نیلوفر ہاسپٹل میں تیمار داروں کا کوئی پرسان حال نہیں

حیدرآباد۔ 27 نومبر (نمائندہ خصوصی) یوں تو ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کبھی بیمار نہ پڑے اور نہ ہی اسے ڈاکٹروں یا ہاسپٹلس کے چکر لگانے کا کوئی شوق ہوتا ہے لیکن کیا کیا جائے۔ انسانوں کے ساتھ بیماریاں تو لگی رہتی ہیں جن کے علاج کیلئے مختلف ہاسپٹلس موجود ہیں۔ شہر حیدرآباد کا ایک قدیم نیلوفر ہاسپٹل ہے جہاں بچوں کے علاج کیلئے خصوصی توجہ

حیدرآباد۔ 27 نومبر (نمائندہ خصوصی) یوں تو ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کبھی بیمار نہ پڑے اور نہ ہی اسے ڈاکٹروں یا ہاسپٹلس کے چکر لگانے کا کوئی شوق ہوتا ہے لیکن کیا کیا جائے۔ انسانوں کے ساتھ بیماریاں تو لگی رہتی ہیں جن کے علاج کیلئے مختلف ہاسپٹلس موجود ہیں۔ شہر حیدرآباد کا ایک قدیم نیلوفر ہاسپٹل ہے جہاں بچوں کے علاج کیلئے خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ بھلا ہو میڈیکل پروفیشن کا کہ جب سے علاج و معالجہ کو تجارت بنایا گیا ہے، اس وقت سے مریضوں کی جانب سے ڈاکٹروں نے بھی توجہ دینی چھوڑ دی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہاسپٹلس کی نرسیس اور دیگر اٹینڈرس مریض کی ہر طرح سے تیمار داری کیا کرتے تھے لیکن جب تیمار داری کا جذبہ آہستہ آہستہ ختم ہوگیا تو ہر مریض کی دیکھ بھال کیلئے اس کے کسی رشتہ دار کو بطور اٹینڈر ہاسپٹل میں رہنے کی اجازت دی جانے لگی لیکن اب عالم یہ ہے کہ مریض تو مریض اٹینڈرس کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔ نمائندہ خصوصی نے رات ایک بجے نیلوفر ہاسپٹل کا دورہ کیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سینکڑوں اٹینڈرس جو اپنے رشتہ داروں کے زیرعلاج رہنے کی وجہ سے وہاں رہنے پر مجبور ہیں، ان کے سونے کیلئے کوئی مناسب مقام نہیں ہے اور وہ کھلے آسمان کے نیچے شدید سردی میں صرف ایک بلانکٹ کے سہارے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں پر شب بسری کرنے والے افراد مقامی بھی ہیں اور اضلاع سے بھی ان کا تعلق ہے جن کے معصوم بچے ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں اور ان کی تیمار داری اور دلجوئی کیلئے انہیں بھی ہاسپٹل میں رہتے ہوئے صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ سونے انکے سروں پر کوئی سائبان نہیں تھا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011 میں بھی اس وقت کی حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئیں ۔ حکومتیں بدلتی گئیں لیکن ان اٹینڈرس کے حالات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ شدید سردی میں ٹھٹھرکر شب بسری کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ شبنم گرنے سے ان کی بلانکٹس بھی گیلی ہوجاتی ہیں۔ تلنگانہ کی حکومت نے نیلوفر ہاسپٹل کیلئے بجٹ میں 30 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس فنڈ کا استعمال کیسے اور کب ہوتاہے۔ جب نمائندہ نے مریضوں کے لواحقین میں موجود ایک خاتون سے بات کی تو اس نے بتایا کہ کھلے آسمان تلے شب بسری کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا رفع حاجت کیلئے مناسب مقام تلاش کرنا۔ وہاں موجود لوگ کھلے آسمان تلے ہی ضرورتوں کی تکمیل کررہے ہیں۔ رہی بات ناشتہ اور دیگر کھانوں کی تو وہ لوگ آس پاس موجود مختلف ٹھیلوں اور سستی ہوٹلوں سے اشیائے خوردنی خرید کر اپنی ضرورت پوری کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT