میں ایسی صورت حال پیدا کرنے سے گریز کرے جس سے علاقائی امن وسلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ خیال رہے کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان 1994ء میں طے پائے امن معاہدے کی رو سے اسرائیل نے بیت المقدس کے تمام مقدس اسلامی مقامات کی سرپرستی کا حق اردن کو دے رکھا ہے۔ معاہدہ کے تحت مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت کی غرض سے داخل نہیں ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے علی الرغم یہودی آبادکار روزمرہ کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ میں گھس کر وہاں مخصوص تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرتے اور مقدس مقام کی کھلی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بیت المقدس کی اسرائیلی پولیس نے بھی یہودی شرپسندوں کو مسجد اقصیٰ پر دھاؤوں کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ میں داخلے کیلئے اس کے تاریخی مراکشی دروازے کو اپنی آمد ورفت کیلئے مخصوص کر رکھا ہے، جہاں انہیں اسرائیلی پولیس کی جانب سے فول پروف سکیورٹی مہیا کی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT