Saturday , September 22 2018
Home / دنیا / نیوزی لینڈ میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے خلاف احتجاج

نیوزی لینڈ میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے خلاف احتجاج

آکلینڈ۔10ڈسمبر (سید مجیب کی رپورٹ) ایک خبر رساں نٹ ورک کے مائیک گرین اور نیشنل ڈائرکٹر کی زبر قیادت صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اور امریکہ سفارت خانہ برائے اسرائیل تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلہ کے خلاف بطور احتجاج ایک پُرہجوم جلوس نکالا گیا جو بعد ازاں امریکی سفارت خانہ برائے نیوزی لینڈ کے روبرو جلسہ عام میں تبدیل ہوگیا ۔ جلوسی فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور یہودی نوآبادیات میں فلسطینی سرزمین پر اضافہ کی مذمت کرتے ہوئے نعروں پر مبنی بیانرس بھی اٹھائے ہوئے تھے ۔ جلسہ عام میں مقررین نے امریکی سفارت خانہ برائے نیوزی لینڈ کو بند کردینے کا مطالبہ بھی کیا ۔ اس جلوس میں 200 سفید فام افراد ‘ برقعہ پوش فلسطینی خواتین اور دیگر افراد پر مشتمل جلوس بالکل پُرامن رہا ۔جلوس میں نیوزی لینڈ کے شہری خالد بلوچ نے بھی شرکت کی ۔ مقررین نے فلسطینی مقبوضہ سرزمین پر قائم یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ‘ کیونکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد یروشلم پر اسرائیل کے قبضہ کے خلاف ہنوز موجود ہے اور بین الاقوامی برادری یروشلم کو فلسطین کا حصہ سمجھتی ہے ۔ جب کہ صدر اسرائیل کی جانب سے اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا ہی ایک حصہ سمجھتا ہے ۔ صدر امریکہ کے اس فیصلہ کے فوری بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 8رکن ممالک نے کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس اس اعلان سے پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر غوروخوص کیلئے طلب کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس ہنگامی اجلاس میں امریکہ کو یکا و تنہا کردیا گیا ۔ تمام رکن ممالک نے متفقہ طور پر امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کی ۔چنانچہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلہ سے اقوام متحدہ کی نہ صرف قرارداد بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT