Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / نیند سے محرومی ، یادداشت کو کمزور کرنے یا یادداشت کھوجانے کا سبب

نیند سے محرومی ، یادداشت کو کمزور کرنے یا یادداشت کھوجانے کا سبب

رات دیر گئے جاگنے کے منفی اثرات ، امریکی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف
حیدرآباد۔ 26اگسٹ (سیاست نیوز) رات دیر گئے جاگنے اور سونے کے وقت کو ضائع کرنے والوں کے لئے امریکی تحقیق نے ایک بری خبر جاری کر دی ہے۔ دنیا بھر میں نیند سے محروم یا مختلف وجوہات کی بناء پر رات دیر گئے تک جاگنے کے عادی افراد کی بڑی تعداد موجود ہے۔نیند سے محرومی یا رات کے وقت جاگنے کے متعدد نقصانات منظر عام پر آچکے ہیں لیکن ان سب کے بعد اب ایک نئی تحقیق کے مطابق نیند سے محرومی یادداشت کو کمزور کرنے یا یادداشت کھو جانے کا سبب بن سکتی ہے۔ گارننجن انسٹیٹیوٹ بار ایوالیوشنری لائف سائنس کی جانب سے جاری کردہ تحقیق میں اس بات کا دعوی کیا گیا ہے کہ رات دیر گئے تک جاگنا اور نیند سے محرومی یادداشت کے خاتمہ کا سبب بن سکتی ہے۔ اسسٹنٹ پروفیسر مسٹر رابرٹ ہاؤکیس کے بموجب نیند کی کمی دماغ کے خلیوں کو متاثر کرتی ہے جس کے سبب قوت حافظہ کمزور ہو سکتا ہے۔ دماغی خلیوں کو بہتر ‘ صحتمند رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ انہیں نیند کے وقت مناسب آرام فراہم کیا جا ئے۔ تحقیق کے مطابق مسلسل جاگنا اور جاگتے رہنے کو عادت بنالینے سے انتہائی مضر اثرات سامنے آچکے ہیں اور ان میں سب سے اہم قوت حافظہ کا خاتمہ ہے۔ ای ۔ لائف جرنل میں شائع شدہ اس تحقیق کے مطابق ڈاکٹر رابرٹ نے بتایا کہ 5گھنٹے سے کم نیند انسان کو کمزور کر دیتی ہے اور اس کمزوری کے خاتمہ کیلئے کافی محنت کرنی پڑ سکتی ہے بسا اوقات ان حالات میں نیند سے محروم شخص پاگل پن پر اتر آتا ہے۔اس تحقیق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ رات کی نیند انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔شہر حیدرآباد میں رات دیر گئے تک جاگنے کے رواج کو ختم کیا جانا ضروری ہے کیونکہ اس رپورٹ کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ رات دیر گئے تک جاگنا صحت کے لئے ہر اعتبار سے نقصاندہ ثابت ہوتا ہے اور اس کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ نیند مکمل کی جائے۔ امریکی ادارے کی اس رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ رات کو دیر تک جاگنا معمول بن جانے کی صورت میں دماغی صحت میں جو بگاڑ پیدا ہوتا ہے اسے دور کرنا دشوار کن امر ہے اسی لئے اس بیماری سے بچنے کیلئے صرف احتیاط ممکن ہے جس کے ذریعہ انسان اپنی قوت حافظہ کی صلاحیت کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT