Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / نیشنل ہیرالڈ مقدمہ میں سونیا اور راہول گاندھی کو دھکا

نیشنل ہیرالڈ مقدمہ میں سونیا اور راہول گاندھی کو دھکا

کانگریس صدر و نائب صدر کو ٹرائیل عدالت میں حاضری کی ہدایت ۔ فیصلہ کو سپریم کورٹ میںچیلنج کیا جائیگا ۔ پارٹی
نئی دہلی ۔ 7 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس سونیا گاندھی اور ان کے فرزند راہول گاندھی کو آج اس وقت دھکا پہنچا جب دہلی ہائیکورٹ نے نیشنل ہیرالڈ مقدمہ میں جاری کردہ سمن کو چیلنج کی گئی درخواست مسترد کردی۔ اس سمن کے ذریعہ انہیں کل ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔ جسٹس سنیل گور نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ یہ درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔ ان دونوں نے ذیلی عدالت میں شخصی حاضری سے استثنیٰ کیلئے درخواست دی تھی۔ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے علاوہ اس مقدمہ کے دیگر 5 ملزمین میں سمن دوبے، موتی لال ووہرا، آسکر فرنانڈیز، سام پٹروڈا اور ینگ انڈیا لمیٹیڈ شامل ہیں۔ ان تمام کو کل ٹرائل کورٹ کے روبرو حاضری دینی ہوگی۔ عدالت نے سمن پر حکم التوا کے عبوری حکمنامہ کو توسیع دینے سے بھی انکار کیا ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ ہرین راول نے ملزمین کی طرف سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے جج سے یہ زبانی درخواست کی کہ 6 اگست 2014ء کو عبوری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سمن پر جو التوا عائد کیا گیا اس میں توسیع دی جائے لیکن جسٹس گور نے نفی میں جواب دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں اسوسی ایٹیڈ جرنلس لمیٹیڈکو بلاسودی قرض میں توسیع کی ضرورت کے تعلق سے استفسار کیا اور یہ جاننا چاہا کہ نیشنل ہیرالڈ کے پبلشرس اسوسی ایٹیڈ جرنلس لمیٹیڈ کو بلاسودی قرض میں توسیع کی آخر ضرورت کیا تھی؟ ٹرائل کورٹ نے گذشتہ سال 26 جون کو تمام ملزمین کو سمن جاری کرتے ہوئے 7 اگست 2014ء کو حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی۔ کانگریس قائدین نے اس کے بعد 30 جولائی 2014ء کو ہائیکورٹ سے رجوع ہوکر سمن پر حکم التواء حاصل کرلیا تھا۔ ہائیکورٹ نے گذشتہ سال 6 اگست کو سمن پر التوا جاری کیا اس کے بعد 15 ڈسمبر 2014ء کو ان درخواستوں کی قطعی یکسوئی تک سمن پر حکم التوا جاری کیا تھا۔ عدالت نے یہ سمن بی جے پی لیڈر سبرامنین سوامی کی فوجداری شکایت پر جاری کئے جس میں انہوں نے روزنامہ نیشنل ہیرالڈ کی ملکیت کے حصول کیلئے مبینہ طور پر فنڈس میں الٹ پھیر اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا ہے۔ اس دوران کانگریس نے عدالت کے اس فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریگی ۔ پارٹی نے کہا کہ اس فیصلے میںکئی قانونی نقائص ہیں۔ پارٹی ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے اس خیال کو مسترد کردیا کہ بی جے پی لیڈر سبرامنین سوامی کی جانب سے دائر کردہ اس مقدمہ میںعدالت کا یہ فیصلہ پارٹی کیلئے ایک دھکا ہے ۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مختلف کیس ہے ۔ اس میں کئی قانونی نقائص ہیں۔ ہمارے پاس ٹھوس مباحث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں نہ صرف چیلنج کرینگے بلکہ تمام قانونی راہ اختیار کرینگے ۔ پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجیوالا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ہیرالڈ کیس در اصل انتقامی سیاست ہے اور اسپانسر جھوٹ کو عدالتوں میں شکست دی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تیار کردہ مقدمات کے ذریعہ مودی حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں کی مخالفت کے عزم کو متاثر نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ یہ پارٹی کیلئے ایک دھکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی کے ایجنٹوں کی کارروائی ہے اور پارٹی عوامی آواز کی چمپئن بنی رہیگی ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مقدمات سے ہمارے عزائم کو روکا نہیں جاسکتا ۔ انہوں نے یقین کا اظہار کیا کہ اس مقدمہ میں بالآخر سچائی کی جیت ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT