Thursday , December 13 2018

نیشنل کانفرنس تشکیل حکومت میں اہم رول ادا کرے گی : عمر عبداللہ

جموں ۔ 24 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر جموںو کشمیر عمر عبداﷲ جنھوں نے کل کی ناکامی کے بعد آج استعفیٰ پیش کردیا ہے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں حکومت کی تشکیل کیلئے اہم رول ادا کریں گے اور ان کی پارٹی کسی بھی جماعت کی تائید کرے گی ۔ جموں و کشمیر کے اسمبلی انتخابات کے نتائج میں معلق اسمبلی وجود میں آنے کے بعد عمر عبداﷲ نے ا

جموں ۔ 24 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر جموںو کشمیر عمر عبداﷲ جنھوں نے کل کی ناکامی کے بعد آج استعفیٰ پیش کردیا ہے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں حکومت کی تشکیل کیلئے اہم رول ادا کریں گے اور ان کی پارٹی کسی بھی جماعت کی تائید کرے گی ۔ جموں و کشمیر کے اسمبلی انتخابات کے نتائج میں معلق اسمبلی وجود میں آنے کے بعد عمر عبداﷲ نے احتیاط سے کام لینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی تشکیل کیلئے وہ بی جے پی اور پی ڈی پی دونوں میں سے کسی ایک کی حمایت کریں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کونسی پارٹی ان کے قریب ہوتی ہے اس لئے وہ انتظار کرو اور دیکھو پالیسی پر قائم ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ2012 ء میں نیشنل کانفرنس نے پہلے ہی دن 28 ارکان اسمبلی حاصل کرلئے تھے اس کے باوجود اس نے روز اول سے ہی حکومت تشکیل دینے سے گریز کیا تھا ۔

اب مفتی محمد سعید کیلئے بہت ہی آسانی ہوگئی ہے کہ وہ 16 ارکان اسمبلی کی حمایت سے حکومت تشکیل دے سکیں ۔ اس وقت میں کسی بھی موڈ میں نہیں ہوں کہ حکومت بنانے کیلئے دیگر پارٹیوں کیلئے آسانی پیدا کروں ۔ فی الحال میں انتظار کرو اور دیکھو پالیسی پر قائم ہوں ۔ کل کیا ہوگا یہ دیکھا جائے گا ۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کا فرض ہے کہ وہ حکومت تشکیل دینے میں پہل کریں ۔ اب دیکھتے ہیں کہ کل کیا ہوتا ہے ۔ عمر عبداللہ نے گورنر این این ووہرا کو استعفیٰ پیش کرنے کے بعد کہا کہ حکومت بنانے کیلئے جو پارٹی آگے آئے گی اس کی تائید کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ اس میں ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم کسی بھی پارٹی کو اقتدار سے روکنے کی کوشش کریں۔ جیسا کہ میں کل سے ہی کہتا آرہا ہوں کہ یہ نیشنل کانفرنس کا فریضہ نہیں ہے کہ وہ حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کرے ۔ اب اس کی ذمہ دار یہ ہے کہ وہ حکومت تشکیل دینے والی کسی بھی پارٹی کی تائید کرے ۔

عمر عبداﷲ نے اسی طرح کا اشارہ اپنے ٹوئیٹر پیام میں بھی دیا تھا اور کہا تھا کہ 2002 ء میں اتفاق سے مفتی محمد سعید صرف 16 ارکان اسمبلی کے ساتھ چیف منسٹر بن گئے تھے اور نیشنل کانفرنس کے پاس 28 ارکان اسمبلی ہونے کے باوجود اپوزیشن میں بیٹھ گئی تھی ۔ لہذا معذرت خواہی کے ساتھ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نیشنل کانفرنس موقع پرستانہ رول ادا نہیں کرے گی ۔ پی ڈی پی سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری ہے جس کو 28 نشستیں ملی ہیں اور 87 رکنی اسمبلی میں 44 نشستوں کے نشانہ کو حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ حکومت تشکیل دینے کیلئے 44ارکان کی حمایت حاصل ہونی ضروری ہے۔ بی جے پی کو 25 نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ نیشنل کانفرنس 15 اور کانگریس 12 نشستوں پر کامیاب رہی۔

TOPPOPULARRECENT