Wednesday , December 12 2018

نیند کیا ہے موت کی اک مثال

ہر جاندار کو ایک نہ ایک دن موت کا سامنا لازمی ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کاارشاد ہے ’’کُلّ ُنَفُسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ (عنکبوت۔۵۷) یعنی ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ لیکن ہر ایک کی موت یکساں نہیں ہوتی۔ لوگوں کی موت موت میں فرق ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک گنہگار اور اللہ تعالیٰ کے نافرمان کو موت کے وقت ہیبت ناک حالات سے سابقہ پڑتا ہے۔

ہر جاندار کو ایک نہ ایک دن موت کا سامنا لازمی ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کاارشاد ہے ’’کُلّ ُنَفُسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ (عنکبوت۔۵۷) یعنی ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ لیکن ہر ایک کی موت یکساں نہیں ہوتی۔ لوگوں کی موت موت میں فرق ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک گنہگار اور اللہ تعالیٰ کے نافرمان کو موت کے وقت ہیبت ناک حالات سے سابقہ پڑتا ہے۔ اس کے برعکس اللہ کے محبوب و مقبول بندوں کی روح بڑی راحت اور آسانی سے قبض کی جاتی ہے۔ یہی بات عارف رومیؒ اپنی مثنوی شریف میں یوں بیان فرماتے ہیں ؎
مرگِ ہر یک اے پسر ہمرنگِ اوست
پیشِ دشمن دشمن و بردوست دوست
اے عزیز ! ہر شخص کو موت آتی ہے تو اس کی ہمرنگ شکل میں آتی ہے۔ اگر وہ دوست (یعنی اللہ کا ولی) ہے تو موت بھی دوست کی شکل میں آتی ہے اور اگر وہ دشمن (یعنی کافر و نافرمان) ہے تو موت بھی دشمن بن کرسامنے آتی ہے۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ کسی محبوب کی روح قبض کرنے کے لئے حضرت عزرائیل علیہ السلام دیگر فرشتوں کے ساتھ نہایت نورانی شکل میں بڑے احترام و عزت کے ساتھ آتے ہیں برخلاف اس کے کافر و مشرک کی روح قبض کرتے وقت یہی فرشتے نہایت ڈرائونی اور خطرناک شکل و صورت میں آتے ہیں ؎

اولیا را چوں بوصل افتد نظر
داں کہ ایشاں را اجل باشد شکر
اولیاء اللہ چونکہ موت کو محبوب حقیقی کی ملاقات (یا دیدار) کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس لئے ان کیلئے موت شکر کی طرح شیریں ہوتی ہے ؎
جاں مجرّد گشتہ از غوغائے تن
می پرد باپر دلِ بے پائے تن
(مقبولِ خدا بندے کی) جان‘ نکلتے وقت جسم کے ظاہری و باطنی حواس کے ہنگاموں سے آزاد ہوکر دل کے پر کے ذریعے جسم کے پائوں بغیر حق تعالیٰ کی طرف پرواز کرتی (اُڑتی) ہے ؎
ہست مارا خواب و بیداریِ ما
برنشانِ مرگ و محشر دوگوا
ہمارا سونا اور بیدار ہونا یہ دونوں موت اور حشر پر گواہ ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انسان کی نیند ایک عارضی موت سے مشابہ ہے کہ نیند کی حالت میں وہ ہر چیز سے بے خبر مردہ کی طرح بن جاتا ہے اور سونے کے بعد ایک سویا ہوا شخص اور ایک مُردہ شخص دونوں یکساں ہوجاتے ہیں۔ اس لئے ارشاد نبوی ہے ’’اَلنَّوْمُ اَخُ الْمَوْتِ‘‘ یعنی نیند موت کا بھائی ہے۔ نیند ختم ہونے پر بیدار ہوجانا گویا حشر میں دوبارہ اٹھنے کا نمونہ ہے۔ اس طرح نیند اور بیداری سے عارضی طور پر موت اور حشر کا مشاہدہ ہوجاتا ہے ؎

شب زِ زنداں بے خبر زندانیاں
شب زِ دولت بے خبر سلطانیاں
رات کو سوجانے کے بعد قیدی قید خانے کے الم سے اور سلاطین اپنی دولت (و سلطنت) کے احساس سے بے خبر ہوجاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ نیند سے بیدار ہونے پر حضور سرورکائنات علیہ الصلاۃ والسلام یہ دعا پڑھا کرتے تھے ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَمَا اَمَاتَنَا وَ اِلَیْہِ النُّشُوْرِ‘‘ (حدیث) یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جس نے ہم کو مردہ کردینے کے بعدزندہ کردیااور اُسی کی طرف ہمارا (حساب کتاب کے لئے) جمع ہونا ہے۔ گویاآپ نے نیند و بیداری کو حشر و نشر کا مشاہدہ قرار دیا۔

درس بصیرت:
۱ حق تعالیٰ نے موت کے بعد آخرت میں ہونے والی باتوں کا نمونہ دنیاوی زندگی میں ہی رکھ دیا ہے۔
۲ مثلًا جب حشر قائم ہوگا تو جملہ مردہ جانوں کو زندہ فرمایا جائے گا۔ دنیا میں انسان کی نینداسی کا نمونہ ہے۔
۳ نیند کی حالت میں انسان دنیا و مافیھا سے بے خبر ہوجاتا ہے جو موت کے بعد قیامت تک کی حالت کا منظر ہے۔
۴ نیند کی حالت میں ایک قیدی ‘ قید کی تمام پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک حکمران پادشاہ بھی سونے کی حالت میں اپنی تمام ذمہ داریوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔
۵ نیند کے بعد بیدار ہوجانا گویا قیامت میں دنیا بھر کے مردہ جانوں کے زندہ ہوجانے کی مثال ہے۔
۶ چنانچہ سوکر بیدار ہونے پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جو دعا فرمایا کرتے تھے اس میں نیند کو موت اور بیداری کو حساب کتاب کے لئے زندہ کئے جاکر اللہ کے حضور جمع کئے جانے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
۷ لہٰذا ہم کو ہمیشہ نیک اعمال کرنے کی کوشش اور کل حشر میں ہونے والے حساب و کتاب کی فکر کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT