Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / نیشنل ہیرالڈ کیس میں سونیا، راہول و دیگر کو 10 منٹ میں ضمانت

نیشنل ہیرالڈ کیس میں سونیا، راہول و دیگر کو 10 منٹ میں ضمانت

ملزمین کی ملک سے فراری سے متعلق سبرامنیم سوامی کے اندیشے مسترد ۔ گاندھی قائدین مشہور اشخاص اور گہری سیاسی جڑوں کے حامل ، جج کا ریمارک
نئی دہلی ، 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس سونیا گاندھی اور اُن کے فرزند راہول کو کافی گرما گرمی والے نیشنل ہیرالڈ کیس میں آج 10 منٹ کی سماعت کے بعد غیرمشروط ضمانت ایک مقامی عدالت نے عطا کردی، اور کہا کہ ان کے خلاف جن خطاؤں کے الزامات ہیں وہ اس مرحلے پر ’’سنگین نوعیت‘‘ کے نہیں ہیں اور ایسا اندیشہ نہیں کہ وہ فرار ہوجائیں گے۔ پارٹی کے ترک کردہ اخبار ’ہیرالڈ‘ ے شیئرس کی ایک نوتشکیل شدہ کمپنی کو منتقلی کے معاملے میں بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی دائر کردہ خانگی فوجداری شکایت کا سامنا کرنے والے دونوں گاندھی قائدین کثیر تعداد میں قائدین بشمول سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور پرینکا گاندھی کے ہمراہ دن میں 2.50 بجے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ لوولین کے روبرو حاضر ہوئے۔ پارٹی کی بڑی قانونی شخصیتوں کپل سبل، اشونی کمار دونوں سابق مرکزی وزراء، اور ابھیشک مانو سنگھوی کے ساتھ سرکردہ کانگریس قائدین جیسے غلام نبی آزاد، ملکارجن کھڑگے، اے کے انٹونی، شیلا ڈکشٹ، امبیکا سونی، احمد پٹیل اور میرا کمار بھی دستیاب تھے۔ جیسے ہی سماعت شروع ہوئی، سوامی نے گاندھی قائدین اور دیگر ملزمین کی داخل کردہ ضمانت عرضیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بااثر اشخاص ہیں اور اگر ضمانت عطا کی جائے تو اس ملک سے فرار ہوسکتے ہیں۔

تاہم عدالت نے کہا، ’’یہ ملزمین مشہور اشخاص اور گہری سیاسی جڑوں کے حامل ہیں اور ایسا اندیشہ نہیں کہ وہ فرار ہوجائیں گے۔‘‘ تب سوامی نے کہا کہ ایسی شرط عائد کرنا چاہئے کہ ملزمین کو عدالت کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں دینا چاہئے اور انھیں اپنے پاسپورٹس عدالت میں جمع کرا دینے چاہئیں۔ ’’کانگریس قدیم پارٹی،‘‘ جج نے فوری یہ جواب دیا اور پھر حکمنامہ تحریر کروایا۔ جج نے کہا، ’’اس مرحلے پر ثبوت کے بغیر الزامات سنگین نوعیت کے قرار نہیں دیئے جاسکتے۔ وہ سماج میں گہری جڑیں بھی رکھتے ہیں، اس لئے ملزمین کو ضمانت عطا کی جاسکتی ہے‘‘۔ سونیا، راہول اور تین دیگر ملزمین موتی لال وورا، آسکر فرنانڈیز اور سمن دوبے نے ضمانت چاہی، جو عطا کردی گئی جبکہ انھوں نے 50,000 روپئے کا شخصی مچلکہ اور فی کس ایک ضامن کو پیش کیا۔ ملزمین میںشامل سام پٹروڈا موجود نہیں تھے جبکہ اُن کی صحت نازساز بتائی گئی۔ ان کی شخصی حاضری سے استثنیٰ کیلئے عرضی کو قبول کرلیا گیا۔ سماعت کے دوران کپل، ابھیشک اور دیگر وکلاء جو ملزمین کی طرف سے حاضر ہوئے، انھوں نے استدلال پیش کیا کہ ایسا کوئی اندیشہ نہیں کہ اُن کے مؤکلین میں سے کوئی بھی ملک سے فرار ہوگا جبکہ وہ عدالت کے روبرو پہلی تاریخ پر ہی حاضر ہوگئے ہیں۔ مجسٹریٹ نے 20 فبروری اگلی تاریخ سماعت مقرر کی جس کے دوران انھیں شخصی حاضری کیلئے کہا گیا۔ عدالتی کارروائی چند منٹ میں پوری ہوگئی جس کے بعد گاندھی قائدین مسکراتے ہوئے باہر آئے۔ وہ وکلاء، صحافیوں، سکیورٹی والوں اور پارٹی ورکرز کے جم غفیر میں سے راستہ بناتے ہوئے اپنی کاروں تک پہنچے۔

TOPPOPULARRECENT