Thursday , December 14 2017
Home / کھیل کی خبریں / نیوزی لینڈ کیخلاف پاکستانی بیٹسمینوں کا مظاہرہ کلید :آرتھر

نیوزی لینڈ کیخلاف پاکستانی بیٹسمینوں کا مظاہرہ کلید :آرتھر

نیلسن۔8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے امید ظاہر کی ہے کہ نیوزی لینڈ کی وکٹیں بھی انگلینڈ جیسی ہی ہوں گی اور دو ٹسٹ میچوں کی سیریز میں بہترین مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ٹسٹ میچ میں شکست کے بعد نیوزی لینڈ پہنچی ہے جہاں اسے متحدہ عرب امارات کی سست  وکٹوں سے یکسر مختلف سیمنگ وکٹوں کا چیلنج درپیش ہو گا۔نیوزی لینڈ پہنچنے کے بعد پاکستانی ٹیم  نیلسن میں نیوزی لینڈ اے کے خلاف جمعہ سے ہونے والے تین روزہ وارم اپ میچ کیلئے تیاریاں کر رہی ہے  اور مکی آرتھر کو امید ہے کہ انگلینڈ کی طرح پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔مکی آرتھر نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کی بہت اچھی کوچنگ کی گئی ہے اور وہ اپنی کوچنگ میں خصوصاً بہت اچھی ٹیم ہے لیکن ہماری تمام تر توجہ اسی چیز پر مرکوز ہے کہ اسی طرح ٹریننگ اور تیاری کریں جس طرح انگلینڈ میں کی تھی۔پاکستان نے دورہ انگلینڈ میں عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے ٹسٹ سیریز 2-2 سے برابر کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم تین ماہ قبل ہی انگلینڈ گئے تھے جہاں ہم نے مثبت کھیل پیش کیا اور میرے خیال میں نیوزی لینڈ کی وکٹیں انگلینڈ جیسی ہوں گی لیکن یہ حالات دبئی سے بہت مختلف ہوں گے۔مجھے انگلینڈ سے مختلف حالات کی امید نہیں اور کھلاڑی ایسی وکٹوں  میں کھیلنے کے عادی ہیں۔نیوزی لینڈ کو خطرناک ٹیم قرار دیتے ہوئے مکی آرتھر نے کہا کہ یہ ایک مشکل سیریز ہو گی اور میرے خیال میں نیوزی لینڈ کے عوام کو بہترین کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا۔پہلے ٹسٹ سے اسپنر مچل سینٹنر کے باہر ہونے کے باوجود پاکستان کے کوچ نے نیوزی لینڈ کے بولنگ شعبہ  کو تجربہ کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا سیم اٹیک بہت اچھا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ سیم بولنگ سے ہمارا امتحان لیا جائے گا لیکن ہمارے پاس بھی بہت اچھی سیم بولنگ موجود ہے۔اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان بیٹسمینوں کی کارکردگی اصل فرق ثابت ہو گی کہ کس ٹیم کے ابتدائی چھ بیٹسمینس بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں کیونکہ دونوں ہی ٹیموں کی اصل طاقت معیاری سیم اور سوئنگ بولنگ ہے۔دریں اثناء جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے آرتھر نے نیوزی لینڈ کی ہندوستان میں 3-0 سے شکست  پر کسی تعجب کا اظہار نہیں کیا اور کہا کہ میں نے آسٹریلیا کی ہندوستان میں کوچنگ کی اور ہمیں 4-0 سے شکست ہوئی تھی، وہ حالات برصغیر سے باہر کی ٹیموں کیلئے بہت مشکل ہوتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT