Saturday , December 15 2018

نیرو ومودی، بی جے پی کے پارٹنر ، فنڈس جمع کرنے میں اہم رول

۔500 روپئے کا قرض ادا کرنے میں ناکام کسان خودکشی پر مجبور، شراب اور ہیرے کے بیوپاری لاکھوں کروڑ روپئے کیساتھ ملک سے فرار : شیوسینا

ممبئی۔ 17 فرور ی (سیاست ڈاٹ کام) پنجاب نیشنل بینک میں ہزاروں کروڑ روپئے کے اسکام کے لئے شیوسینا نے آج وزیراعظم نریندر مودی کو سخت ترین تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ اس اسکینڈل کے مرکزی کردار ہیروں کے بیوپاری نیرو مودی بی جے پی کے پارٹنر (ساجھیدار) رہے ہیں اور انتخابات کیلئے فنڈز جمع کرنے میں اس (بی جے پی) کی مدد کی تھی۔ ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت اس پارٹی نے جو مرکز اور ریاست مہاراشٹرا میں حکمراں بی ے پی کی قریبی حلیف بھی ہے، کہا کہ ملک میں رشوت ستانی کا خاتمہ کرنا وزیراعظم مودی کی طرف سے ’’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘‘ کے نعرہ کے ساتھ کئے گئے وعدے کی دھجیاں اُڑ چکی ہیں، کیونکہ پنجاب نیشنل بینک میں 11,400 کروڑ روپئے کے اسکام کا پردہ فاش ہوگیا ہے۔ اس اسکام کے منظر عام پر آنے کے بعد نیرو مودی اور ان کے چچا میہول چوسکی کمیٹیاں بھی شک کے دائرہ میں آگئی ہیں۔ شیوسینا کے ترجمان مرہٹی روزنامہ ’’سامنا‘‘ کے اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ ’’اس بات کا علم ہوا ہے کہ نیرو مودی جنوری میں ملک چھوڑ کر چلا گیا تھا لیکن چند ہفتہ قبل ڈاؤس میں وہ وزیراعظم مودی کے ساتھ (باہمی اقتصادی فورم) کے اجلاس میں دیکھا گیا۔ نیرو مودی، بی جے پی کا ساجھیدار ہے اور انتخابات کے لئے عطیات جمع کرنے میں بی جے پی کی مدد میں سب سے آگے رہا ہے‘‘۔ شیوسینا نے اداریہ میں مزید کہا کہ وہ یہ الزام نہیں لگا رہی ہے کہ ہیرے جواہرات کا یہ تاجر بی جے پی کے آشیرواد سے ملک کو لوٹ رہا ہے

لیکن ایسے کئی نیرو مودی ہیں جو بی جے پی کو اپنی دولت میں اضافہ کرنے اور انتخابات جیتنے میں مدد کررہے ہیں۔ شیوسینا نے مزید کہا کہ ’’وزیراعظم کا یہ نعرہ کہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا‘‘ اس معاملے میں غیرموثر ثابت ہوگیا ہے کیونکہ نیرو بھائی کے خلاف پہلے ہی ایک ایف آئی آر درج کرلیا گیا ہے‘‘۔ شیوسینا نے سوال کیا کہ ’’آیا پھر کس طرح وہ (نیرو مودی) ڈاؤس جاپایا اور وہاں دیگر صنعت کاروں کے ساتھ وزیراعظم مودی سے ملاقات کی تھی۔ شیوسینا کے ترجمان مرہٹی اخبار نے لکھا کہ ’’زیورات کے اس ارب پتی ڈیزائنر کے ملک چھوڑ کر فرار ہونے کے بعد ہی انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ (ڈی ڈی) حرکت میں آتے ہوئے نیرو مودی کی جائیدادوں کی مہر بندی کی ہے۔’’سامنا‘‘ نے لکھا کہ ’’چھگن بھوجبل اور لالو پرساد یادو جیسے سیاست داں رشوت ستانی کے معاملات میں سلاخوں کے پیچھے ہیں لیکن شراب کا تاجر وجئے ملیا اور ہیروں کا سوداگر نیرو مودی حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے ملک سے فرار ہوگیا ہے۔ ’’سامنا‘‘ نے مودی حکومت کے خلاف غیرمعمولی سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے لکھا کہ ’’رشوت سے پاک ہندوستانی اور شفاف حکومت کی باتیں محض تین سال میں کھوکھلی اور بے معنی ثابت ہوگئی ہیں۔ کسان خودکشی کررہے ہیں۔ کیونکہ وہ محض 100 روپئے اور 500 روپئے کے قرض ادا کرنے کے موقف میں بھی نہیں رہے ہیں۔ لیکن یہاں ایسے بھی چند لوگ ہیں جو لاکھوں کروڑ روپئے کی لوٹ کھسوٹ کے ساتھ ملک سے فرار ہورہے ہیں‘‘۔ ٹھاکرے کی زیرقیادت یہ علاقائی جماعت اگرچہ مرکز اور ریاست میں بی جے پی حکومت کی حلیف ہے لیکن مودی حکومت کی مختلف پالیسیوں پر ماضی میں بھی سخت تنقیدیں کرتی رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT