Saturday , September 22 2018
Home / ہندوستان / نیروو مودی اسکام :اپیل پر جمعہ کو سپریم کورٹ میں سماعت

نیروو مودی اسکام :اپیل پر جمعہ کو سپریم کورٹ میں سماعت

وپل امبانی گرفتار، مفرور ملزمین کو ملک واپس لانے کیلئے کارروائی
نئی دہلی 20 فروری (سیاست ڈاٹ کام) نیروو مودی اسکام کے سلسلہ میں محکمہ انکم ٹیکس نے آج چوکسی اور گیتانجلی گروپ سے مربوط مزید 20 عمارتوں کی تلاشی لی۔ پی ایم بی فراڈ مقدمہ میں پہلی بڑی گرفتاری کرتے ہوئے سی بی آئی نے وپل امبانی کو تفتیش کیلئے حراست میں لے لیا جبکہ دیگر چار سینئر ایگزیکیٹیوز کو بھی گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف دو ایف آئی آر درج کئے گئے۔ دریں اثناء سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر جمعہ کو سماعت کرنے سے اتفاق کرلیا ہے جس میں پنجاب نیشنل بینک میں 11,000 کروڑ روپئے کی دھوکہ دہی کے اسکام کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعہ تحقیقات کے ساتھ چند دیگر راحتیں فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ میں گزشتہ روز دو علیحدہ درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن میں مرکز کو فی الحال بیرون ملک موجود نیروو مودی اور دوسروں کی بعجلت ممکنہ اور ترجیحاً اندرون دو ماہ ملک بدری کے لئے عمل شروع کرنے کی ہدایت دینے کی خواہش بھی کی گئی تھی۔ ایک درخواست پر آج چیف جسٹس دیپک مصرا کی بنچ پر سماعت 23 فروری کو آئندہ سماعت مقرر کی ہے۔ ونیت دھانڈا نے اپنے وکیل بی پی دھانڈا کے توسط سے مفاد عامہ کی یہ اپیل دائر کی ہے۔ انھوں نے ارب پتی جوہری نیروو مودی اور میہول چوکسی کے مبینہ بینک دھوکہ دہی اسکام کی تفصیلات کا پتہ چلانے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست کی ہے۔ نیز پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) کے اعلیٰ انتظامیہ کے رول کی تحقیقات کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ ایک ایڈوکیٹ ایم ایل شرما کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم عدالت عظمیٰ کے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ہونی چاہئے۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ بینکنگ دھوکہ دہی سے عوام اور سرکاری خزانہ کو بدترین نقصان پہونچا ہے۔ شرما نے اپنی درخواست میں کہاکہ ’’اس (اسکام) کی ایک ایسی ایجنسی کی طرف سے تحقیقات ہونی چاہئے جو سیاسی قائدین / حکام کے زیرکنٹرول نہ رہے‘‘۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے مالیاتی قواعد اور باقاعدہ طریقہ کار کی پابندی کے بغیر ہی یہ قرض جاری کئے گئے تھے۔ دھانڈا کی درخواست میں وزارت فینانس کو عدالت کی طرف سے یہ ہدایت دینے کی استدعا بھی کی گئی کہ 10 کروڑ روپئے یا اس سے زائد رقم کے قرض کی اجرائی کے لئے رہنما خطوط وضع کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT