Tuesday , December 19 2017
Home / دنیا / نیوزی لینڈ میں مخلوط حکومت کا امکان ‘ دوپارٹیوں کا دعویٰ

نیوزی لینڈ میں مخلوط حکومت کا امکان ‘ دوپارٹیوں کا دعویٰ

آکلینڈ۔24ستمبر ( سید مجیب کی رپورٹ ) نیوزی لینڈ کے پارلیمانی انتخابات کیلئے رائے دہی کا کل ہفتہ 23ستمبر کو انعقاد عمل میں ۔ اب تک موصولہ اطلاعات کے بموجب 120رکنی پارلیمنٹ میں کسی بھی پارٹی کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہوسکی ۔ اس لئے امکان ہے کہ نیوزی لینڈ میں کسی اور پارٹی کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ اکثریتی پارٹی مخلوط حکومت تشکیل دے گی ۔ برسراقتدار پارٹی کو 58 ‘ اہم اپوزیشن لیبر پارٹی کو 45 ‘ نیوزی لینڈ فرسٹ پارٹی کو 9 ‘ گرین پارٹی کو 7 اور اے سی ٹی پارٹی کو 1نشست حاصل ہوئی ۔ جملہ 78.8فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ جب کہ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں 77.91 فیصد رائے دہی ہوئی تھی ۔ جس میں لیبرپارٹی کو 35.8 ‘ نیوزی لینڈ فرسٹ کو7.5 ‘ گرین پارٹی کو 5.9 ‘ اے سی ٹی پارٹی کو 0.5فیصد ووٹ حاصل ہوئے ۔ نیوزی لینڈ میں خصوصی ووٹ یعنی ملک سے باہر مقیم نیوزی لینڈ کے شہریوں کی تعداد 384000 ہیں جو جملہ ووٹوں کا 15فیصد ہوتے ہیں ۔ قطعی رائے شماری ان ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی ہوگی اور سرکاری انتخابی نتائج کا الیکشن کمیشن آف نیوزی لینڈ 7اکٹوبر 2بجے دن اعلان کرے گا ۔ تاہم برسراقتدار پارٹی کے موجودہ وزیراعظم بل انگلش اور اہم اپوزیشن لیبر پارٹی دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی حلیف جماعت کیساتھ مخلوط حکومت تشکیل دیں گے ۔ برسراقتدار پارٹی کی مستقل حلیف اے سی ٹی ہے جسے صرف ایک نشست حاصل ہوئی ہے ۔ اپوزیشن پارٹی لیبر کو 45نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ گرین پارٹی اس کی دیرینہ حلیف ہے جسے 7نشستیں حاصل ہوئی ہیں ۔دونوں پارٹیاں برسراقتدار اور لیبر نیوزی لینڈ فرسٹ پارٹی سے اتحاد کے امکانات کا دعویٰ کررہی ہیں ۔ہندوستانی نژاد امیدواروں میں سے کوئی بھی انتخابی کامیابی حاصل نہیں کرسکا تاہم موجودہ رکن پارلیمنٹ کمل جیت سنگھ بخشی اور پرم جیت پرماراور اپوزیشن کی پرینکا رادھا کرشنن کو یقین ہے کہ بیرون ملک مقیم رائے دہندوں کی رائے شماری کے بعد وہ کامیاب قرار پائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT